رات کو ناشتہ اور دن میں نیند، 106 سالہ شخص کا انوکھا طرزِ زندگی
چین سے تعلق رکھنے والے 106 سالہ وانگ ڈیانگو اپنی غیر معمولی روزمرہ زندگی اور 80 سالہ شادی کی وجہ سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔
چین کے صوبے ژجیانگ کے علاقے روئی آن سے تعلق رکھنے والے وانگ عمر کی اس حد تک پہنچنے کے باوجود اپنے بیشتر کام خود کرتے ہیں اور کسی پر انحصار کرنا پسند نہیں کرتے۔
ان کا روزمرہ معمول بھی عام لوگوں سے بالکل مختلف ہے۔ وانگ شام 4 یا 5 بجے سونے چلے جاتے ہیں اور رات تقریباً ایک بجے بیدار ہوتے ہیں، جبکہ ان کا ناشتہ رات 3 بجے ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ چہل قدمی کے لیے نکل جاتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے بیٹے نے بھی والد کے اس غیر معمولی معمول کو اپنا لیا ہے اور روزانہ بہت سویرے اٹھ کر ان کے لیے ناشتہ تیار کرتا ہے۔
وانگ صرف اپنی نیند اور کھانے کے اوقات ہی کی وجہ سے منفرد نہیں بلکہ وہ کپڑے دھونے، نہانے اور سلائی جیسے کام بھی خود انجام دیتے ہیں۔
ان کی خوراک بھی سادہ ہے اور وہ زیادہ تر سی فوڈ کھانا پسند کرتے ہیں۔
جب وانگ سے ان کی لمبی عمر کا راز پوچھا گیا تو انہوں نے مثبت سوچ، مضبوط خاندانی روایات، کام کرنے اور نئی چیزیں سیکھنے کے شوق کو اس کا سبب قرار دیا۔
اگرچہ وانگ نے صرف چار سال تک رسمی تعلیم حاصل کی، تاہم علم حاصل کرنے کا شوق ان کے ساتھ رہا۔ کم عمری میں انہیں گاؤں کا کیشیئر مقرر کیا گیا، جہاں لوگوں کو دیکھتے اور ان سے سیکھتے ہوئے انہوں نے کھانا پکانے سمیت کئی کاموں میں مہارت حاصل کی۔
80 سالہ شادی بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز
وانگ ڈیانگو اور ان کی اہلیہ ہونگ ایلیان کی شادی تقریباً 80 سال تک قائم رہی۔ ان کا ایک بیٹا ہے اور اب ان کے گھر میں خاندان کی چار نسلیں ایک ساتھ رہتی ہیں۔
مقامی افراد اس جوڑے کو مثالی میاں بیوی سمجھتے تھے۔ یہاں تک کہ جب خاندانوں میں جھگڑے ہوتے تو لوگ معاملات سلجھانے کے لیے وانگ اور ان کی اہلیہ سے رہنمائی لیتے تھے۔
وانگ کے بیٹے کے مطابق ان کی والدہ جلد غصے میں آجاتی تھیں جبکہ والد انتہائی نرم مزاج اور پرسکون طبیعت کے مالک تھے۔
بیٹے نے بتایا کہ جب کبھی والدہ غصے میں ہوتیں تو وانگ بحث کرنے کے بجائے خاموشی سے انہیں پانی کا گلاس دیتے۔ یہ طریقہ اکثر کام کر جاتا اور ان کی والدہ کا غصہ ٹھنڈا ہوجاتا تھا۔
تاہم اہلیہ ہونگ ایلیان کے انتقال کے بعد وانگ کے لیے زندگی آسان نہیں رہی۔ وہ لوگوں سے الگ تھلگ ہو گئے اور انہیں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بیٹے کی مدد سے انہوں نے دوبارہ معمول کی زندگی کی جانب قدم بڑھایا۔