جلد کی خوبصورتی سے ہاضمے تک، ایلوویرا کھانے کے فوائد جانیے
ایلوویرا عام طور پر جلد پر لگانے والے جیل کے طور پر مشہور ہے، تاہم اسے مختلف طبی اور غذائی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی روایت بھی موجود ہے۔ اس پودے میں موجود بعض مرکبات کی اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی بیکٹیریل خصوصیات کے باعث اسے متعدد مصنوعات اور ادویات میں شامل کیا جاتا ہے۔
ایلوویرا میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جسم میں آکسیڈیٹو اسٹریس کو کم کرنے میں مدد کرسکتے ہیں اور یوں بعض بیماریوں کے خطرات سے بچاؤ میں معاون ہوسکتے ہیں۔ تاہم اسے ذیابیطس یا دل کی بیماری کا علاج سمجھنا درست نہیں۔
جلد کے لیے ایلوویرا کا استعمال زیادہ عام ہے۔ اس کا جیل جلد میں نمی برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے اور اسی وجہ سے اسے مہاسوں اور جلد کی خشکی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جلد پر اضافی تیل اور پانی کی کمی بعض افراد میں مہاسوں کے مسائل کو بڑھا سکتی ہے، اس لیے ایلوویرا جیل کا استعمال جلد کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
ایلوویرا کے غذائی استعمال کے حوالے سے قبض کا بھی ذکر کیا جاتا ہے۔ اس کے بعض اجزا آنتوں کی حرکت پر اثر انداز ہوسکتے ہیں، تاہم ایلوویرا کا زیادہ یا غیر مناسب استعمال پیٹ کے مسائل پیدا کرسکتا ہے، اس لیے اسے بطور علاج استعمال کرنے سے پہلے احتیاط ضروری ہے۔
بعض روایتی دعووں میں ایلوویرا کو جگر کی صحت، یرقان اور خون کی کمی کے لیے بھی مفید قرار دیا جاتا ہے، جبکہ کچھ ماہرین اس کے معدے سے متعلق ممکنہ فوائد کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تاہم خون کی کمی یا جگر کی بیماری جیسی طبی حالتوں میں صرف ایلوویرا پر انحصار نہیں کیا جاسکتا اور مناسب تشخیص و علاج ضروری ہے۔
خواتین کی صحت کے حوالے سے بھی ایلوویرا کے متعدد فوائد کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، جن میں ہارمونز کے توازن اور چھاتی کے کینسر سے متعلق دعوے بھی شامل ہیں۔ تاہم ان بیماریوں کے علاج یا روک تھام کے لیے ایلوویرا کے استعمال کو ثابت شدہ طبی طریقہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
سینے کی جلن کے حوالے سے 2015 کی ایک تحقیق کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے، جس میں ایلوویرا کے استعمال اور ایسڈ ریفلکس کی علامات میں ممکنہ بہتری کا جائزہ لیا گیا تھا۔ ایسڈ ریفلکس میں معدے کا تیزاب غذائی نالی کی طرف واپس آتا ہے، جس سے سینے میں جلن محسوس ہوسکتی ہے۔
ایلوویرا کو بالوں کی صحت کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے غذائی اجزا بالوں کی مجموعی صحت میں معاون ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ تاہم بالوں کے جھڑنے یا نشوونما کے مسائل کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں، اس لیے صرف ایلوویرا کو اس کا علاج نہیں سمجھنا چاہیے۔
ایلوویرا کھانے کے حوالے سے عام طور پر روزانہ تقریباً ایک انچ کے ٹکڑے سے حاصل ہونے والے جیل کی مقدار کا ذکر کیا جاتا ہے، لیکن کچا ایلوویرا ہر قسم کا کھانے کے لیے محفوظ نہیں ہوتا۔ پتے کی بیرونی تہہ میں موجود زرد مادہ، جسے ایلو لیٹیکس کہا جاتا ہے، مضر اثرات پیدا کرسکتا ہے۔ اس لیے خوراک کے طور پر استعمال سے پہلے مناسب طریقے سے تیار کیا ہوا، محفوظ اور قابلِ استعمال ایلوویرا ہی لینا چاہیے۔