حکومت سندھ کا یکم جنوری سے ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے روز ہی پنشن ادائیگی کا فیصلہ
فوٹو: فائل
حکومت سندھ نے یکم جنوری 2027 سے ریٹائر ہونے والے ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے روز ہی پنشن کی ادائیگی کا فیصلہ کرلیا۔
چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت پنشن اور میڈیکل ری ایمبرسمنٹ سے متعلق اہم اجلاس ہوا، جس میں اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ، سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری سروسز، سیکریٹری صحت، سیکریٹری جنرل ایڈمنسٹریشن شریک ہوئے اور یکم جنوری 2027 سے ریٹائر ہونے والے ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے روز ہی پنشن کی ادائیگی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔
چیف سیکریٹری سندھ نے کہا کہ سرکاری ملازم کو ملازمت کے آخری روز پنشن اور بنیادی مالی واجبات ملنے چاہئیں، تمام صوبائی محکمے زیر التوا پنشن بل تین ماہ میں کلیئر کریں، پنشن کے حصول کے لیے ریٹائرڈ ملازمین کو دفاتر کے چکر نہیں لگانے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ پنشن کی بروقت ادائیگی کے لیے مربوط نظام تشکیل دیا جائے۔
اجلاس میں سیکریٹری سروسز کی سربراہی میں بین المحکماتی ٹاسک فورس قائم کرنے کی ہدایت کی گئی، جس میں اے جی سندھ، خزانہ، صحت، جنرل ایڈمنسٹریشن اور دیگر متعلقہ محکمے شامل ہوں گے۔
چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے کہا کہ پنشن کی بروقت ادائیگی کے لیے ضرورت کے مطابق قواعد میں ترامیم بھی تجویز کی جائیں اور پنشن کی ادائیگی کا حتمی عملی فریم ورک ایک ہفتے میں پیش کیا جائے۔
اجلاس میں سرکاری ملازمین کے میڈیکل ری ایمبرسمنٹ کلیمز میں تاخیر کا بھی جائزہ لیا گیا اور نامکمل دستاویزات، ای ویری فکیشن اور این اے سی کے اجرا میں تاخیر کی نشان دہی کی گئی۔
چیف سیکریٹری سندھ کا کہنا تھا کہ میڈیکل کلیمز میں تاخیر پالیسی یا فنڈز نہیں بلکہ انتظامی رکاوٹوں کا مسئلہ ہے لہٰذا میڈیکل ری ایمبرسمنٹ میں غیر ضروری کاغذی کارروائی ختم کی جائے اور سیکریٹری جنرل ایڈمنسٹریشن کو میڈیکل ری ایمبرسمنٹ کے طریقہ کار کا مشترکہ جائزہ لینے کی ہدایت بھی کی۔
ان کا کہنا تھا کہ اے جی سندھ، خزانہ، سروسز اور دیگر محکمے میڈیکل کلیمز کا طریقہ کار آسان بنائیں، سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے لیے میڈیکل کلیمز کا نظام آسان اور تیز بنایا جائے اور ملازمین کو پنشن اور میڈیکل واجبات کے لیے غیر ضروری دفتری مشکلات کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔