ہائے ہائے
اردو میں لفظ ہائے ہائے کے معنی افسوس صدمہ، دکھ یا احتجاج کا اظہار کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔معنی اور استعمال 1۔ احتجاج اور نعرے بازی: جلسے جلوسوں یا مظاہروں میں کسی پالیسی یا کسی فرد کے خلاف نعرے بازی کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ 2۔ افسوس اور تاسف: جب کسی تکلیف،نقصان یا صدمے پر شدید افسوس ظاہر کرنا ہو تو ہائے ہائے بولا جاتا ہے۔ 3۔ درد یا تکلیف:جسمانی یا روحانی تکلیف میں منہ سے نکلنے والی کراہ۔
قیام پاکستان سے لے کر آج تک عوام کی زبان پر ہائے ہائے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ فلاح و بہبود ،امن و خوشحالی، صحت، تعلیم ،روزگار جس کا ضامن آئین پاکستان ہے ،آج تک عوام کو میسر نہیں ہیں۔ ہم پر مسلط کردہ اشرافیہ نے ملک کا بیڑا غرق اور ستیاناس کر دیا ہے، جس سے ایک عام آدمی کی زندگی تہس نہس ہو چکی ہے ،تمام سیاسی جماعتیں لوٹ کھسوٹ اور کرپشن کی نیت سے اقتدار میں آتی ہیں۔
عام آدمی کی زندگی میں ہائے ہائے کے سوا آج کچھ بھی نہیں ہے ۔ پاکستان میں دو ملک چل رہے ہیں ،ایک عام آدمی کا اور دوسرا اشرافیہ کا۔ غربت اور بے روزگاری نے عوام سے جینے کا حق بھی چھین لیا ہے ،عوام کا کیا قصور ہے اور انھیں کس بات کی سزا دی جا رہی ہے، جب تک عوام کے اوپر جاگیردار، وڈیرے اور سرمایہ دار مسلط رہیں گے، عوام کے مسائل کا حل نہیں نکلے گا ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام باہمی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر متحد ہو جائیں اور مشترکہ جدوجہد کا آغاز کریں۔ عوام میں اتفاق نہ ہونے کے سبب ہم اپنی معاشی آزادی حاصل کرنے میں ناکام ہیں ۔ ساغر صدیقی نے کیا خوب کہا ہے ۔
جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس عہد کے سلطاں سے کچھ بھول ہوئی ہے
ہرعام آدمی پریشان ہے، اچھی زندگی تو دور کی بات، آج تو دو وقت کی روٹی کا حصول بھی دشوار ہو چکا ہے۔ حکمرانوں نے عوام کو کہیں کا نہیں چھوڑا ہے ۔معاشی و معاشرتی ناانصافیوں نے غریبوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔
پاکستان کے قیام کا مقصد دفن ہو کر رہ گیا ہے، با اختیار اداروں اور طبقوں کو چاہیے کہ وہ عوام کے بنیادی معاشی حقوق کے لیے کوئی لائحہ عمل طے کریں ،جس سے ایک عام آدمی کی زندگی میں تبدیلی رونما ہو۔ تعلیم ، صحت ، روزگار میسر کرنا حکومت کی ذمے داری ہے لیکن بد قسمتی سے حکومت ایک عام آدمی کو اس کے بنیادی معاشی حقوق دینے میں ناکام ثابت ہوئی ہے، ہر آنے والی نئی حکومت سابقہ حکومتوں کو چور ،نالائق، ناہل اور کرپٹ کہتی ہے اور اپنے دور میں بھرپور کرپشن کر کے چلی جاتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کو نئے سرے سے ’ری بلڈ‘ کیا جائے ،جس کے لیے مقتدر اداروں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ پوری قوم کی نظریں با اختیار طبقے کی طرف ہیں مجموعی طور پر دیکھا جائے تو عوام میں بے چینی اور بے یقینی کا عنصر نمایاں ظاہر ہو رہا ہے۔ عام آدمی اور حکومتی اشرافیہ کے مابین دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں ،جس سے معاشرے میں شدید بگاڑ اور نفرتیں پیدا ہوں گی، لہٰذا با اختیار طبقے کو فوری طور پر اس سلسلے میں عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔
ہر شخص آج کہہ رہا ہے روٹی مہنگی ہائے ہائے ،پیٹرول مہنگا ہائے ہائے، پانی نہیں آتا ہائے ہائے ،لوڈ شیڈنگ ہائے ہائے، حکمران نالائق و نااہل ہائے ہائے، گیس مہنگی ہائے ہائے ، اسی لیے آج اقوام عالم میں بھی ہمیں وہ مقام حاصل نہیں اور ہمیں قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔
حکمران طبقات کی مالی لوٹ کھسوٹ نے عالمی سطح پر بھی پاکستان کی عزت خاک میں ملا دی ہے۔ حکمرانوں کو اپنے منہ میاں مٹھو بننے کا بہت شوق ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے، ملک میں 9 کروڑ عام پاکستانی غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں، دو سے تین کروڑ بچے اسکول نہیں جاتے ،صحت کی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث اسپتالوں میں لوگ جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
ایک عام پاکستانی کو پینے کا صاف پانی، دو وقت کی روٹی، روزگار اور صحت کی سہولتیں میسر نہیں ہیں اور حکومت عوامی خدمت کے جذبے سے بے نیاز اور بے فکر ہو کر اپنی عیاشیوں میں مصروف ہے ۔عوام کی ہائے ہائے اگر بڑھ گئی تو عوامی مزاحمتی تحریک چل پڑے گی، جو کسی کے بھی حق میں مناسب نہیں ہوگی۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ عوامی ہائے ہائے کو دیکھتے ہوئے ایسے اقدامات اٹھائیں جس سے عام آدمی ہائے ہائے کرنے کے بجائے حکومت کے لیے دعائیں اور واہ واہ کرے ۔
پاکستان کی معاشی سالمیت خطرے میں ہے۔ ملک کے وسائل کو بڑی بے دردی سے لوٹا جا رہا ہے، اگر اسے فوری طور پر روکا نہ گیا تو یہ ملک کے مفاد میں بہتر نہیں ہوگا، لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کو حقیقی لیڈرشپ دی جائے جس کو پاکستان کے بنیادی مسائل کا اندازہ ہو اور مسائل کو حل کرنے کی صلاحیتیں ہوں ۔
پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے ،یہاں سب کچھ ہے بس ہم پر حکومت کرنے والی اشرافیہ کی نیت درست نہیں ہے جس کے سبب پاکستان مسائل کا گڑھ بن چکا ہے، ایک طرف اتنی مہنگائی دوسری طرف ٹیکسوں کی بھرمار نے عوام کا بیڑا غرق کر دیا ہے ۔عوام بھی صرف ہائے ہائے نہ کرے بلکہ عملی طور پر جدوجہد کا آغاز کرے، جس سے عام آدمی کو معاشی خود مختاری ملے ۔
پاک پروردگار! ہمیں محب وطن، عوام دوست حکمران نصیب فرمائے جو عوام کی عملی خدمت کریں، اللہ تعالی پاکستان کی حفاظت فرمائے ۔(آمین)