گفتگو کے فنی تقاضے
دنیا میں کامیاب اور موثر زندگی کے لیے جو بنیادی مہارتیں درکار ہوتی ہیں ان میں سب سے اہم بات چیت اور گفتگو کی مہارت کو اولین حیثیت حاصل ہے۔ گفتگو ایک فن ہے جو انسان کو کامیابی سے ہم کنار کرنے میں معاون ہوتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اس فن سے آگاہی حاصل کی جائے۔
ہمارے یہاں ہر طبقے کے بیش تر افراد زمینی حقائق سے بے خبر، بے معنی اور بے جا گفتگو کرتے دکھائی دیتے ہیں جو ہمارے بے مقصد اور زوال پذیر ہونے کی علامت ہے۔ ایسے حالات میں یہ زیادہ ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم گفتگو کے فنی تقاضوں سے آگاہ ہوں۔
آئیے …اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ ایک اچھی گفتگو کے فنی تقاضے کیا ہیں۔
ماہرین کے مطابق انسان کے درمیان رابطے میں الفاظ کا کردار 7 فی صد ہوتا ہے باقی 38 فی صد آواز یا لہجہ اور پورے 55 فی صد جسمانی زبان یعنی بدن بولی سے ہوتا ہے جسے انگریزی میں باڈی لینگویج کا نام دیا جاتا ہے۔ ماہرین کی آرا کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک اچھی گفتگو کے لیے ضروری ہے کہ بدن بولی میں مہارت حاصل کی جائے۔
بدن بولی دراصل جسمانی اظہار کا ایک باقاعدہ فن ہے جس میں عمومی طور پر بہت کم لوگ روشناس ہوتے ہیں۔ بدن بولی کی یہ خوبی ہے کہ یہ فطری ہوتی ہے۔ یہ جسم کی خاموش زبان ہوتی ہے، ہم بیک وقت دونوں زبانیں استعمال کر رہے ہوتے ہیں ہمیں اس کا اندازہ نہیں ہوتا۔
جب ہم گفتگو کے لیے الفاظ کا سہارا لیتے ہیں تو سننے والے ہمارے لہجے اور انداز بیاں، الفاظ کے چناؤ اور اسلوب کے ساتھ ہماری جسمانی حرکات اور تاثرات سے بھی ہماری شخصیت کا جائزہ لے کر ہمارے بارے میں کوئی نہ کوئی رائے ضرور قائم کرتے ہیں۔ جسمانی یا بدن بولی کی اہمیت اس کی صلاحیت میں ہے۔ یہ غیر لفظی زبان وہ باتیں بیان کرتی ہے جو اکثر الفاظ نہیں کر پاتے۔ ماہرین کے مطابق مخاطب یا مدمقابل ہماری کہی گئی آدھی بات کو بدن بولی یعنی باڈی لینگویج کے ذریعے سمجھتے ہیں ،اس میں دو رائے نہیں کہ بدن بولی کسی بھی زبان میں زیادہ بامعنی، واضح اور دو ٹوک ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے انسان غیر محسوس طریقے سے دوسروں تک پیغام رسانی کا کام انجام دیتا ہے۔
باڈی لینگویج موجودہ دور میں ایک فن کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ فلمی دنیا بالخصوص فن اداکاری اس کو بنیادی اور اولین حیثیت حاصل ہے۔ اسی طرح بااختیار افراد کے لیے بھی باڈی لینگویج کا درست استعمال بے حد اہمیت کا حامل ہے۔ جو بااختیار افراد اس اہم پہلو کو نظرانداز کرتے ہیں وہ ناکامی سے دوچار رہتے ہیں۔ گفتگو کے فنی پہلوؤں میں انداز بیاں یا اسلوب کو بھی بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ گفتگو بامعنی، پراثر اور واضح ہونے کے ساتھ حقیقت پسندانہ، منطقی انداز اور اخلاص کے ساتھ ہونی چاہیے۔
الفاظ کا غلط چناؤ بعض اوقات غلط فہمی اور پریشان کن صورت حال پیدا کر دیتا ہے گفتگو میں تکرار سے بھی گریز ضروری ہے، اس سے گفتگو کا حسن ضایع ہو جاتا ہے۔ اپنی بات کے لیے مناسب اور عمدہ الفاظ استعمال کریں، یہ آپ اسی صورت میں کر سکتے ہیں جب آپ مطالعہ کا ذوق رکھتے ہوں۔
گفتگو کے فن میں آواز اور لہجے کو بھی اولین حیثیت حاصل ہے۔ اس کا انحصار مخاطب کے رویے، وقت اور معاملے کی نوعیت پر ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے گفتگو کا انداز بدلتا رہتا ہے۔ آواز کے اتار چڑھاؤ سے جملے کا مفہوم بدل جاتا ہے ،اس لیے آواز یا لہجے کو بالکل درمیانی ہونا چاہیے۔ آواز کو اونچا یا نیچا رکھنا یہ وقت کی مناسبت سے طے کیا جانا چاہیے۔
لہجہ صرف آواز نہیں ہوتا بلکہ یہ آپ کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ اس لیے اپنے لہجے کو فطری رکھیں۔ بناوٹی لہجہ بے اثر ہوتا ہے اس سے گریز ضروری ہے۔ فطری لہجہ نہ صرف پرکشش ہوتا ہے بلکہ پراثر بھی۔ یہ آپ کے وقار میں اضافہ کرتا ہے۔
کسی کا بھی انداز گفتگو اس کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے ،اس لیے گفتگو اعتماد کے ساتھ کی جانی چاہیے۔ خوداعتمادی کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ جو کچھ ذہن میں آئے اس کا اظہار کر دیا جائے بلکہ اپنی بات مناسب موقع، وقت اور معاملے کی نوعیت کو سامنے رکھ کر کی جانی چاہیے۔
بعض اوقات نامناسب وقت پر صحیح بات بھی انسان کو ناگوار گزرتی ہے اس لیے کچھ باتیں بروقت اور کچھ باتیں موقع کی مناسبت سے کی جانی چاہئیں۔ آپ کی گفتگو میں اعتماد ہوگا تو آپ کی باتیں موثر انداز میں سنی جائیں گی۔ گفتگو میں صرف اچھا بولنے کی مہارت شامل نہیں ہے اس میں سننے، سمجھنے اور ردعمل دینے کی مہارت بھی شامل ہے۔ بااعتماد اور موثر گفتگو نہ صرف اختلافات کو حل کرنے میں مدد دیتی ہے بلکہ ذاتی تعلقات بھی بہتر بناتی ہے۔
گفتگو میں بعض اوقات ہمارے جذبات اور احساسات بھی شامل ہو جاتے ہیں، جو لوگ اپنے جذبات پر کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ حالات سے مطابقت پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ گفتگو میں اپنے جذبات اور احساسات کے ساتھ دوسروں کے جذبات اور احساسات کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ منفی سوچ سے گریز کیا جائے۔ منفی سوچ الفاظ کے روپ میں جب ہمارے سامنے آتی ہے تو اس میں ایسی تاثیر ہوتی ہے جو تنازعات کو جنم دیتی ہے۔ انداز گفتگو موقع کی مناسبت سے ہونا چاہیے۔
گفتگو کے فنی اصولوں میں یہ بات بھی شامل ہے کہ گفتگو مخاطب کی ذہنی سطح کو سامنے رکھ کر کی جائے۔ کسی انسان کی ذہنی سطح پر جا کر اس سے گفتگو کرنا ایک بڑا فن ہے، یہ ہر ایک کے بس کا روگ نہیں کیونکہ اکثریت زمینی حقائق سے بے خبر لگی بندھی سوچ کے تحت زندگی بسر کرتی ہے۔ بہت کم لوگ اپنی ذہنی سطح کو بلند کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ مخاطب کی ذہنی سطح کو سامنے رکھ کر گفتگو کی جائے اسی صورت میں ہی ابلاغ ممکن ہو سکے گا۔ گفتگو کے وقت مدمقابل کے رتبے، عہدے اور سماجی حیثیت کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ اسی صورت میں ہی گفتگو نتیجہ خیز ہو سکے گی۔
بہت سے لوگ مختلف نظریات کے حامل ہوتے ہی۔ کسی کا ادب سے لگاؤ ہوتا ہے تو کسی کا مذہب سے، کسی کا سیاست سے لگاؤ ہوتا ہے تو کسی کا معیشت سے۔ معاشرے میں علیحدہ علیحدہ سوچ کے حامل لوگ ہوتے ہیں۔ گفتگو ان کے مزاج کو سامنے رکھ کر کی جانی چاہیے۔ الغرض آپ کی گفتگو واضح، مختصر اور بامقصد ہونی چاہیے۔
اگر آپ اچھی گفتگو کرنا چاہتے ہیں تو بقول ایک ادیب ’’آپ اچھی گفتگو کرنے والوں کی گفتگو لازمی سنیں۔‘‘ اچھی گفتگو کے لیے ضروری ہے کہ آپ کو ایک اچھا سامع بننا ہوگا۔ یعنی بولنے اور سننے میں توازن ضروری ہے، اس میں سننے کی مہارت سب سے زیادہ اہم ہے۔
یاد رکھیں گفتگو صرف ابلاغ کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ تہذیب، تربیت، کردار اور شعور کا آئینہ دار ہوتی ہے۔ ایک مہذب معاشرہ اپنی گفتگو سے پہچانا جاتا ہے، اس لیے اس فن پر عبور حاصل کرنا ضروری ہے۔