برائون انگریزکا سسٹم

آئین کے تحت ہر صوبائی حکومت اپنے وسائل میں خود مختاراور آئینی طور سے آزاد ہے

آج کل پاکستان کی موجودہ سیاسی فضا خاصے مخمصے یا عوامی بے چینی کے بوجھ تلے اپنے مستقبل کے لیے فکرمند ہے،کہیں صوبے بنانے کی آواز ہے تو کوئی انتظامی یونٹس کے لیے اقتدار کی طاقت سے اختیارات لینے کی کوشش میں ہے جب کہ چاروں صوبوں کے عوام اپنے حقوق ہڑپ کرنے والی طاقتوں کے درمیان اختیارات کی نہ ختم ہونے والی جنگ سے اس لیے خوفزدہ ہے کہ کسی بھی طاقت کی فتح آخر کار عوام کے حقوق نہ دینے پر ہی رکتی ہے۔

سو اس واسطے عوام طاقتوروں کی مڈبھیڑ کے اس معرکے کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں،ملک کے تمام حصوں میں بسنے والے عوام کو ملک بننے کے بعد اور متفقہ آئین کے ہوتے ہوئے ایک طرف بنیادی ضرورت یعنی سستی روٹی،سر چھپانے کی چھت،اور تن پر کپڑے ڈھانپنے تک کو نہ مل سکیں جب کہ دوسری جانب عوام کو آئینی حقوق جیسا کہ حق ہڑتال اور حق احتجاج کے ساتھ اظہار کی جمہوری اور آئینی آزادی بھی نہ دی جائے، تو لگ رہا ہے کہ اب عوام بھی اقتدار کی طاقت کے ان بے سرے سروں کومزید الاپنے کے کسی بھی موڈ میں نظر نہیں آتے ۔

بظاہر عوام کی اقتداری طاقتوں سے لاتعلقی شاید اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھے ہوئے افراد کووقتی طور پر اطمینان بخش دے مگر اس کے دور رس نتائج کیا ہوتے ہیں،یہ بات کم از کم اقتدار کے ایوانوں میں براجمان افراد کو نہ سمجھ آئے گی اور نہ ہی انھیں عوام کے حقوق لینے کی اس راگنی سے کوئی دلچسپی ہے،سوال صوبے یا انتظامی یونٹ بنانے سے زیادہ یہ اہم ہے کہ ’’کیا 78برس گزرنے کے باوجود اس خطے سے برٹش راج کا خاتمہ ہوا کہ نہیں؟کیا برٹش راج کی سول بیوروکریسی کی سوچ تبدیل ہوئی کہ نہیں؟

کیا برٹش راج کی حکمرانہ طرز فکر میں کسی بھی قسم کی تبدیلی آسکی یا نہیں؟کیا برٹش راج کی وفاداری نبھانے کے نتیجے میں نوازشات عطا کرنے کا در بند ہوا کہ نہیں؟کیا برٹش راج کے جاسوسوں کو جاگیریں،زمین یا خانقاہیں تحفے کے طور پر دینے کا رواج ختم کیا گیا یا کہ نہیں؟

کیا برٹش راج کے نوازے گئے وڈیروں،جاگیرداروں اور پیر وں کے اقتدار اعلیٰ میں حصے کو ختم کیا گیا؟کیا سول بیوروکریسی میں وڈیروں،جاگیرداروں،پیروں یا اعلیٰ طبقات کے فرمانبرداروں کی برٹش راج کی طرز پر بھرتی بند ہوئی؟کیا پاکستان کے اقتداری طبقے میں برٹش راج کی طرح اعلیٰ طبقے کا کلب سسٹم ختم کر دیا گیا ہے؟

اگر ہم مذکورہ سوالات کے جوابات کی تلاش میں پاکستان کی ہچکولے کھاتی سیاسی تاریخ کا منصفانہ جائزہ لینا شروع کردیں تو ہماری داغدار سیاسی تاریخ اتنے تلخ حقائق عوام کے سامنے لائے گی کہ پھر ریاست کے جمہوری ہونے نا ہونے،آئین کی پاسداری کا قتل اور آئین میں دیے گئے بنیادی انسانی حقوق نہ دینے پر مزید سوالات جنم لیں گے اور ہم ایک ایسی لایعنی بحث کا شکار ہو جائیں گے کہ جہاں سے صرف عوام اور نوجوانوں میں ’’کنفیوژن ‘‘پیدا ہوگا اور عوام کے اندر یہی کنفیوژن در اصل اقتدار اعلیٰ کے فائدے میں جائے گا کیونکہ پاکستان بننے سے لے کر اب تک پاکستان کے طاقتور اقتدار اعلیٰ نے انتہائی چالاکی سے عوام کو کنفیوژ کرکے سیاست نہ سمجھنے کے ایک ایسے ٹرک کی طرف لگا دیا ہے جس کے پیچھے عوام اپنی امیدوں کے نشے میں دوڑتے چلے جا رہے ہیں جب کہ اقتدار اعلیٰ عوام کو دوڑا دوڑا کر ہانپنے پر مجبور کرکے تھکا دیتا ہے اور پھر عوام کو ایک نئی لولی پوپ دے کر آیندہ کے صرف بہتر خواب کے علاوہ کچھ نہیں دے پاتا ۔

اقتدار کے سنگھاسن پر آزاد کہلائی جانے والی ہماری ریاست میں پہلے روز سے برٹش راج کی افسر شاہی،برٹش راج کے مفادات پورے کرنے والے بنائے گئے سیاستدان اور طاقتور گروہ ہی 7دہائیوں سے زیادہ حکمرانی کر رہا ہے جب کہ ان طاقتوں کی آنکھ مچولی عوام چپ سادھے دیکھ رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اقتدار کے سنگھاسن پر قابض یہ طاقتور آخر کار عوام کے اندر پکنے والے جوالے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اب مزید ،اپنے مقاصد اور اختیارات کے فائدے کے لیے عوام کو استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں،اگر پاکستان کی سیاست میں ان طاقتوروں کی عوام کو اقتدار میں شریک نہ رکھنے کی حکمت عملی پر غور کریں تو اقتدار کا یہ کھیل اب تک سات دہائیوں سے ملک کے عوام کا معاشی،سیاسی اور سماجی حصہ نہ صرف دے نہیں پایا ہے بلکہ عوام کے ووٹ کی طاقت کا چہرہ بھی اتنا مسخ یا زخمی کر دیا ہے کہ اب نئی نسل کے ذہن میں ووٹ کی طاقت کی حیثیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔

جو بہت خطرناک رجحان ہے۔عوام یا نسل کو جمہوریت سے مایوس کرنے کا یہ کام اقتدار کا یہ طاقتور گروہ اتنی صفائی اور کمال مہارت سے برٹش ترکیب’’لڑاؤ اور تقسیم کرو‘‘ کے ذریعے کر رہا ہے کہ جس کے نتیجے میں عوام کی سوچ میں ٹہراؤ اور توازن نہیں آپا رہا۔

سندھ کی صوبائی اسمبلی اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیوں کی صوبے کی تقسیم یا صوبہ بنانے کی قرار داد کے باوجود اب تک نئے صوبے بنانے کی بات مکمل طور پر نہ رکی ہے اور نہ ہی حکومت نئے صوبے بنانے کی اپنی خواہش سے مکمل طور سے دستبردار ہوئی ہے۔

سوال یہ ہے کہ نئے صوبے بنانے یا انتظامی یونٹ بنانے کی وہ کونسی وجہ ہے جس سے نئے صوبے بنانے کی بات کو عوام کسی نہ کسی طرح سن رہی ہے ،حالانکہ 1973 کے متفقہ آئین کے تحت پاکستان چار صوبوں کا ایک فیڈریزنگ یا وفاقی کنٹرول کا نظام ہے کہ جس میں وفاق صوبوں کے مابین بہترین ربط اور باہمی صوبائی رشتوں کو صرف مضبوط کرنے کا کام کرتا ہے اور آئین کی رو سے یہی وفاق کا بنیادی کام ہے۔

جب کہ آئین کے تحت ہر صوبائی حکومت اپنے وسائل میںخود مختاراور آئینی طور سے آزاد ہے بلکہ قانونی ماہرین کے نزدیک صوبے کی تقسیم تو آئینی طور سے کسی صورت ممکن ہی نہیںجب کہ قانونی ماہرین کے نزدیک انتظامی یونٹ بنانے کے لیے بھی صوبے کی اسمبلی کی اکثریتی رائے لینا آئینی تقاضہ ہے۔

یہ بات حکمران اتحاد ( سول بیوروکریسی،مفاد پرست سیاستدان) کو سندھ کے باشعور عوام نے اپنے اتحاد اور یکجہتی سے باور کروا دی ہے کہ سندھ کے عوام ہزاروں سال پرانی اپنی تاریخ اور ثقافت کو بچانا بھی جانتے ہیں اور وقت آنے پر اپنے سیاسی و جمہوری حق بھی لینا جانتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سندھ کی وحدت اوروجود کی جدوجہد سے سندھ حکومت کی صوبائی اسمبلی مجبور ہوئی کہ وہ متفقہ صوبہ بنانے کے خلاف قرار داد لائے ،وگرنہ حقیقت یہ ہے کہ سندھ کی حکمران پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت آج بھی سندھ کی وحدت کے بارے میں کوئی واضح نکتہ نظر نہیں دے سکی ہے۔

جب کہ اگر صوبے بنانے کے شوشے کو ٖغور سے دیکھا جائے تو یہ موقع بھی اقتداری طاقت کو پیپلز پارٹی نے اپنی 18سالہ خراب گورننس اور صوبے کے تعلیمی، سماجی، معاشی، رستوں کی خستہ حالت اور بہتر ٹرانسپورٹ کی سہولیات صوبے کے عوام کو دیں اور نہ وفاق نے دیں اور اب پیپلز پارٹی آیندہ انتخابات کے لیے سندھ کے عوام کی مشترکہ جدوجہد کو اپنے کھاتے میں ڈال رہی ہے جو سندھ کے عوام کے ساتھ سیاسی بد دیانتی ہے جس کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔

سندھ کے عوام کا سندھ حکومت سے یہ مطالبہ کہ 18 ویں ترمیم میں دی گئی صوبائی خود مختاری کے بعد سندھ کے مالیاتی امور سندھ میں نچلی سطح پر کیوں منتقل نہیں کیے جارہے ؟ سندھ کے عوام کا وہ حقیقی جمہوری مطالبہ ہے جس سے سندھ حکومت صرف اسی صورت میں بچ سکتی ہے کہ جب وہ سندھ کے تمام وسائل کے مالیاتی اختیارات سندھ میں نچلی سطح پر منتقل کرے۔

Load Next Story