غذائی برآمدات
پاکستان کی غذائی برآمدات کی کہانی کا سب سے سحر انگیز باب چاول کی برآمد ہے۔ گزشتہ مالی سال کے دوران 2 ارب 29 کروڑ 16 لاکھ 49 ہزار ڈالرز کی برآمد ہوئی تھی، اگر مجموعی سالانہ کارکردگی اور عالمی منڈیوں کا جائزہ لیا جائے تو پاکستانی باسمتی اور نان باسمتی چاول کے برآمد کنندگان کو سخت چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی نے پاکستانی چاول کی بحری ترسیل کو بہت بری طرح متاثر کیا ہے۔
اگرچہ حکومت نے ایران کے راستے وسطی ایشیا کے لیے متبادل زمینی راستے بھی کھولے ہیں لیکن بحری راستوں کے مقابلے میں زمینی راستوں کا کرایہ اور خطرات بہت زیادہ ہیں۔ ملکی سطح پر گڈز ٹرانسپورٹ کی اچانک ہڑتالیں اور بندرگاہوں تک رسائی میں رکاوٹیں کروڑوں ڈالر کے سودوں کو منسوخ کروا دیتی ہیں۔ گزشتہ سال پنجاب کے مختلف علاقوں میں شدید سیلاب کے باعث چاول کی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔ اب سعودی عرب سے معاہدے کے نتیجے میں چاول کی برآمدات پر یقینی طور پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
چاول کی برآمدات کی ایک تاریخ ہے انگریزوں نے کراچی بندرگاہ کی تعمیر اس لیے کی تھی کہ بحیرہ عرب کے راستے سے گندم، کپاس، چاول اور دیگر زرعی اشیا کو باآسانی برطانیہ پہنچایا جائے۔ ہمارے یہاں کے خوشبودار باسمتی چاول کی اپنی ایک سحر انگیز پہچان اور لازوال تاریخ ہے جس کی مہک سرحدوں کی قید سے ہمیشہ آزاد رہی ہے۔
زمانہ بدلا انگریز حاکم بدل گئے ،مگر اس مٹی کے ذائقے کا جادو نہ بدل سکا۔ اسی لیے آج بھی یورپ اور امریکا کے جدید ترین بازاروں میں اس روایتی چاول کا سکہ چلتا ہے۔ یورپی ہوں، امریکی ہوں یا عربی سب ہی اس چاول کے رسیا ہیں۔ یہ باسمتی چاول محض ایک تجارتی جنس نہیں بلکہ دنیا کے دسترخوان پر پاکستان کی ضیافت اور زرخیز دھرتی کی جفاکشی کا سب سے خوشبودار سفیر ہے۔ جولائی 26 میں تقریباً 20 کروڑ ڈالر کے چاول برآمد کیے گئے۔ کم برآمد کی وجہ بحری راستوں کی رکاوٹیں ہیں۔
جب پنجاب کی مٹی سے ابھرنے والا لمبے سفید اور خوشبودار دانوں کی مٹھی بھرتے ہیں تو ہاتھ خوشبو سے بھر جاتا ہے اور جب یہ خوشبو ہنڈیا میں پکتی ہے تو پورے محلے کو پتا چل جاتا ہے اور پھر جب اس کی مہک سرحدوں کی قید سے آزاد ہو کر خلیجی ممالک، یورپ اور امریکا کے بازاروں کو مہکاتی ہے تو یہاں پر ایک سوچ فکر اور دھیان کی بھی ضرورت ہے کہ کب تک ہم چاول کو محض ایک ’’خام جنس‘‘ کے طور پر برآمد کرتے رہیں گے اور ہم عالمی خریداروں کے رحم و کرم پر ہوں گے۔ چاول کے تاجروں کو اب روایتی بوریوں سے نکل کر برانڈنگ اور دیگر صورتوں میں متعارف کرانا ہوگا۔ جب کہیں جا کر ہر دانے کی وہ قیمت ہمیں ملے گی جس کا حق دار کسان ہے۔
پاکستان کی فوڈ گروپ کی برآمدات ماہ جولائی میں 43 کروڑ 70 لاکھ 78 ہزار ڈالرز کی رہیں جس میں پاکستان کے چراگاہوں اور لائیو اسٹاک سیکٹر نے اچھی کارکردگی دکھائی۔ گزشتہ مالی سال گوشت اور اس سے متعلقہ اشیا کی برآمد سے 53 کروڑ ڈھائی لاکھ ڈالرز کی آمدن ہوئی۔ حلال گوشت کی عالمی منڈی اربوں ڈالر پر محیط ہے، لیکن گوشت کی برآمد میں اضافہ ملک میں گوشت کی قیمت میں اضافے کا باعث قطعاً نہیں بننا چاہیے۔ اب آپ بکرے کے گوشت کو لے لیں جس کی قیمت 3 ہزار روپے فی کلو سے زائد ہو چکی ہے۔ گوشت بڑی مقدار میں برآمد کریں لیکن ملک میں گوشت کی پیداوار حلال جانوروں کی افزائش نسل پر پوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کو حلال گوشت کے معاملے میں مسلم ممالک کا بھرپور اعتماد حاصل ہے کیونکہ تمام دنیا کے مسلم تاجر بخوبی آگاہ ہیں کہ پاکستان میں حلال گوشت کے حصول کے لیے کسی بھی جانور کی قربانی کلمہ طیبہ پڑھے بغیر تسمیہ پڑھے بغیر چھری نہیں چلائی جاتی۔ اس لیے وہ آنکھ بند کرکے پیکنگ پر پاکستان کا نام دیکھتے ہیں اور ادائیگی کے لیے فوراً جیب میں ہاتھ ڈال دیتے ہیں۔ پھر پاکستان میں افزائش نسل کے لیے تمام جدید ٹیکنالوجی کو نہیں اپنایا جا رہا ہے جس سے زیادہ تعداد میں جانور بھی حاصل نہیں ہو رہے۔
اس کے علاوہ مچھلی کی برآمد اور تمباکو کی برآمد سے بھی زرمبادلہ کمایا جا رہا ہے لیکن تمباکو کی پیداوار اور کسانوں کو ملنے والی قیمت کے بارے میں کچھ مسائل پیش آ رہے ہیں اور اصل بات یہ ہے کہ تمباکو کی کاشت کرنے والے کسان اس بات سے پریشان ہیں کہ مافیاز والے یا وچولے وغیرہ ان سے سستے داموں تمباکو خرید رہے ہیں جس سے ان کو نقصان ہو رہا ہے ان کی صرف اتنی شکایت ہے کہ تمباکو مافیاز ہماری مالی مجبوریوں سے فائدہ نہ اٹھائے اور ہمیں ہماری فصل کا صحیح معاوضہ ادا کیا جائے۔ متعلقہ ضلعوں کے ڈپٹی کمشنر اس بات کی طرف توجہ دیں اور کسانوں کی مدد اور معاونت کے لیے اقدامات اٹھائیں۔ اس طرح کاشت کار بددل ہو کر آئندہ برس تمباکو کی کاشت سے دست بردار ہو گئے تو زرمبادلہ کمانے کا ایک اہم ذریعہ کھو دیں گے۔