لیوی کا جھگڑا

پاکستان ان دنوں بہت مصروف ہے۔ ان مصروفیات میں کچھ کام یابیاں ہیں، کچھ پریشانیاں ہیں اور کچھ دکھ ہیں۔

farooq.adilbhuta@gmail.com

پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ہماری ذاتی زندگی کو کسی طرح متاثر کیا ہے، اس کا اندازہ ڈاکٹر انعام الحق جاوید کے ایک اعلان سے ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب فنا فی الادب ہیں۔ اردو پنجابی ادب میں ان کی خدمات ان گنت ہیں۔

گزشتہ پچاس پچپن برس کی قومی زندگی میں ایسا بہت کچھ ہوا جس نے اہل پاکستان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ان مواقع پر ڈاکٹر صاحب بھی یقیناً پریشان ہوئے ہوں گے لیکن ایسا کہتے ہوئے کبھی نہیں پائے گئے کہ آج سے میں نے اخبار لگوا لیا ہے تا کہ حالات حاضرہ سے با خبر رہ سکوں لیکن اب یہ روایت ٹوٹ چکی ہے۔ انھوں نے اخبار لگوانے کا اعلان کر دیا ہے اور بتایا ہے کہ یہ کام انھوں نے اس لیے کیا ہے تا کہ جان سکیں کہ پیٹرول کی قیمت میں ہر آنے والی صبح کتنا اضافہ ہو جاتا ہے۔

پاکستان ان دنوں بہت مصروف ہے۔ ان مصروفیات میں کچھ کام یابیاں ہیں، کچھ پریشانیاں ہیں اور کچھ دکھ ہیں۔ کامیابیاں تو غیر معمولی ہیں جیسے مکہ پیکٹ۔ قبلہ مجیب الرحمن شامی نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ یہ معاہدہ مسلم امہ کے دل کی آواز ہے۔ انھوں نے درست فرمایا۔ مسلم امہ کی یہ ایسی خواہش ہے جو ایک سو سات سال آٹھ مہینے اور ستائیس دن کے بعد پوری ہوئی۔

مسلم امہ کی کمزوری اور پریشانی کا سفر پہلی جنگ عظیم کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ ایک صدی سے زاید کا یہ عرصہ مسلمانوں نے مسلسل پریشانیوں میں گزارا۔ اتنا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد مکہ مکرمہ مسلمانوں کے سیاسی مرکز کے طور پر ابھرا ہے اور حرم کی پاسبانی کے لیے مسلمان متحد ہونے لگے ہیں۔ اس کام یابی کے لیے ظاہر ہے کہ پاکستان کی خدمات غیر معمولی ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس مقصد کے لیے دن رات ایک کر دیا۔

ہماری ایک اور پریشانی وہ ہے جسے محسن نقوی نے زبان دی۔ ان کے تہلکہ خیز بیان کے بعد ہر پاکستانی یہ جاننے کے لیے بے چین ہے کہ نئے صوبے بنیں گے یا نہیں۔ پیپلز پارٹی نے تو اسمبلی میں ایک اور قرارداد منظور کر کے بتا دیا ہے کہ قطعی نہیں لیکن محسن نقوی کا اصرار ہے کہ یہ سفر اب رکنے والا نہیں۔

ایک پریشانی اڈیالہ والوں کی بھی ہے۔ یہ پریشانی ایسی ہے جس نے انھیں ان تمام پریشانیوں سے بے نیاز کر دیا ہے جن میں باقی اہل وطن گھلتے جارہے ہیں جیسے نئے صوبوں کی بحث اور مکہ کا دفاعی اتحاد۔ ان کی پریشانی عمران خان ہیں۔ وہ ان سے ملاقات چاہتے ہیں، علاج چاہتے ہیں اور رہائی چاہتے ہیں۔ باقی دنیا جو چاہے سوچے جو چاہے کرے، ان کی بلا سے۔ یہاں تک کہ پیٹرول عام آدمی کی دسترس سے باہر ہو جائے، ان کا مسئلہ یہ نہیں ہے۔ پی ٹی آئی والے پہاڑ جیسے بڑے مسئلے سے لاتعلق ہیں تو اس میں ان کا کوئی قصور نہیں کیوں کہ یہی اس جماعت کی روایت ہے۔

2013 ء میں عمران خان اپنے منشور کے اجرا کے لیے کراچی تشریف لائے تو اس موقع پر مجھے ان سے انٹرویو کا اعزاز حاصل ہوا۔ میں نے ان سے بہت سے سوال کیے، ایک سوال یہ بھی تھا کہ اگر آپ اقتدار میں آ گئے تو آئین شکنی کے بارے میں آپ کا رویہ کیا ہوگا؟

'کون سی آئین شکنی؟'

عمران خان نے جوابی سوال کیا۔ آئین اور آئینی امور سے ان کی لاتعلقی نے مجھے حیران کیا لیکن یہ وقت حیرت کا نہیں بلکہ انٹرویو کو آگے بڑھانے کا تھا۔ میں نے انھیں بتایا کہ جنرل مشرف دوبار آئین شکنی کے مرتکب ہوئے ہیں، میرا سوال اس بارے میں ہے۔

خان نے سوال سن کر ذرا سے توقف کے بغیر جواب دیا کہ یہ میرا نہیں نواز شریف کا مسئلہ ہے۔ اس نوعیت کے سیاسی ماحول میں پرورشِ پانے والی جماعت اگر پیٹرول کے آسمان کو چھوتے ہوئے نرخوں سے لاتعلق ہے تو اس میں حیرت کی بات کیا ہے۔ یہ پریشانی حافظ نعیم اور جماعت اسلامی کو ہی زیب دیتی ہے کہ وہ اس مسئلے پر احتجاج کرے جس کا تعلق براہ راست عوام سے ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ جماعت اسلامی اس معاملے میں معاشرے کے ضمیر کا کردار ادا کر رہی ہے۔ کیا یہ جدوجہد آئندہ انتخابات میں جماعت اسلامی کی کام یابی کی نوید بن سکتی ہے؟

جماعت اسلامی کی سیاسی پیش رفت اپنی جگہ ایک اہم سوال ہے لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا اس کا احتجاج پیٹرولیم لیوی میں کمی کرا سکے گا؟ سال بھر پہلے جماعت اسلامی سڑکوں پر آئی تو اس کے نتیجے میں آئی پی پیز کی لوٹ مار میں کمی آ گئی تھی۔ اس بار اس نے پیٹرولیم لیوی پر توجہ دی ہے۔ جماعت اسلامی نے پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو موضوع نہیں بنایا بلکہ لیوی کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ ظاہر کرتا ہے کہ حافظ نعیم الرحمن اور ان کے ساتھیوں نے بہت سوچ سمجھ کر مطالبہ کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ عالمی حالات کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ممکن نہیں، اگر کسی معاملے میں کمی ممکن ہے تو وہ لیوی ہی ہے۔

لیوی کیا ہے؟ کیا اس کا تعلق پیٹرول کی قیمت خرید یا اس کی نقل و حمل وغیرہ سے ہے؟ بالکل نہیں۔ اس کا تعلق پاکستان کی کمزور معیشت سے ہے۔ حکومت اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے لیوی عاید کرتی ہے۔ لیوی ایک ایسی چیز ہے جس سے عوام کی جیبوں پر بوجھ بھی پڑتا ہے اور کبھی کبھار انھیں سہولت بھی مل جاتی ہے۔ سہولت تب ملتی ہے جب عالمی سطح پر نرخوں میں بہت زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے تو حکومت لیوی میں کمی کر کے عوام کو سہولت دیتی ہے۔ خیر، جو بھی ہو، لیوی ایک ایسا ٹیکس ہے جس سے عوام بھی پریشان ہیں اور حکومت بھی کیوں کہ ہر صبح پیٹرولیم مصنوعات کے بڑھے ہوئے نرخ اسے جھٹکا دیتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ لیوی سے چھٹکارا کیسے ملے؟ یہ آسان نہیں۔ حکومت جو اخراجات کرتی ہے، وہ دوچار مدوں میں نہیں ہوتے بلکہ یہ ریاست کے پیچیدہ نظام اتنے گہرے پیوست ہیں کہ بعض اوقات پکڑائی بھی نہیں دیتے۔ اقتصادی مسائل میں گردن گردن تک دھنسی ہوئی ریاست اپنی آمدنی کے آسان ذریعے سے نجات کیسے حاصل کرے؟ اس سوال کا آسان جواب کسی کے پاس نہیں ہے، اسی لیے احسن اقبال نے حافظ صاحب سے مذاکرات کے دوران کہا کہ جماعت اس ضمن میں کوئی قابل عمل فارمولا پیش کرے تو حکومت اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔ جماعت اسلامی کی قیادت میں ٹیکنوکریٹ موجود ہیں خاص طور پر سید فراست شاہ جو زندگی بھر تیل اور گیس کے شعبے میں کام کرتے رہے ہیں۔

انھیں حکومت کی ساتھ مذاکراتی کمیٹی میں بھی شامل کیا گیا ہے۔ وہ مذاکرات کے دوران یقینا کچھ ایسی تجاویز پیش کر سکیں گے جو مسئلے کے حل میں معاونت کریں گی لیکن ان کی تمام تر مہارت کے باوجود ایک مشکل اور بھی ہے۔ اس مشکل کا تعلق تیل اور گیس کے شعبے سے نہیں بلکہ معیشت اور ریاست کے اخراجات سے ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے تیل اور گیس کے شعبوں میں مہارت سے زیادہ ریاستی امور کے فہم درکارہے تا کہ بھرپور قومی اتفاق رائے کے تحت اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔ یہ کام این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ آثار بتاتے ہیں کہ ملک اسی طرف بڑھ رہا ہے۔

Load Next Story