وطن کی حفاطت کی عظیم داستانِ
پاکستان کی تاریخ، پاکستان کی مسلح افواج کی قربانیوں اور خدمات کی بات کی جائے تو ایک سنہری باب کا ذکر ضرور ہونا چاہیے۔ پاکستان کی مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسیحی افسران اور جوانوں کا دفاعِ وطن میں شان دار کردار ایک ایسا روشن باب ہے جس کی روشنی دُور تک پھیلی ہوئی ہے۔
ان لوگوں نے وقت پڑنے پر اپنے ملک، اپنی مٹی اور اپنے وطن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ یہ مضمون ان تمام جاں نثار اور بہادر سپاہیوں اور افسران کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اور اس کا اس سے بہتر ذریعہ کیا ہوسکتا ہے کہ ہم ایک ایسی کتاب پر گفتگو کریں جس نے ان ہیروز کی کہانیوں کو محفوظ کیا ہے۔ ایسی کہانیاں جو ہمارے ماضی اور تاریخ کا حصہ ہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ہماری یادداشت سے محو ہوتی جاررہی تھیں۔ یوم دفاع ایک ایسا موقع ہے کہ ہم اس لازوال داستان کو ازسرن یاد کریں۔
اس ضمن میں میجر جنرل( ر) نوئیل کھوکھر کی کتاب Voices of Valour، A Tribute To Christian Defenders of Pakistan ایک قابل ٖفخر کاوش ہے۔ اس کتاب کو ہاتھ میں پکڑتے ہی اس کی پیش کش، تصاویر، رنگ اور مجموعی انداز اس کی اہمیت کا احساس دلاتے ہیں۔ ایک کتاب دوست کی حیثیت سے میں ہمیشہ کتابوں کو فروغ دینے کی کوشش کرتا ہوں، خاص طور پر ایسے دُور میں جب ڈیجیٹل ذرائع کی وجہ سے کتاب کا مطالعہ کم ہوتا جا رہا ہے۔لیکن میرا خیال ہے کہ یہ صرف ایک کتاب نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ اور پاکستان مسیحیوں کے کردار کی ایک اہم اور روشن دستاویز ہے۔ مجھے کتا ب کے مصنف میجر جنرل نوئیل کھوکھر سے اس حوالے سے خصوصی انٹرویو کرنے کا موقع ملا۔ اُنہوں نے بتایا کہ پاکستان کے قیام میں پاکستان کی مسیحیوں نے اہم کردار ادا کیا، اور قیامِ پاکستان کے بعد دفاع، ترقی اور قومی تعمیر کے مختلف شعبوں میں بھی ہماری نمایاں خدمات رہی ہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ کردار اور کہانیاں پس منظر میں چلی گئیں۔ آج کی نسل سے آپ جب بات کرتے ہیں تو بہت سے نوجوانوں کو اپنے ہیروز اور ان لوگوں کے بارے میں مکمل معلومات نہیں جنہوں نے مشکل حالات میں پاکستان کے لیے خدمات انجام دیں۔ ہمارے نصاب میں بھی اقلیتوں کے کردار کا ذکر بہت محدود رہا ہے۔ ہم نشانِ حیدر جیسے قومی اعزازات کا ذکر کرتے ہیں، لیکن ان اعزازات سے وابستہ مکمل تاریخی پس منظر اکثر سامنے نہیں آتا ہے۔ اسی احساس نے مجھے یہ کتاب لکھنے کی طرف متوجہ کیا۔ مجھے محسوس ہوا کہ اگر ہم نے ان کہانیوں کو محفوظ نہ کیا تو آنے والے برسوں میں یہ مزید دھندلا جائیں گی اور شاید لوگ ان خدمات کو بھول جائیں گے۔ اسی لیے میں نے کوشش کی کہ ان کہانیوں کو ایسی شکل میں محفوظ کیا جائے جسے عام قاری بھی آسانی سے پڑھ سکے۔
اسی وجہ سے کتاب کو بہت زیادہ تحریری مواد سے بوجھل نہیں بنایا، بلکہ اسے کافی ٹیبل بک کے انداز میں ترتیب دیا گیا ہے، تاکہ لوگ اسے بار بار اٹھائیں، ایک وقت میں ایک ہیرو کی کہانی پڑھیں اور دوبارہ ضرورت کے وقت اس سے رجوع کریں۔ میری کوشش یہ تھی کہ پاکستان کی ترقی، دفاع اور قومی تعمیر کی بڑی کہانی کے ساتھ مسیحیوں کی متوازی خدمات کی داستان بھی سامنے آئے۔ یہی چیز اس کتاب کو منفرد بناتی ہے۔ عام طور پر تاریخ میں بڑے واقعات تو محفوظ ہوجاتے ہیں، لیکن ان واقعات کے پیچھے موجود عام افسران، جوانوں، خواتین اور انفرادی کرداروں کی کہانیاں کہیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔
کتاب کا آغاز صرف جنگوں کی کہانیوں سے نہیں ہوتا بلکہ پہلے ہم قاری کو بنیادی پس منظر فراہم کرتے ہیں۔کتاب کے آغاز میں پاکستان، قائداعظم، قومی پرچم، وفاداری کا حلف، فوجی عہدوں کی درجہ بندی اور عسکری اعزازات کے نظام کو عام قاری کے لیے آسان زبان میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص فوج کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا تو وہ بھی کتاب کو آسانی سے سمجھ سکے۔ اس کے بعد کتاب قاری کو پاکستان کے قیام اور اس وقت کی صورت حال کی طرف لے جاتی ہے۔ جب پاکستان بنا تو ہماری مسلح افواج موجودہ شکل میں موجود نہیں تھیں۔ برطانوی ہندوستان کی مسلح افواج کی تقسیم کے بعد پاکستان کے حصے میں آنے والی افواج کو نئے سرے سے منظم کرنا ایک بہت بڑا کام تھا۔ اس ابتدائی تشکیلِ نو میں کئی مسیحی افسران نے اہم کردار ادا کیا۔ صرف پاکستانی نژاد افسران ہی نہیں، بلکہ ایسے مسیحی افسران بھی تھے جو برطانوی ہندوستان کی فوج یا دیگر مسلح افواج کا حصہ تھے اور انہوں نے پاکستان کو منتخب کیا۔ انہوں نے پاکستان کی مسلح افواج کی ابتدائی تشکیل اور ادارہ جاتی ترقی میں اہم خدمات سرانجام دیں۔ اسی طرح فضائیہ اور بحریہ میں بھی ایسے مسیحی افسران کا کردار رہا۔ یہاں تک کہ پاکستان کی ابتدائی فضائیہ کی قیادت میں بھی مسیحی افسران نے اہم ذمہ داریاں انجام دیں۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی کی تشکیل اور تربیتی نظام کے حوالے سے بریگیڈیٔر فرانسس انگل کی کہانی بھی اسی سلسلے کی ایک اہم مثال ہے۔ یہ وہ کہانیاں ہیں جن کے بارے میں عام طور پر بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ یہ بہت اہم نکتہ ہے کہ ہم صرف ہیروز کے نام نہیں بلکہ ان کے پیچھے موجود تاریخی پس منظر کو بھی جان پاتے ہیں۔
کتاب میں مختلف ادوار اور جنگوں کو ان کے مکمل پس منظر کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ میری کوشش تھی کہ جب کسی ہیرو کی بہادری کا ذکر ہو تو قاری کو یہ بھی معلوم ہو کہ وہ واقعہ کس صورتِ حال میں پیش آیا، دشمن کی کیا پوزیشن تھی، اس وقت اس افسر یا سپاہی کے سامنے کیا مشکل تھی اور اس نے کس طرح اپنا کردار ادا کیا۔ مثلاً Battle of Hilli کے پس منظر میں بھی ایک ایسی ہی کہانی سامنے آتی ہے۔ میرا اپنا تجربہ بھی اس پس منظر کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے، اسی لیے میں نے کوشش کی کہ ہر کہانی کو اس ماحول کے ساتھ بیان کیا جائے جس میں وہ بہادری کا واقعہ پیش آیا۔ نشانِ حیدر پاکستان کا سب سے بڑا عسکری اعزاز ہے، اور اس حوالے سے بھی کتاب میں کئی ایسی کہانیاں موجود ہیں جن میں مسیحی افسران کا کردار سامنے آتا ہے۔
مثلاً 1971 کی جنگ میں نشانِ حیدر حاصل کرنے والے نائیک محمد محفوظ شہید کی کہانی ہے۔ جس جوابی حملے میں انہوں نے غیرمعمولی بہادری کا مظاہرہ کیا، اس کارروائی کی قیادت کرنے والے ان کے کمانڈنگ افسر کرنل سیرل لی این ایک مسیحی افسر تھے۔ اگر ہم صرف نشانِ حیدر حاصل کرنے والے ہیرو کا نام دیکھیں تو ہمیں پوری کہانی معلوم نہیں ہوتی، لیکن جب آپ مکمل پس منظر دیکھتے ہیں تو کئی دوسرے کردار بھی سامنے آتے ہیں جنہوں نے اس کام یابی میں اپنا حصہ ڈالا۔ اسی طرح میجر اکرم شہید کی کہانی بھی ہے۔ ان کے یونٹ پر حملے سے پہلے ان کے کمپنی کمانڈر میجر جنرل جو لین پیٹر بھی شدید زخمی ہوئے، لیکن انہوں نے اپنی جگہ نہیں چھوڑی اور لڑائی جاری رکھی۔ اگلے مرحلے میں میجر اکرم نے بہادری سے لڑتے ہوئے اپنی جان قربان کی۔ یہ کہانیاں اس لیے اہم ہیں کہ بہادری صرف ایک لمحے کا واقعہ نہیں ہوتی؛ اس کے پیچھے تربیت، قیادت، نظم و ضبط اور کئی لوگوں کی خدمات ہوتی ہیں۔
پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید کی کہانی بھی اسی پس منظر میں اہم ہے۔ ان کے کمانڈنگ افسر ایئرکموڈور نذیر لطیف خود ایک انتہائی قابل اور اعزاز یافتہ افسر تھے۔ انہیں 1965 اور 1971کی جنگ میں بھی ستارۂ جرات ملا ۔ ایسے افسر بہت کم ہوتے ہیں جنہوں نے مختلف جنگوں میں اس سطح پر بہادری کا مظاہرہ کیا ہو۔ راشد منہاس کی تربیت، ان کے اندر پیدا کی گئی اقدار اور ان کی قیادت کا پس منظر سمجھے بغیر یہ کہانی مکمل نہیں ہوتی۔ یہی وہ کہانیاں ہیں جنہیں میں لوگوں تک پہنچانا چاہتا تھا۔ اسی طرح میجر سرمس کی کہانی بھی اہم ہے۔ ان کے وطن پر جان نچھاور کرنے کی داستان میں ایسے کئی کردار موجود ہیں جنہیں مکمل پس منظر کے بغیر سمجھا نہیں جا سکتا ہے۔ میرے سوال اس پر کہ ایک اور بہت خوب صورت پہلو جو مجھے اس کتاب میں نظر آتا ہے وہ خواتین کا کردار ہے، اکثر جب ہم عسکری تاریخ کی بات کرتے ہیں تو خواتین کی خدمات بہت کم سامنے آتی ہیں۔ آپ نے اس کتاب میں خواتین کو بھی جگہ دی ہے، میجر جنرل نوئیل کھوکھر نے جواب میں کہا کہ ہماری کمیونٹی کی خواتین نے بھی ملک اور اداروں کے لیے گرا ں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ میں چاہتا تھا کہ ان کی کہانیاں بھی سامنے آئیں تاکہ ہماری نوجوان لڑکیاں اور خواتین ان سے تحریک حاصل کر سکیں۔ میرا مقصد یہی تھا کہ ان خواتین اور افسران کی کہانیوں کو سامنے لایا جائے تاکہ آنے والی نسلیں انہیں پڑھ سکیں اور ان سے تحریک حاصل کرسکیں۔ حوصلے، ثابت قدمی اور انسانی صلاحیت کی بات ہو تو میجر اجمل وکٹر سیموئیل کی کہانی واقعی بہت اہم ہے۔ کشمیر میں ایک حادثے کے بعد وہ دونوں ٹانگوں سے مفلوج ہوگئے، لیکن انہوں نے اپنی زندگی کو ختم سمجھنے کے بجائے اسے ایک نئے انداز میں شروع کیا۔ انہوں نے کھیلوں میں حصہ لینا شروع کیا اور مختلف مقابلوں میں اعزازات اور تمغے حاصل کیے۔ ان کی کہانی یہ بتاتی ہے کہ زندگی میں حادثات یا مشکلات آ جائیں تو انسان کو ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ اگر آپ کے اندر خوداعتمادی ہے، عزم ہے اور کچھ کرنے کی خواہش ہے تو آپ اپنے حالات سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ امتیازی سلوک ہو، معاشرتی مشکلات ہوں یا کوئی ذاتی آزمائش، یہ سب رکاوٹیں ضرور ہیں، لیکن اگر آپ ان کی وجہ سے رک جائیں تو آپ آگے نہیں بڑھ سکتے۔ اصل فرق اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان فیصلہ کرتا ہے کہ میں اپنی مشکلات کے باوجود اپنا مقام بناؤں گا۔ میرے خیال میں میجر جنرل نوئیل کھوکھر کی یہ کتا ب صرف ماضی کے ہیروز کی کتاب نہیں بلکہ مستقبل کے ہیروز کے لیے بھی ایک کتاب ہے۔117 صفحات پر مشتمل یہ کتا ب انگریزی میں ہے جو رواں سال شائع ہوئی۔
آج ایک ایسے دُور میں جب کتابوں کا مطالعہ کم ہو رہا ہے، نوجوان ڈیجیٹل ذرائع میں زیادہ وقت گزار رہے ہیں، اور دوسری طرف پاکستان کو دہشت گردی، مذہبی انتہاپسندی اور مختلف داخلی و خارجی چیلینجز کا سامنا ہے، ایسی کتابوں کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ضروری ہے کہ ہم اپنے ملک، اپنے اداروں اور اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہوں۔ خاص طور پر پاکستان کے نوجوانوں اور مسیحی نوجوانوں کے لیے یہ کتاب ایک روشن مثال پیش کرتی ہے۔ اگر کوئی نوجوان مسلح افواج کا حصہ بننا چاہتا ہے، اعلیٰ کارکردگی حاصل کرنا چاہتا ہے یا اپنے ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہے تو اس کے سامنے ان ہیروز کی زندگیاں موجود ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے مشکل حالات سے نکل کر اپنا نام بنایا، رکاوٹوں کو عبور کیا اور ثابت کیا کہ اگر انسان کے اندر جذبہ، عزم، حوصلہ اور کچھ کر دکھانے کی تڑپ ہو تو وہ اپنے حالات سے کہیں آگے جا سکتا ہے۔ میجر جنرل نوئیل کھوکھر، آپ نے صرف ایک کتاب نہیں لکھی بلکہ ان لوگوں کی یادوں اور قربانیوں کو محفوظ کرنے کی کوشش کی ہے جنہوں نے پاکستان کے دفاع، ترقی اور تعمیر میں اپنا کردار ادا کیا۔Voices of Valour ان ہیروز کے لیے خراجِ تحسین بھی ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک پیغام بھی ہے۔
ہم اس کتاب کے مصنف میجر جنرل نوئیل کھوکھر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے ان گم نام اور کم معروف ہیروز کی کہانیاں، مستقبل کے ہیروز تک پہنچانے کی کوشش کی۔ یہ کہانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ تاریخ صرف بڑے ناموں سے نہیں بنتی؛ تاریخ ان بے شمار لوگوں کی قربانیوں، کردار، حوصلے اور خدمت سے بنتی ہے جو اپنے وطن کے دفاع کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔