سونا بنانے کی کیمیا اور ننگے پاؤں چلتے عوام
ہمارے سماج کا سب سے بڑا اور روح کو چھید دینے والا المیہ یہ ہے کہ اس دھرتی پر بسنے والے عام آدمی کی خون پسینے کی محنت کبھی اس کے حالات نہیں بدل سکی۔
ایک طرف وہ انسان ہے جو صبح کے دھندلکے سے لے کر رات کی تاریکی تک تپتی دھوپ اور سخت سردی میں ہڈیاں گھلاتا ہے، اپنے ہاتھوں کے چھالوں کی پروا کیے بغیر ریاست کے پہیے کو روانی دیتا ہے، مگر جب شام کو گھر لوٹتا ہے تو اس کے بچے دو وقت کی روٹی، علاج اور بنیادی ضرورتوں کو ترستے رہ جاتے ہیں۔
دوسری طرف وہ بااثر طبقہ ہے جس کے مال و اسباب میں دن دگنی اور رات چوگنی وسعت آتی چلی جاتی ہے۔ آخر یہ کون سا نظام ہے جو محنت کش کی کمائی کا اخلاص چوس لیتا ہے اور ہوس کے پجاریوں کی جھولیاں بھرتا رہتا ہے؟
اسی سچائی کی کوکھ سے وہ تلخ اور دردناک سوال جنم لیتا ہے جو میرے اور اس ملک کے کروڑوں محنت کشوں کے سینے کی جلن ہے۔ میں ایک غریب انسان ہوں، میرا باپ بھی غریب تھا، اور میرا دادا بھی اپنی پوری زندگی بے بسی، کسمپرسی اور تنگ دستی کی لکیریں پیٹتے پیٹتے اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ نسل در نسل محنت اور مشقت کا یہ لامتناہی سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوتا، بلکہ میری آنے والی اولاد اور پھر ان کی اولاد بھی اسی مشقت کی سنگین چکی میں پستی چلی جائیں گی۔ ہمارا اپنی دھرتی اور اپنے حکمرانوں سے یہ سیدھا اور روح کو جھنجھوڑنے والا سوال ہے کہ ہم تین تین نسلوں سے دن رات ایمانداری کے ساتھ خون پسینہ بہانے کے باوجود آج تک امیر ہونا تو دور کی بات، ایک پرسکون اور باوقار زندگی کیوں حاصل نہیں کر سکے؟
کیا اس ملک میں سچی محنت اور کامیابی کا رشتہ ہمیشہ کے لیے ٹوٹ چکا ہے؟ ہمارے آباؤ اجداد نے کھیتوں میں ہل چلائے، کارخانوں میں پسینہ بہایا، اینٹیں اور پتھر ڈھوئے اور اپنی جوانیوں کا ایندھن بنا کر اس ملک کی عمارت کھڑی کی۔ انہوں نے کبھی کسی کا حق نہیں مارا، کبھی چوری یا ڈکیتی نہیں کی، اور ہمیشہ پاکیزگی و حلال کے دائرے میں رہ کر مشقت کی۔ لیکن اس کے باوجود نسل در نسل غربت کا یہ بھیانک سایہ ہمارے ساتھ کیوں چپکا ہوا ہے؟ یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ غلطی ہماری نیت یا ہماری محنت میں نہیں ہے، بلکہ غلطی اس نظام کی ساخت میں ہے جو غریب کے جسم سے پسینہ نچوڑ کر اشرافیہ کے محلوں کی کھڑکیوں کو روشن کرتا ہے۔
جب ہم اپنے ارد گرد کے ماحول اور اس معاشی جکڑ بندی کا گہرائی سے جائزہ لیتے ہیں، تو اس نسلی غربت کی کئی تلخ اور خوفناک وجوہات سامنے آتی ہیں:
اول: قانون بنانے والوں اور تاجروں کا گٹھ جوڑ
کسی بھی باوقار معاشرے میں دکان اور عدالت، تجارت اور حکمرانی کو الگ رکھا جاتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں المیہ یہ رہا کہ جن لوگوں نے پالیسیاں بنانی تھیں، وہ خود بڑے بڑے کارخانوں اور تجارتوں کے مالک نکلے۔ جب قانون بنانے والا خود تاجر ہو گا، تو وہ غریب عوام کی بھلائی کے لیے نہیں بلکہ اپنے منافع اور اپنی تجارتی سلطنت کو بچانے کے لیے فیصلے کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ غریب کی محنت کی قیمت کم رکھی گئی اور سیٹھ کی تجارتی مراعات میں دن رات اضافہ کیا گیا۔
دوم: ناانصافی کا ظالم ٹیکس نظام
ہمارے ہاں کا ٹیکس نظام غریب دشمنی کی بدترین مثال ہے۔ جب ایک کلو آٹا، ایک لیٹر پیٹرول یا ایک کلو چینی پر یکساں ٹیکس لگایا جاتا ہے، تو اس کا سب سے بڑا تازیانہ غریب کی پیٹھ پر پڑتا ہے۔ وہ مزدور جو بمشکل ایک ہزار روپیہ دہاڑی کماتا ہے، اور وہ شخص جو لاکھوں کماتا ہے، دونوں ایک ہی جیسا ٹیکس دیتے ہیں۔ یہ ناانصافی غریب کی چھوٹی سی بچت کا امکان بھی ختم کر دیتی ہے اور اس کی آنے والی نسلوں کو غریبی کے پنجرے میں قید رکھتی ہے۔
سوم: سیٹھوں کی سرپرستی اور غریب کی محرومی
ریاستی خزانے سے ترقی کے نام پر بڑی بڑی رعایتیں اور بھاری قرضے ہمیشہ ان لوگوں کو دیے گئے جو پہلے سے وسائل کے مالک تھے۔ مگر ان سہولتوں کے ثمرات کبھی نچلی سطح پر عام مزدور کی مزدوری میں اضافے کی صورت میں ظاہر نہ ہو سکے۔ کسان اپنی فصل کی لاگت کے لیے ترستا رہا، اور مل مالکان اس کی سستی فصل خرید کر امیر سے امیر تر ہوتے گئے۔ اس طرح دولت کا رخ صرف چند خاندانوں کی طرف موڑ دیا گیا۔
چہارم: تعلیم اور صحت کی منڈی
تعلیم اور صحت کسی بھی غریب کے لیے حالات بدلنے کی آخری امید ہوتے ہیں۔ مگر جب تعلیم اور علاج کو ایک بکاؤ مال بنا دیا جائے اور سرکاری سکولوں و ہسپتالوں کو خستہ حال کر دیا جائے، تو غریب کی کمر ٹوٹ جاتی ہے۔ غریب کا بچہ مہنگے سکولوں اور یونیورسٹیوں کی فیسیں ادا نہیں کر سکتا، جس کی وجہ سے وہ علم کے نور اور ترقی کی دوڑ سے محروم رہ جاتا ہے۔ یوں تعلیم جو غریبی کا خاتمہ کر سکتی تھی، خود طبقاتی تقسیم کا ذریعہ بن جاتی ہے اور غریب کا بچہ بڑا ہو کر دوبارہ غریب مزدور بننے پر مجبور ہوتا ہے۔
پنجم: مہنگائی کا ڈسنا اور نسلی غربت
جب روپیہ روز بروز سستا اور مہنگائی بے قابو ہوتی ہے، تو غریب کی رات دن کی محنت کا پھل مہنگائی کا اثر نگل جاتا ہے۔ ہمارے دادا، ہمارے والد اور پھر ہماری اپنی نسل کا سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ ہم نے جتنی بھی محنت کی، مہنگائی نے ہماری معمولی بچت کو ختم کر دیا۔ غریب کے پاس کبھی اتنی رقم جمع ہی نہیں ہو پاتی کہ وہ اپنے بچوں کے لیے کوئی چھوٹا موٹا روزگار قائم کر سکے، جبکہ بااثر لوگ اپنے اثاثوں کے بل بوتے پر روز نیا محل کھڑا کر لیتے ہیں۔
ششم: غیر ملکی قرضوں کا بوجھ اور غریب کی گردن
ریاستی حکمرانوں کی غلط ترجیحات اور غیر پیداوری اخراجات کی وجہ سے جو اندھا دھند قرضے لیے جاتے ہیں، ان کی واپسی کا بوجھ آخر کار غریب پر ہی ڈالا جاتا ہے۔ بجلی کے بلوں، گیس کے نرخوں اور بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں یہ قرضے غریب کی جیب سے نکالے جاتے ہیں۔ یوں آنے والی نئی نسلیں پیدا ہوتے ہی قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتی ہیں اور ان کی محنت کا بڑا حصہ ٹیکسوں کی نذر ہو جاتا ہے۔
یہ کسی ایک شخص، ایک گھرانے یا ایک دور کا قصہ نہیں ہے، بلکہ ہمارے پورے نظام کی اس تاریخی ناانصافی کا ماتم ہے جو نسل در نسل غربت کو آگے منتقل کرتی جا رہی ہے۔ جب تک اس ملک میں محنت کو اس کا پورا اور باوقار معاوضہ نہیں ملے گا، جب تک تعلیم اور صحت پر ہر انسان کا برابر کا حق تسلیم نہیں کیا جائے گا، اور جب تک ٹیکس کا نظام انصاف پر قائم نہیں ہو گا، تب تک ایک غریب کا باپ، اس کا دادا اور اس کی آنے والی نسلیں یونہی محنت کی چکی میں پستی رہیں گی۔ قلم کاروں پر فرض ہے کہ وہ اس نسلی معاشی ظلم کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہیں تاکہ عام محنت کش کو بھی اس دھرتی پر ایک باوقار اور پرسکون زندگی گزارنے کا حق مل سکے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔