یومِ آزادی پر تاریخ، فن اور قومی جذبے کا حسین امتزاج

 جمی انجنیئر کے رنگوں، اخبارات کے تاریخی صفحات اور سکوں سے بنے پرچم میں پاکستان کی کہانی

(سابق ایسوسی ایٹ پروفیسر، نمل یونیورسٹی، کراچی)

بعض اوقات تاریخ کتاب کے صفحات سے نکل کر ہمارے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔ کبھی کسی پرانے اخبار کا زرد پڑتا صفحہ ہمیں 1947ء کے کسی لمحے میں واپس لے جاتا ہے، کبھی کسی مصور کا برش ہجرت کے دکھ، امید اور نئے وطن کے خواب کو رنگوں میں ڈھال دیتا ہے اور کبھی ماضی کی کرنسی اور سکے ایک قومی علامت کی شکل اختیار کرکے ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ قوموں کی تاریخ صرف سیاسی فیصلوں سے نہیں، بلکہ لوگوں کی قربانیوں، خوابوں، فن اور اجتماعی یادداشت سے بھی تشکیل پاتی ہے۔

پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر اسٹیٹ بینک میوزیم اینڈ آرٹ گیلری کراچی میں منعقدہ خصوصی نمائش نے اسی احساس کی ایک خوب صورت تصویر پیش کی ۔ یہاں 1947ء کے تاریخی اخبارات اور دستاویزات، قائداعظم محمد علی جناح کی نایاب ویڈیو، معروف مصور جمی انجنیئر کے فن پاروں کے کینوس پرنٹس اور منسوخ شدہ کرنسی نوٹوں اور سکوں سے تیار کیا گیا پاکستانی پرچم۔۔۔سب مل کر قیامِ پاکستان کی کہانی کو ایک ایسے انداز میں بیان کرتے رہے جس میں تاریخ بھی ہے، فن بھی اور قومی جذبہ بھی۔

نمائش کا افتتاح گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کیا۔ تقریب میں اسٹیٹ بینک کے سینئر افسران، معزز مہمانوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی، جب کہ زندگی ٹرسٹ کے طلبہ نے ملی نغمے پیش کرکے ماحول کو حب الوطنی کے جذبات سے بھر دیا۔

جب اخبار کا ایک صفحہ تاریخ بن جائے

اس نمائش کی سب سے قابلِ ذکر خصوصیات میں سے ایک 1947ء کے تاریخی اخبارات اور آرکائیوز تھے۔ آج ہم خبروں کو موبائل فون کی اسکرین پر چند سیکنڈ میں پڑھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، مگر کبھی اخبار ہی دنیا سے واقفیت کا سب سے اہم ذریعہ تھا۔ 1947ء میں شائع ہونے والے اخبارات محض خبریں نہیں تھے؛ وہ ایک نئی دنیا کی پیدائش کے عینی شاہد تھے۔

نمائش میں 15 اگست 1947ء کے روزنامہ ڈان کے تاریخی شمارے سے اقتباسات بھی شامل کیے گئے۔ یہ صفحات دیکھنے والے کو اس دور کی صحافتی دنیا سے براہِ راست جوڑتے ہیں جب برصغیر ایک بڑے سیاسی، جغرافیائی اور انسانی تغیر سے گزر رہا تھا۔ پرانے اخبار کا ایک صفحہ اپنے اندر کئی زمانوں کو سمیٹے ہوئے ہے۔ اس پر درج الفاظ، سرخیاں اور خبریں آج کے قاری کے لیے صرف ماضی کا ریکارڈ نہیں بلکہ اس لمحے کی دھڑکن محسوس کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔

یہی اس نمائش کی خوب صورتی تھی کہ یہاں تاریخ کو صرف پڑھا نہیں، دیکھا بھی گیا۔

1947ء کے آرکائیوز: تاریخ کے جھروکے کھلتے چلے گئے

نمائش کے تاریخی حصے کو ’’1947ء —پاکستان کے قیام کا تاریخی سال‘‘ کے عنوان سے ترتیب دیا گیا۔ اس میں پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ، نیشنل آرکائیوز آف پاکستان، سندھ آرکائیوز، روزنامہ ڈان کے تاریخی آرکائیوز اور مختلف تاریخی کتب سے حاصل ہونے والا مواد شامل ہے۔ یہ سیکشن برطانوی راج کے آخری مہینوں سے شروع ہوکر قیامِ پاکستان کے تاریخی مرحلے تک پہنچتا ہے۔ 3 جون پلان سے متعلق اہم تاریخی مشاورت، برصغیر کی تقسیم کی پیش رفت، پاکستان کے قیام اور اس کے بعد کے ابتدائی حالات کو مختلف دستاویزی شواہد کے ذریعے اجاگر کیا گیا۔

یہاں موجود مواد خاص طور پر نوجوانوں کے لیے ایک اہم پیغام رکھتا تھا۔ آج کے دور میں جب تاریخ چند سطروں یا مختصر سوشل میڈیا پوسٹ تک محدود ہوجاتی ہے، ایسے اصل یا تاریخی ریکارڈ یہ احساس دلاتے ہیں کہ 1947ء محض کتاب میں درج ایک سال نہیں تھا؛ یہ کروڑوں انسانوں کی زندگی بدل دینے والا زمانہ تھا۔

قائداعظم کی حلف برداری: اسکرین پر زندہ ہوتا ایک تاریخی لمحہ

نمائش میں قائداعظم محمد علی جناح کی پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے حلف برداری کی نایاب تاریخی ویڈیو بھی خصوصی توجہ کا مرکز رہی۔ تاریخ کی کتاب میں ہم پڑھتے ہیں کہ قائداعظم نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے حلف اٹھایا، لیکن جب اسی واقعے کی ویڈیو آنکھوں کے سامنے چلتی ہے تو تاریخ ایک مختلف کیفیت اختیار کرلیتی ہے۔ چہروں کے تاثرات، اس زمانے کا ماحول اور ایک نئی مملکت کے آغاز کا منظر دیکھنے والے کو ماضی کے اس لمحے سے جوڑ دیتا تھا۔

اس ویڈیو اور تاریخی اخبارات نے مل کر ایک ایسا بصری و دستاویزی تجربہ تشکیل دیا جس نے نمائش کو محض ایک آرٹ شو کے بجائے تاریخ کے زندہ میوزیم میں تبدیل کردیا۔

جمی انجنیئر: جب تاریخ رنگوں میں بولنے لگے

نمائش کا دوسرا اور نہایت دل کش پہلو معروف مصور جمی انجینئر کے فن پارے تھے۔ ان کے فن میں پاکستان کی تاریخ، ثقافت، عوام، دیہی زندگی، قدرتی حسن اور ہجرت کی یادیں ایک منفرد بصری زبان اختیار کرتی ہیں۔

’’پاکستان کے عوام کو خراجِ تحسین‘‘ کے عنوان سے جمی انجنیئر کے اصل شاہ کار فن پاروں کے 35 اعلیٰ معیار کے کینوس پرنٹس اس نمائش کی زینت تھے۔ جمی انجنیئر کی خصوصیت یہ ہے کہ ان کے فن پاروں کو صرف دیکھا نہیں جاتا، ان میں ایک کہانی محسوس کی جاسکتی ہے۔ ان کے کام میں پاکستان کا عام انسان، اس کی زندگی، اس کی امید، اس کی محنت اور اس سرزمین سے اس کا تعلق نمایاں ہوتا ہے۔

خاص طور پر 1947ء کی ہجرت سے متعلق مناظر تاریخ کے ایک ایسے باب کو چھوتے ہیں جسے محض اعدادوشمار میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ لاکھوں افراد نے اپنے گھر، شہر، زمینیں اور یادیں چھوڑ کر ایک نئے وطن کا سفر کیا۔ اس سفر میں خوف بھی تھا، جدائی بھی، قربانی بھی اور ایک بہتر مستقبل کا خواب بھی۔

جمی انجنیئر کے فن پارے اسی انسانی پہلو کو رنگوں اور مناظر کے ذریعے محسوس کراتے ہیں۔

ہجرت کے دکھ سے پاکستان کے حُسن تک

جمی انجینئر کے فن کی دنیا صرف ہجرت کے المیے تک محدود نہیں۔ ان کے فن پاروں میں پاکستان کا قدرتی حسن، تعمیراتی ورثہ اور دیہی زندگی بھی اپنی پوری خوب صورتی کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ یوں ایک ہی گیلری میں پاکستان کے دو مختلف چہرے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طرف 1947ء کی ہجرت کی بے قراری اور انسانی دکھ ہے، دوسری جانب پاکستانی دیہات کی سادگی، قدرتی مناظر اور تہذیبی رنگ۔

یہ امتزاج دراصل پاکستان کی مجموعی کہانی ہے، ایک ایسا ملک جو مشکلات اور قربانیوں کے درمیان وجود میں آیا، مگر جس کے اندر حسن، ثقافت، زندگی اور امید کی بے شمار صورتیں موجود ہیں۔

ڈاک ٹکٹ بھی تاریخ کے چھوٹے چھوٹے آئینے ہیں

جمی انجنیئر کے فن پاروں کے ساتھ ان کے کام پر مشتمل خصوصی کتاب اور ان کے ڈیزائن کردہ دو یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی نمائش میں شامل تھے۔ ان میں 1990ء کا ’’سرفروشانِ تحریکِ پاکستان‘‘ ڈاک ٹکٹ اور 2000ء کا ’’انڈونیشیا-پاکستان اکنامک اینڈ کلچرل کوآپریشن آرگنائزیشن‘‘ ڈاک ٹکٹ شامل تھے۔ ڈاک ٹکٹ بظاہر کاغذ کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہوتا ہے، مگر درحقیقت وہ اپنے زمانے کی تاریخ، فن اور قومی ترجیحات کا آئینہ بھی ہوتا ہے۔ جمی انجینئر کے ڈیزائن کردہ یہ ڈاک ٹکٹ ان کے فن کے اس وسیع دائرے کی یاد دہانی ہیں جو پاکستان کی قومی شناخت اور تاریخی شعور سے جڑا ہوا ہے۔

جب سکے اور کرنسی بن جائیں قومی پرچم

اس نمائش کا سب سے منفرد اور حیرت انگیز پہلو اسٹیٹ بینک میوزیم کے مرکزی ہال میں نصب پاکستانی پرچم کی فنّی تنصیب تھی۔

4×6 فٹ پر مشتمل اس منفرد فن پارے میں 525 منسوخ شدہ 10 روپے کے بینک نوٹ اور 2,700 ایک روپے کے موجودہ سکے استعمال کیے گئے ہیں۔ یہاں فن اور مالیاتی تاریخ ایک دوسرے میں مدغم ہوجاتے ہیں۔ جو کرنسی کبھی لین دین کا ذریعہ تھی اور جو سکے روزمرہ زندگی میں استعمال ہوتے رہے، وہی جب سبز ہلالی پرچم کی شکل اختیار کرتے ہیں تو ایک نیا مفہوم پیدا ہوتا ہے۔ یہ تنصیب اسٹیٹ بینک کے مالیاتی ورثے کو پاکستان کی قومی شناخت کے ساتھ جوڑ دیتی ہے۔

اعداد جو کہانی سناتے ہیں:

٭  35 — جمی انجینئر کے کینوس پرنٹس

٭  525 — منسوخ شدہ 10 روپے کے بینک نوٹ

٭  2,700 — ایک روپے کے سکے

٭  4×6 فٹ — پاکستانی پرچم کی فنّی تنصیب

تاریخ کے جھروکے اور آج کی نسل

اس نمائش کی اصل اہمیت شاید یہی ہے کہ اس نے نئی نسل کو تاریخ سے جوڑنے کے لیے مختلف ذرائع کو ایک جگہ جمع کردیا۔

ایک طرف 1947ء کے اخبارات تھے جو اپنے دور کی آواز بن کر سامنے آئے، دوسری طرف قائداعظم کی تاریخی ویڈیو تھیجو ماضی کے ایک لمحے کو متحرک تصویر میں محفوظ کرتی ہے۔ پھر جمی انجنیئر کے فن پارے ہیں جو تاریخ اور معاشرے کو رنگوں میں بیان کرتے ہیں، اور آخر میں سکوں اور کرنسی سے تیار کیا گیا پرچم، جو قومی شناخت کو مالیاتی ورثے سے جوڑ دیتا ہے۔

٭  یوں یہ نمائش تاریخ کے کئی دروازے ایک ساتھ کھولتی ہے۔

٭  اخبار ہمیں بتاتا ہے کہ اس وقت کیا ہوا۔

٭  دستاویز ہمیں دکھاتی ہے کہ یہ کیسے ہوا۔

٭  ویڈیو ہمیں اس لمحے کا مشاہدہ کراتی ہے۔

٭  فن ہمیں اس دور کے احساسات سے جوڑتا ہے۔

اور کرنسی و سکے ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ نئی مملکت نے اپنی مالیاتی شناخت بھی خود تشکیل دی۔

ماضی سے مستقبل تک ایک پیغام

پاکستان کی آزادی کی 79ویں سال گرہ کے موقع پر اسٹیٹ بینک میوزیم اینڈ آرٹ گیلری کی یہ نمائش محض ایک نمائش نہیں بلکہ قومی یادداشت کا ایک خوب صورت سفر تھا۔

1947ء کے تاریخی اخبارات کے صفحات، قائداعظم کی حلف برداری کی نایاب ویڈیو، جمی انجینئر کے 35 فن پارے، تاریخی ڈاک ٹکٹ اور سکوں و کرنسی سے تیار کیا گیا پاکستانی پرچم—یہ سب مل کر ایک ہی پیغام دیتے رہے کہ قومیں صرف اپنی تاریخ کو یاد کرکے زندہ نہیں رہتیں بلکہ اپنی تاریخ سے سبق حاصل کرکے اپنا مستقبل تعمیر کرتی ہیں۔ جمی انجنیئر کے رنگوں میں پاکستان کے عوام کی کہانی، پرانے اخبارات میں ایک نئی مملکت کی پیدائش کی گواہی اور اسٹیٹ بینک کے سکے و نوٹوں سے بنے پرچم میں قومی شناخت اور مالیاتی ورثے کا حسین امتزاج۔

شاید اسی لیے اس نمائش کو دیکھتے ہوئے یوں محسوس ہوا جیسے تاریخ کے بند دروازے کھل گئے ہوں، پرانے اخبارات بولنے لگے ہوں، جمی انجنیئر کے رنگ ماضی کی داستان سنانے لگے ہوں اور کرنسی و سکے سبز ہلالی پرچم بن کر یہ یاد دلا رہے ہوں کہ پاکستان صرف 1947ء میں وجود میں آنے والی ایک ریاست کا نام نہیں، بلکہ یہ کروڑوں انسانوں کے خواب، قربانی، جدوجہد، امید اور مسلسل تعمیر کا نام ہے۔

یہی اس یومِ آزادی کی سب سے خوب صورت تصویر ہے۔۔۔تاریخ کے جھروکے سے ماضی کو دیکھنا، فن کے رنگوں میں حال کو محسوس کرنا اور قومی جذبے کے ساتھ مستقبل کی طرف بڑھنا۔ 

Load Next Story