ایسی آزادی اور کہاں؟
ایسی آزادی اور کہاں؟ یہ فقرہ عام طور پر مختلف بحرانوں سے دوچار ملکی حالات و واقعات اور بے ہنگم معاشرتی نظام پر طنز کے طور پر بولا جاتا ہے، جہاں ظاہری آزادی تو موجود ہے لیکن عام انسان بنیادی حقوق، انصاف اور مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی مجموعی لحاظ سے عوام کے طور طریقے بھی کسی المیے سے کم نہیں ہیں۔ جنھیں وہ مدر پدر آزادیاں حاصل ہیں جو کسی دوسرے ممالک کے شہریوں کو حاصل نہیں ہیں۔
آیے، اس ضمن میں طائرانہ جائزہ لیتے ہیں کہ ایسی آزادی اور کہاں ہے؟ جو ہم پاکستانیوں کو میسر ہے۔ گوروں سے ہم نے جغرافیائی آزادی حاصل کر لی اور اس کے بنائے گئے مکمل نظام کو فخریہ طور پر اپنا لیا اور ماتھے پر بیک وقت دو متضاد نظام۔ اسلام اور جمہوریت کی عبارت کو آپس میں جوڑ کر سجا لیا۔
یعنی آدھا تیتر، آدھا بٹیر۔ نتیجتاً نہ اسلامی رہے اور نہ جمہوری۔ نہ ادھر کے رہے اور نہ ادھر کے۔ بیچ میں لٹک گئے، نہ آگے بڑھ سکیں اور نہ پیچھے ہٹ سکیں۔ درمیان میں ساکت ہوگئے۔جن مقاصد کے تحت ہمارا پیارا وطن پاکستان معرض وجود میں لایا گیا، ان مقاصد کو پس پشت ڈال دیا گیا، جن اسلاف نے قربانیاں دیں انھیں کنارے لگا دیا گیا، راستے سے ہٹا دیے گئے اور ملک پر اس طبقے کا قبضہ ہوگیا جو گوروں کے نور نظر تھے۔
آج تک انھی لوگوں کی نسلیں ہم پر حکمرانی کرتی چلی آرہی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ غلامی کے طور طریقے بدلتے رہے ہیں۔ اب نہ گلے میں طوق ہے اور نہ ہاتھوں میں زنجیریں اور نہ ہی پیروں میں بیڑیاں ہیں، مگر پھر بھی ہماری حالت غلاموں سی ہے۔
ہمیں معاشی طور پر جدید غلام بنا دیا گیا ہے۔ ہم اپنے قومی فیصلے بھی خود نہیں کرسکتے۔ کچھ ڈالروں کے عوض ہمیں جو کچھ کہا جاتا ہے، ہم ان شرائط پر عمل درآمد کرنے والے مقروض غلام ہیں۔ عوام کی خوشنودی کی بجائے حکمرانوں کو آئی ایم ایف کی خوشیاں عزیز تر ہیں۔
عوام جائیں بھاڑ میں۔ جدی پشتی حکمران خاندان ترقی کرتے رہے۔ مظلوم کچلے ہوئے غریب عوام پستی رہی۔ اشرافیہ طبقے کی آزادیاں لا محدود ہیں۔ پھر بھی ان کے لیے ملکی خزانہ خالی ہے، اسی طرح عوام کو بھی وہ مدر پدر آزادیاں ملی ہوئی ہیں جو دنیا کے کسی اور ملک کے عوام الناس کو میسر نہیں ہیں۔
ان آزادیوں کی فہرست طویل ہے، جگہ کی تنگی کی وجہ سے اختصار سے کچھ آزادیوں کا ذکر کرتے ہیں۔ پاکستانی شہری بلا روک ٹوک جہاں چاہیں آ جاسکتے ہیں، کچھ بھی یہاں سے وہاں تک وہاں سے یہاں تک لا آسکتے ہیں، لے جاسکتے ہیں، بس راستے میں کسی ٹول ٹکس کے رکھے ڈبے میں نذرانہ ڈالنا پڑتا ہے۔
کسی اور ملک کے باشندوں کو ایسی شاندار سہولت حاصل نہیں ہے۔ کاروبار جو چاہو کرلو ایک نمبری یا دو نمبری کوئی پابندی نہیں، جس چیز کی چاہو ذخیرہ اندوزی کر لو، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ناجائز مفادات حاصل کرنے کے لیے جو چاہو ناجائز ذرائع اپنا لو، کوئی روکنے والا نہیں۔
جتنی مرضی ہے مہنگائی کرلو، کوئی آواز بلند کرنے والا نہیں۔ بے روزگاروں کو سبز باغ دکھا کر ان کے ارمانوں کا خون کرلو، کوئی قتل عمد کا ایف آئی آر کاٹنے والا نہیں۔ مظلوم غریبوں پر ستم ڈھا لو کوئی روکنے والا نہیں۔
دھوکا دہی کرکے لوگوں کی جمع پونجی لوٹ لو، جیبوں پر ڈاکے ڈالو، کوئی نہیں پوچھنے والا۔عوام کو نفسیاتی بناؤ، جعلی عامل بن کر خاندان کے خاندان تباہ برباد کرلو، محبوب کو قدموں میں لادو، بوڑھے کو جوان کردو، دیواروں کو سیاہ کرلو، کوئی پوچھنے والا نہیں۔
چمچہ گیری کرکے ترقی کرلو۔ کسی کا حق مار کر مفادات حاصل کرلو۔ کوئی کچھ نہیں کیے گا۔ مسیحا بن کر مریضوں کو لوٹو۔ قبروں کے دام بڑھاتے رہو۔ صحت کے نام پر لوگوں کو زہر کھلاتے رہو۔ صاف پانی کی آڑ میں لوگوں کے گردے خراب کرتے رہو۔
یہاں کوئی پوچھنے والا نہیں۔معیاری تعلیم کے نام پر معصوم بچے و بچیوں کی کمزور کمر پر بھاری بھرکم بستہ لادتے رہو، ان کے والدین کو مختلف بہانوں سے لوٹتے رہو۔ کوئی آنکھ اٹھا کر دیکھنے والا نہیں۔ جہاں چاہو کچرا پھیلاؤ، راہ چلتے ہو تھوکتے رہو۔
فٹ پاتھ پر قبضے کرتے رہو۔ گندے نالوں پر گھر بنا کر اس کی آڑ میں اور زمینیں قبضے میں لیتے رہو۔ یہاں کوئی کسی کو پوچھنے والا نہیں۔ سیاسی و فرقہ بندی اور لسانیت کے نام پر بھائیوں کو آپس میں دست و گریبان کرتے رہو، قوم کو مختلف خانوں میں تقسیم کرتے رہو، یہاں کوئی کسی کو پوچھنے والا نہیں۔
سستے پلاٹ کے نام پر لوگوں سے رقم بٹورتے رہو۔ کم تو لو، تول میں بٹے کی بجا پتھر رکھ لو۔ گلی سڑی پھل فروٹ اور سبزیوں کی قیمتیں بھی اول درجہ کی قیمت مانگتے رہو۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ کرتے رہو، کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔
فقیر لاچار بن کر لوگوں کو بیوقوف بنا کر دہاڑی بناتے رہو۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔محلے یا بازاروں میں لڑائی جھگڑے کرتے رہو۔ ایک دوسرے کے گریبان چاک کرتے رہو۔ گالی گلوچ کرتے رہو، ہوائی فائرنگ کرتے رہو۔
لوگوں کو زخمی کرتے رہو۔ قتل و غارت گری کے بازار گرم کرتے رہو۔ ڈکیتیاں کرتے رہو، چوری چکاری کرتے رہو۔ منشیات پھیلا کر خاندانوں کو تباہ کرتے رہو۔ لوگوں کی عزتیں پامال کرتے رہو۔ جنسی زیادتیاں کرتے رہو۔ بد کاریاں پھیلاتے رہو۔ رشوت کے بغیر کسی کا کام مت کیا کرو۔ جی بھر کر کرپشن کرلیا کرو۔
ٹریفک کی خلاف ورزیاں کرتے رہو۔ گاڑی چلاتے ہوئے راہ گیروں کو کچلتے رہو۔ اپنی اوقات سے بڑھ کر معیار زندگی بلند کرتے رہو۔ تمہیں یہاں کوئی پوچھنے والا مائی کا لال پیدا ہی نہیں ہوا ہے۔ اتنی کھلم کھلا ٹھنڈی ہوا کے جھونکے میں کسی اور ملک کے باشندوں کو اتنی آزادیاں حاصل نہیں ہیں، جتنی آزادیاں ہم پاکستانی شہریوں کو حاصل ہیں۔
کیا یہ سب کچھ کرنے کے واسطے قائداعظم محمد علی جناح نے انگریز سامراج سے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے الگ وطن کا تقاضا کیا تھا؟ ہرگز ہرگز نہیں۔قائد اعظم تو مساوات پر مبنی آزاد ملک کی آزاد زمین چاہتے تھے، ایک ایسا ملک جس کا آئین قرآن شریف کو قرار دیا تھا۔
ہمیں اپنا گریبان جھانکنا ہوگا قائد اعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے اور ہم نے پاکستان کو کیا بنا دیا۔ ایسے میں ناقدین پاکستانی شہری جن کی تعداد محدود ہے، کہتے ہیں کہ قائداعظم نے برصغیر کو تقسیم کر کے پاکستان بنا کر اچھا نہیں کیا۔
مخصوص مشنری دانشوروں نے برصغیر کی تاریخ کو مسخ کرتے ہو بہت سی کتابیں مرتب کی ہیں، جنھیں کم فہم قاری پڑھ کر معاشرے میں پھیلاتے رہے ہیں، لوگ گمراہ ہوتے رہے ہیں۔ کسی نے ایسی کتابوں پر پابندی عائد نہیں کی ہے۔
مگر حق و سچ لکھنے والے دانشوروں نے تاریخی دستاویزات کی نقول کے ساتھ پروپیگنڈے پر مبنی ایسی کتابوں کے جواب میں کتابیں لکھی ہیں، جنھیں پڑھ کر لوگوں کے بند ذہنوں کی کھڑکیاں کھل جاتی ہیں۔ یہی وہ ناقدین کا طبقہ ہے جو ہر قومی تہوار کے ایام کے مواقعے پر زہر اگلتے رہے ہیں کہ پاکستان نے کیا دیا ہے؟
پاکستان نے تو سب کچھ دیا ہے۔ اب تم ہی بتاؤ، تم نے اپنے وطن کو کیا دیا ہے؟