محلہ جاتی سولر گرڈ اسٹیشن، لوڈشیڈنگ سے نجات

انفرادی کے بجائے محلے کی سطح پر مل کر چھوٹے گرڈ اسٹیشن بنائیں،ماہرین

لاہور:

پاکستان میں شمسی توانائی کے ماہرین نے بذریعہ تحقیق دریافت کیا ہے، پچھلے پانچ سال کے دوران پاکستانی شہری، کسان اور نجی ادارے ’’50 ہزار میگاواٹ ‘‘بجلی بنانے کیلئے سولر پینل لگوا چکے ہیں.

جبکہ سرکاری سطح پر صرف ’’41 ہزار میگاواٹ‘‘ بجلی کی پاکستان بھر میں ترسیل ممکن ہے پھر بھی لاہور وکراچی سمیت اکثر علاقوں میں کروڑوں پاکستانی لوڈشیڈنگ کی اذیّت سے دو چار ہیں. 

وجہ یہ ہے جنھوں نے سولر پینل لگائے ، اْن میں اکثریت انفرادی طور پر تیّار کردہ بجلی کو برتتے ہیں اور عموماً زائد پیدا شدہ سولر بجلی ضائع جاتی ہے.

ماہرین کا کہنا ہے مسئلے کا حل یہ کہ جن پاکستانیوں نے سولر پینل لگا رکھے ہیں ، وہ محلّے یا علاقے کی سطح پر مل جل کر ’’چھوٹے گرڈ اسٹیشن‘‘بنا لیں، یوں سولر بجلی سے محلّے کاہر گھرمستفید ہوسکے گا.

بذریعہ مقامی گرڈ سٹیشن سولر بجلی کی منظم خریدوفروخت اور ترسیل سے پینل رکھنے اور نہ رکھنے والے دونوں فائدے میں رہیں گے، اول کو مالی فائدہ ہو گا، دوسرے فریق کو لوڈشیڈنگ کی آفت سے نجات مل جائے گی۔

Load Next Story