کراچی، پولیس افسران سے مذاکرات ناکام، متوفی روشم کی لاش کے ہمراہ اہلخانہ کا 5 روز سے دھرنا جاری

قاتلوں کی گرفتاری تک دھرنا جاری رہے گا، والد

کراچی:

منگھوپیر میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے 15 سالہ روشم ولد رویداد کے اہلخانہ کا لاش کے ہمراہ منگھوپیر تھانے کے باہر پانچویں روز بھی دھرنا جاری ہے مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیے جانے تک احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔

پولیس کے مطابق ہفتے کی شب 10 بجے کے قریب  ایڈیشنل آئی جی آزاد خان تنولی دیگر اعلیٰ پولیس افسران کے ہمراہ مظاہرین سے مذاکرات کے لیے منگھوپیر تھانے پہنچے۔

اس موقع پر ڈی آئی جی عرفان بلوچ اور ایس ایس پی طارق الٰہی مستوئی بھی ان کے ہمراہ تھے۔

پولیس افسران نے مقتول روشم کے والد رویداد حسین سے ملاقات کی اور ان سے اظہارِ تعزیت کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ پولیس افسران نے روشم کے قتل سے متعلق کیس کی تفتیش، اب تک ہونے والی پیش رفت اور ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے مقتول کے والد سے گفتگو کی۔

ایڈیشنل آئی جی نے پولیس افسران کو ہدایت کی کہ روشم ولد رویداد کے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کو جلد از جلد ممکن بنایا جائے۔

بعدازاں ایڈیشنل آئی جی آزاد خان تنولی اور ڈی آئی جی عرفان بلوچ وہاں سے روانہ ہوگئے تاہم مذاکرات کے باوجود مظاہرین نے دھرنا ختم نہیں کیا۔

پولیس کے مطابق اعلی پولیس حکام اور مقتول کے اہل خانہ کے درمیان کسی حتمی نتیجے پر اتفاق نہ ہوسکا اور مذاکرات ناکام ہوگئے۔

مظاہرین نے انصاف کی فراہمی اور واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے مطالبے پر اپنے مؤقف پر قائم رہنے کا اعلان کیا ہے۔

مقتول کے والد کا کہنا ہے کہ جب تک روشم کے قتل میں ملوث ملزمان گرفتار نہیں کیے جاتے لاش کے ہمراہ احتجاج جاری رکھا جائے گا۔

پولیس حکام نے مظاہرین کو کیس میں پیش رفت اور مطالبات پر کارروائی کی یقین دہانی کرانے کی کوشش کی تاہم اتفاقِ رائے نہ ہونے کے باعث دھرنا بدستور جاری ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور مظاہرین سے پرامن رہنے اور قانون ہاتھ میں نہ لینے کی اپیل کی گئی ہے۔

Load Next Story