سفاک شوہر؛ بیوی اور 3 بیٹیوں کا بہیمانہ قتل، والد کو چائے پلائی اور فرار
بھارت میں بیوی اور 3 بیٹیوں کا قتل، ملزم باپ کو چائے پلا کر فرار (فوٹو؛ بھارتی میڈیا)
بھارتی شہر جائپور میں ایک ایسا لرزہ خیز واقعہ پیش آیا جس نے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ایک گھر سے تین خواتین کی سر کچلی ہوئی لاشیں ملی تھیں۔ جس کی تفتیش کے دوران ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں۔
پولیس کو گھر کی پہلی منزل سے خاتون گیتا جھا کی لاش ملی جبکہ ان کی تین بیٹیوں 23 سالہ نندنی، 18 سالہ رادھیکا اور 14 سالہ بیٹی کی لاشیں گراؤنڈ فلور سے برآمد ہوئی تھیں۔
تفتیش کاروں نے بتایا کہ قاتل کوئی اور نہیں، گھر کا سربراہ ہے جس نے اپنی بیوی اور تین بیٹیوں کو سر اور چہرے پر پتھر مار کر قتل کیا جب وہ گہری نیند سو رہی تھیں۔
یہ حملہ اس قدر اچانک کیا گیا کہ متاثرین کو سنبھلنے یا مزاحمت کرنے کا موقع بھی نہیں ملا۔ جائے وقوع سے قتل میں استعمال ہونے والا پتھر بھی برآمد کرلیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کی اس ہولناک واردات کے بعد بھی سفاک قاتل مطمئن رہا اور اگلی صبح معمول کے مطابق جاگ کر اپنے والد کو چائے دی اور گھر سے نکل گیا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
پولیس اب اس بات کی بھی تحقیقات کررہی ہے کہ آیا ملزم کے والد کو اس وقت گھر میں موجود چار افراد کے قتل کا علم تھا یا نہیں۔
تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ راہول جھا شیئرز کی خرید و فروخت سے وابستہ تھا اور واقعے سے چند روز قبل ہی گجرات سے جائپور واپس آیا تھا۔
اس کی اہلیہ گیتا جھا گھر کی پہلی منزل پر بوتیک چلاتی تھیں جبکہ بڑی بیٹی نندنی تعلیم کے ساتھ نجی ملازمت بھی کرتی تھی۔
پولیس کے مطابق راہول نے قتل سے صرف تین روز قبل پڑوسی سے 25 ہزار بھارتی روپے ادھار بھی لیے تھے۔
اسی لیے تفتیش کار مالی دباؤ کو قتل کی ممکنہ وجہ کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں، تاہم گھریلو اختلاف سمیت دیگر پہلوؤں کی بھی چھان بین جاری ہے۔
چار افراد کے قتل کے بعد راہول جھا کے فرار ہونے سے پولیس نے اس کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر تلاش شروع کردی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے بعد ہی قتل کی اصل وجہ، واردات کی مکمل منصوبہ بندی اور واقعے سے پہلے اور بعد کے حالات واضح ہوسکیں گے۔
فی الحال پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کرکے شواہد اکٹھے کرنا شروع کردیئے ہیں جبکہ پوسٹ مارٹم اور فرانزک کارروائی بھی جاری ہے۔