عراق نے ایران کے ساتھ تین سرحدی گزرگاہیں دوبارہ کھولنے کا اعلان کردیا
بغداد: عراق نے سعودی عرب کی ایک اہم آئل پائپ لائن پر ڈرون حملے کے ایک روز بعد ایران کے ساتھ بند کی گئی تین سرحدی گزرگاہیں مرحلہ وار دوبارہ کھولنے کا اعلان کردیا ہے۔
عراقی سکیورٹی حکام کے مطابق حملے کے بعد ایران کی سرحد سے متصل صوبے میسان میں ڈرون لانچ کیے جانے کے شواہد ملے تھے۔ واقعے کے بعد میسان کے فوجی کمانڈر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا اور تحقیقات شروع کردی گئیں۔
عراق نے سکیورٹی اور انٹیلی جنس کارروائیوں کو بہتر بنانے کے لیے شلامچہ، الشیب اور مندلی کی سرحدی گزرگاہیں عارضی طور پر بند کی تھیں۔ حکام کے مطابق ان مقامات پر انتظامی اور سکیورٹی اقدامات مکمل ہونے کے بعد آمدورفت بحال کی جارہی ہے۔
حکام کے مطابق شلامچہ اور الشیب سے مسافروں کی آمدورفت اتوار کو بحال کردی گئی، جبکہ تجارتی سرگرمیوں کی مکمل بحالی مرحلہ وار ہوگی۔ دیگر ذرائع کے مطابق تینوں گزرگاہوں پر مسافروں اور تجارت کی بحالی کے لیے بھی ٹائم لائن جاری کی گئی ہے۔
سعودی عرب کا کہنا ہے کہ عراق سے لانچ کیے گئے ڈرونز نے اس کی مشرقی-مغربی تیل پائپ لائن کو نشانہ بنایا تھا۔ تاہم کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، جبکہ ایران نواز عراقی مسلح گروہوں کے اتحاد نے بھی پائپ لائن پر حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں ایران، عراق اور خلیجی ممالک کے درمیان سکیورٹی صورتحال انتہائی حساس ہے اور سعودی تیل تنصیبات پر حملے کے بعد علاقائی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔