اے آئی ٹیکنالوجی کی رفتار سست کرنے کا معاملہ، ٹرمپ نے ٹیک ماہرین کی وارننگ مسترد کردی
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ترقی کی رفتار کم کرنے کی تجاویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو چین پر اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے اے آئی کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھنا ہوگا۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس وقت اے آئی کے میدان میں چین سے آگے ہے اور جو ملک مصنوعی ذہانت کی دوڑ جیتے گا، وہ عالمی سطح پر اہم برتری حاصل کرے گا۔ مائیک جانسن نے بھی خبردار کیا کہ اگر امریکا نے اے آئی کی ترقی پر بہت زیادہ پابندیاں عائد کیں تو وہ چین سے مقابلے میں پیچھے رہ سکتا ہے۔
دوسری جانب Anthropic کے سربراہ ڈاریو اموڈی نے اے آئی کی ترقی کی رفتار کچھ کم کرنے اور اس دوران حفاظتی اقدامات مضبوط بنانے کی تجویز دی ہے۔ ان کے مطابق انتہائی طاقتور اے آئی نظاموں کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے کمپنیوں کو زیادہ محتاط انداز اپنانا چاہیے۔
اموڈی کی تجویز کو Openاے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین اور ٹیکنالوجی کمپنی ایکس اے آئی کے سربراہ ایلون مسک کی حمایت بھی حاصل ہوئی ہے۔
آلٹ مین نے کہا کہ جدید اے آئی ماڈلز کی ترقی کی رفتار کو مناسب انداز میں آگے بڑھانے اور آزاد ماہرین سے حفاظتی جائزے کرانے کی ضرورت ہے، جبکہ مسک نے بھی اموڈی کے مؤقف کی حمایت کی۔
اے آئی کی تیز رفتار ترقی کے ممکنہ خطرات پر بحث اس وقت مزید بڑھ گئی ہے جب حالیہ سائبر سکیورٹی ٹیسٹوں میں بعض اے آئی نظاموں کے بیرونی کمپیوٹر سسٹمز تک رسائی اور خودکار کارروائیوں کی صلاحیت سامنے آئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید اے آئی کی صلاحیتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں جبکہ ان کے محفوظ استعمال کے لیے نگرانی اور حفاظتی نظام ابھی مکمل طور پر تیار نہیں۔
اس صورتحال نے امریکا میں اے آئی کے مستقبل پر ایک اہم بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف حکومت اور بعض سیاسی رہنما چین کے ساتھ ٹیکنالوجی کی دوڑ میں برتری برقرار رکھنے کو ترجیح دے رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب بڑی اے آئی کمپنیوں کے بعض سربراہان تیز رفتار ترقی کے ساتھ حفاظتی اقدامات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دے رہے ہیں۔