میر رضا کیس: مجھے کہا گیا ہلکا ہاتھ رکھیں، ڈاکٹر سمعیہ کا دھمکیاں ملنے اور ہراساں کیے جانے کا انکشاف

جوڈیشل کمیشن کی سماعت کے دوران پولیس سرجن نے یہ انکشاف کیا اور کہا کہ میرا گھر کا ایڈریس تک سوشل میڈیا پر شیئر کردیا گیا

کراچی کے مقتول تاجر میر رضا کیس کے جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کے دوران پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ نے فرانزک شواہد، پوسٹ مارٹم اور مبینہ دباؤ سے متعلق اہم انکشافات کیے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی کے مقتول تاجر میر رضا کیس کی جوڈیشل کمیشن میں سماعت کے دوران پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ نے انکشاف کیا کہ انہیں خودکشی قرار دینے کے لیے دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا، دو روز تک موٹر سائیکل پر پیچھا کیا گیا، بولا گیا خودکشی لکھ دیں تو ’’ہلکا ہاتھ‘‘ رکھا جائے گا، گھر اور شوہر کا نام سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ نئی تحقیقیاتی کمیٹی کے سربراہ ڈی آئی جی عامر فاروقی نے رپورٹ میں خودکشی سے مطابقت نہ رکھنے والی بات نہ لکھنے کا بولا۔

کمیشن نے ایس ایچ او فیروز آباد عدیل افضال سے جرح کے دوران اصل روزنامچہ پیش نہ کرنے، سی سی ٹی وی کے سیزر میمو اور ڈی وی آر کا ریکارڈ موجود نہ ہونے اور اہم شواہد کے میمو نہ بنانے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

سندھ ہائیکورٹ میں جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں میر رضا کیس کے جوڈیشل کمیشن کی کارروائی ہوئی۔ مدعی مقدمہ کے وکیل جبران ناصر ایڈووکیٹ، پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ، اہلخانہ، ایس ایچ او فیروز آباد کارروائی پہنچے۔ کمیشن نے پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ کو روسٹرم پر طلب کرلیا۔

ڈاکٹر سمیعہ نے کہا کہ نمونے بھیجنے میں تاخیر سے نتائج فالس نیگیٹیو آسکتے ہیں۔ جسٹس عمر سیال نے پوچھا کہ 3 اگست کو آپ نے خط لکھ کر قبر کشائی کی سفارش کی تھی۔

ڈاکٹر سمعیہ نے کہا کہ 2 اگست کو ایس ایس پی ایسٹ کو گفتگو میں خدشات کا اظہار کیا تھا۔ 3 اگست کو قبر کشائی کے لئے خط لکھا، 5 اگست کو پولیس کے ساتھ میٹنگ میں بھی قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کے لئے کہا۔

جسٹس عمر سیال نے پوچھا کہ میڈیکل بورڈ کی تشکیل کس طرح کی جاتی ہے؟ ڈاکٹر سمیعہ نے کہا کہ عدالت سیکریٹری صحت یا ڈی جی ہیلتھ سروسز کو ہدایت جاری کرتی ہے۔ عدالت براہ راست پولیس سرجن کو بھی ہدایت جاری کرسکتی ہے۔ میر رضا کے قبر کشائی کے عدالتی احکامات موصول ہونے کے بعد سیکریٹری صحت اور دیگر کو مطلع کیا تھا۔ میڈیکل بورڈ میں تجربہ اور صلاحیتوں کی بنیاد پر ٹیم تشکیل دی جاتی ہے۔ میر رضا کیس میں میڈیکل بورڈ میں قابل ترین ماہرین شامل کئے تھے۔

ڈاکٹر سمعیہ نے بتایا کہ میر رضا کے دوسرے پوسٹ مارٹم کے دوران 263 تصاویر بنائی گئیں۔ جسٹس عمر سیال نے پوچھا کہ سندھ میڈیکو لیگل ایکٹ کا نفاذ ہوچکا ہے؟ ڈاکٹر سمیعہ نے کہا کہ رولز نوٹیفائی نہیں ہوئے ہیں لیکن ایکٹ نافذ ہے۔

جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ نے 2024 میں رولز نوٹیفائی کرنے کا حکم دیا تھا لیکن تاحال رولز نوٹیفائی نہیں ہوئے۔ ڈاکٹر سمیعہ نے کہا کہ نئے میڈیکل بورڈ میں میرے علاوہ باقی تمام ارکان تبدیل کئے گئے۔ اطلاع کے مطابق اہل خانہ نے نئی ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ قبر کشائی والے دن ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے ڈی جی ہیلتھ سروسز کا آرڈر بھیجا جس کے مطابق ٹیم میں اپنی مرضی سے کسی بھی رکن کو شامل کرنے کی اجازت دی گئی۔ ایڈیشنل آئی جی کی کال کے بعد پرانی ٹیم کے ارکان کو بھی قبر کشائی کے لئے طلب کیا جبہک جوڈیشل مجسٹریٹ نے قبر کشائی کی کارروائی منسوخ کی جبکہ سیکریٹری صحت نے پرانے میڈیکل بورڈ کو بحال کیا۔

جسٹس عمر سیال نے پوچھا کہ یہ بورڈ اچانک کیوں تبدیل ہوا؟ڈاکٹر سمیعہ نے کہا کہ مجھے وجوہات کا علم نہیں۔ ڈپٹی سیکریٹری صحت نے زبانی ہدایت دی کہ آپ خود کو میڈیکل بورڈ سے علیحدہ ہونا چاہیے۔ میں نے بتایا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے آرڈر میں میرا نام شامل ہے۔ 8 اگست کو قبر کشائی کی کارروائی میں صرف پرانی ٹیم موجود تھی۔ ہم نے کسی غیر متعلقہ فرد کو اجازت نہیں دی۔

انہوں نے کہا کہ قبر کشائی کے دوران ہم نے فیملی کو بھی وہاں جانے کی اجازت نہیں دی تھے۔ فیملی کے لئے وہاں موجود رہنا بہت پریشان کن ہوسکتا تھا، ہم نہیں چاہتے کہ انکے پیاروں کی یادیں ایسی ہوں۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ نے کمیشن کو قبر کشائی کی کارروائی سے متعلق پریزینٹیشن دیاور بتایا کہ رضا کے سر پر چوٹ کا نشان موجود تھا، ناک کی ہڈی ٹوٹی ہوئی، سر کے عقبی حصے پر سخت چیز لگنے کا نشان تھا۔ اور یہ تمام چوٹیں موت سے پہلے کی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ میر رضا کے چہرے کی ڈی کمپوزیشن باقی حصوں جیسی نہیں تھی۔ پوسٹ مارٹم کی کارروائی میں صرف وہی معلومات شامل کی گئیں جن پر تمام ارکان کی متفقہ رائے تھے۔ میر رضا کو لگنے والی گولی سے پسلیاں فریکچر ہوئیں۔ گولی نے میر رضا کے پھیپھڑے اور دل کو نقصان پہنچایا۔ سینے کے نشان کو گولی داخل ہونے کا پوائنٹ بتایا گیا وہ غلط تھا۔

ابتدائی پوسٹ مارٹم میں ہاتھوں جلد خراب ہونے کو ڈی کمپوزیشن کا نتیجہ قرار دیا۔ میر رضا کے ہاتھ اور پیروں پر کیمیکل سے جلنے کے نشانات تھے۔ ہم نے چار ماہرین جلد سے مشاورت کی۔ ہائیڈرو کلورک ایسڈ پولیسٹر کو کاربن میں تبدیل کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ میر رضا کی شرٹ پر کاربنائزیشن موجود تھی جبکہ انسانی جسم میں تقریبا پانچ سے 6 لٹر ہوتا ہے۔ کرائم سین پر خون کم مقدار میں ملا۔ دل پر زخم کی صورت میں بہت زیادہ خون ملنا چاہیے تھا۔ میر رضا کی پشت پر کسی ڈی کمپوزیشن کا نشان نہیں۔

جسٹس عمر سیال نے استفسار کیا کہ ہائیڈرو کلورک ایسڈ جو ملا ہے کیا وہ پیٹ سے بھی ملا؟ ڈاکٹر سمیعہ نے کہا کہ ہم نے تصاویر میں دیکھا کپڑوں اور جسم پر بھی ہم نے نشانات دیکھے، جب گیسٹرک ایسڈ ریلیز ہو جائے جیسا کہ الٹی کردیتے ہیں اس میں بھی ہوگا۔ ایک چیز اہم کنسرٹیڈ ہائیڈرو کلورک ایسڈ جیسے نشانات ہاتھ پر دیکھ ہیں۔ پیچھے سے گولی لگ کر ہارٹ میں لگ کر باہر نکل رہی ہے ہائیڈو کلورک ایسڈ معدے سے نہیں نکل سکتا ہے اتنا زیادہ نہیں جلا سکتا ہے اور یہ سپلیش ہے۔ معدے میں نہیں ملا۔ معدے کے نمونے لیبارٹری کو بھیجے گئے تھے جو اپنی جگہ پر تھا۔ معدے سے کوئی چیز لیک نہیں ہوئی ہے۔ پوسٹ مارٹم 329 کی فائنل رپورٹ کی طرف جاؤں گی۔ ہم نے پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ میں اپنی فائنڈنگز شامل کی ہیں۔

پولیس سرجن نے کہا کہ جسم میں موجود ایسڈ اس طرح کے نشانات نہیں لاتا ہے, انڈسٹریل ایسڈ جب جسم پر پڑتا ہے تو اس طرح کے برنز دیکھنے کو ملتے ہیں۔ جو ہاتھ پر نشان موجود تھے وہ صرف ہائیڈوکلوریڈ ایسڈ سے ہی ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر اسامہ کی غلطیاں ضرور تھی لیکن بہت سی جگہ پر وہ ٹھیک بھی تھا۔ آخری پوسٹ مارٹم رپورٹ کو اگر دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ ہم نے قبر کشائی کے دوران کیا کیا معائنہ کیا۔ ڈاکٹر اسامہ نے خون کا سیمپل دل کی طرف سے لیا تھا۔ ڈاکٹر اسامہ نے مختلف اعضاء کے سیمپلز اکٹھے کرکے لیبارٹری بھیجے تھے۔ 8 اگست کو ہم نے کنفرم کرلیا تھا کہ گن شارٹ پیچھے کی طرف سے ہی تھا۔ ہائیڈرولک ایسڈ میں گیس کو لیکوڈ میں تبدیل کرکے بنایا جاتا ہے۔ شرٹ سے ہائیڈرولک ایسڈ کی باقیات باقاعدہ ملی تھیں۔ اگر میں نے تفصیل سے تمام چیزوں کو نا دیکھا ہوتا تو پھر اس کو ڈی کمپوزیشن کہا جاسکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایسڈ کے حوالے سے مجھے گیارہ تاریخ کو کنفرم ہوگیا تھا جو لیب کی رپورٹ کے بعد ہوا تھا۔ اگر کوئی اس فائنل رپورٹ کو پڑھ لیں تو بھی واضح طور پر لکھا گیا ہے ایسڈ کے بارے میں۔ ڈاکٹر اسامہ نے دل سے خون کے نمونے ،معدے کے نمونے ،شرٹ کے نمونوں سمیت چار لے کر لیب بھیجے گئے تھے۔ تمام نمونے شبیر لغاری نے کراچی یونیورسٹی میں جمع کروائے تھے۔ شرٹ کے دونوں طرف بلٹ لیڈ وغیرہ کے نمونے ملے ہیں۔ انٹری وڈ پیچھے سے لگنے کی تصدیق کی گئی رپورٹس میں۔ شرٹ سے ہائیڈرو کلورک ایسڈ ملا ہے۔

جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیئے کہ آپ بہت اچھے طریقے سے تیاری کرکے آئی ہیں۔ ڈاکٹر سمیعہ نے کہا کہ میں اپنے ہر کیس میں ایسے ہی تیاری کے ساتھ جاتی ہوں۔ کہانی انٹری وڈ سے شروع ہوئی جس کے بعد میں اس پر غور کرنا شروع کیا۔ 8 اگست کو میرے خدشات صیح ثابت ہوئے 11 کو لیب تمام سوالات کے جواب دیئے۔

مدعی مقدمہ میر حسین نے کہا کہ ہمیں جائے وقوعہ پر بتایا گیا کہ پیٹری کا تیزاب ڈالا گیا ہے۔ ڈاکٹر سمیعہ نے کہا کہ کنفرم لیب سے ہوگا کہ کونسا تیزاب تھا۔ مجھے بتایا گیاکہ یہ ہائیڈرو کلورک ایسڈ ہے۔ کوئی نہیں پڑھا رہا تھا کہ رپورٹس میں کیا لکھا ہے۔ اینستھیزیا کو خاموشی کرانے کے لیے دیا جاتا ہے۔ اگر ہارٹ سے لیے گئے نمونے اینستھیزیا ملا تو مطلب بلڈ سرکولیشن مٰیں تھا۔ مرنے کے بعد ہاف لائف کا کنسڈریشن رک جاتا ہے۔ 28 جولائی کو لاپتا ہے 29 جولائی کو ساڑھے گیارہ بجے ڈیڈ باڈی ملی۔ وہ بارہ گھنٹے تک غائب ہونے کے بعد زندہ رہا ہے۔

ڈاکٹر سمیعہ نے اہلخانہ سے پوچھا کہ کیا انہوں نے 7 دن پہلے کوئی ٹریٹمنٹ لیا تھا۔ اہلخانہ نے کہا کہ نہیں میر رضا نے کوئی میڈیکل ٹریٹمنٹ نہیں لیا تھا۔

جسٹس عمر سیال نے پوچھا کہ سمجھ نہیں آرہا اتنے تنازعات کیوں ہیں جب سب کچھ کلیئر ہے؟ کیا یہ لوگ پڑھ نہیں رہے۔ ڈاکٹر سمیعہ نے کہا کہ اپنی زندگی میں پہلی بار کیمیکل ٹارچر کا کیس دیکھا، لوکل اینستھیسیا سے احساس ختم ہوجاتا ہے، اس کا اثر ختم ہونے میں 2 سے 9 گھنٹے لگتے ہیں۔ اگر اس کو زیادہ مقدار میں نس میں لگایا جائے تو جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔

پولیس سرجن نے کہا کہ ڈاکٹر اسامہ نے اینستھیسیا کی ہاف لائف کی مدت غلط بتائی تھی۔ دوا کی ہاف لائف زندگی کے ساتھ رک جاتی ہے۔ لوکل اینستھیسیا اگر براہ راست نس میں لگایا جائے تو فوری اثر کرتا ہے۔ فرانزک رپورٹ میں انیستھیسیا کی دل میں موجودگی ثابت کرتی ہے کہ دوا خون کے نظام میں موجود تھی۔ اتنا بتایا جاسکتا ہے کہ جب میر رضا کو گولی لگی تب اسکے جسم میں اینستھیسیا موجود تھا۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر اسامہ نے حتمی رپورٹ میں موت کے وقت کو پوسٹ مارٹم سے 20 سے 22 گھنٹے پہلے قرار دیا گیا ہے۔ جسٹس عمر سیال نے پوچھا کیا اینستھیسیا اسپرے کے ذریعے دیا جاسکتا ہے؟ ڈاکٹر سمیعہ نے کہا کہ اگر اسپرے کے ذریعے انیستھیسیا دیا جاتا تو شاید رپورٹ میں سراغ نہیں ملتا۔ شہر میں ایسے واقعات بھی ہوئے جہاں شہریوں کے چہرے پر اسپرے کیا گیا اور وہ کافی بعد میں ہوش میں آئے۔ فرانزک ٹیسٹ میں مقدار کا پتہ نہیں چلایا جاتا۔ کمیشن فرانزک میں مقدمات سے متعلق جانچ کی ہدایات دے سکتی ہے۔ ہم آپ سے کیس سے ہٹ کر بھی سفارشات طلب کریں گے۔

جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیئے انیستھیسیا اتنی آسانی سے ملتا تو نہیں ہے۔ نسخے کے بغیر انیستھیسیا ملنا مشکل ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر سمیعہ نے کہا کہ عام طور پر ایسا ہوتا نہیں ہے۔

کمیشن نے پوچھا کہ میڈیکل بورڈ نے رپورٹ میں خودکشی کو خارج از امکان قرار دیا۔ کیا قبر کشائی کا مقصد خودکشی کے نکتے کو طے کرنا تھا؟ میڈیکل بورڈ کے ٹرمز آف ریفرنس کیا تھے؟

ڈاکٹر سمیعہ نے کہا کہ ہم نے جو سوالات اٹھائے تھے اسکی جانچ کرنی تھی۔ ہماری فائنڈنگز میں شواہد خودکشی سے مطابقت نہیں رکھتے۔ میر رضا کے دونوں ہاتھوں پر گن شارٹ ریزیڈیو ملا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مجھے اپنی نہیں فیملی کی فکر ہے۔ آپ نے ہمارے سوالوں کے بہت تفصیل سے جواب دیئے۔ دعا زہرا کیس کے بعد عمر کے تعین کے پروٹوکول تبدیل کئے، ڈاکٹر اسامہ کا بیان وائرل ہے۔ ڈاکٹر اسامہ کا بیان کہ ڈاکٹر سمیعہ نے مجھے پھنسایا اور وہی مجھے نکالیں گے۔ آپ کے پلیٹ فارم سے واضح کرنا چاہتی ہوں کہ میں نے ایسا نہیں کہا۔

جسٹس عمر سیال نے استفسار کیا کہ آپ کا باس کون ہے؟ ڈاکٹر سمیعہ نے کہا کہ سیکریٹری صحت میرے باس ہیں۔ کمیشن نے پوچھا کہ تو ڈاکٹر اسامہ کے باس کے باس سیکریٹری صحت ہوئے؟ ڈاکٹر سمیعہ نے کہا کہ اس کیس کے لئے میں نے اپنا کیریئر داؤ پر لگایا ہے۔ میرا 2 روز تک موٹر سائیکل پر پیچھا کیا گیا۔ مجھے دھمکیاں بھی دی گئیں۔ کہا گیا اگر خودکشی لکھ دیں تو ہلکا ہاتھ رکھیں گے۔

ڈاکٹر سمعیہ نے بتایا کہ عامر فاروقی نے کہا اپنے رپورٹ میں لکھیں گے جو وہ بتا رہے ہیں تو پھر آپکی تفتیش ہلکی ہوگی۔ عوامی سطح پر میرے خلاف مہم چلائی جارہی ہے، میرے لئے یہ ٹیسٹ کیس ہے۔ اگر دوبارہ کسی کیس میں ایسا کرنا پڑا تو میں کرونگی۔ این سی سی آئی اے کو شکایت درج کروائی ہے۔

جسٹس عمر سیال نے پوچھا کہ کیا آپ کو سیکیورٹی کی ضرورت ہے؟ ڈاکٹر سمیعہ نے کہا کہ مجھے پولیس کی سیکیورٹی کی ضرورت نہیں ہے۔ کمیشن نے کہا کہ ہم آپ کو رینجرز کی سیکیورٹی کے لئے ہدایت دیدیتے ہیں۔ ڈاکٹر سمیعہ نے کہا کہ مجھے سیکیورٹی کی ضرورت نہیں۔ جب تک معاملہ مجھ تک ہے تب تک ٹھیک ہے۔ میرا رہائشی پتہ سوشل میڈیا پر پبلک کیا گیا۔

جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم آئی جی سندھ کو لکھیں گے۔ فوکل پرسن صاحب وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ کو بتائیں۔ ہمارے لئے یہ ناقابل قبول ہے۔ ڈاکٹر سمیعہ کا بیان قلمبند کرلیا گیا۔

ایس ایچ او فیروز آباد

کمیشن نے وقفے کے بعد ایس ایچ او فیروز آباد عدیل افضال کو طلب کیا۔ جسٹس عمر سیال نے استفسار کیا کہ آپ کب سے پولیس سروس میں ہیں؟ عدیل افضال نے کہا کہ میں نے 2002 میں پولیس سروس جوائن کی۔

کمیشن نے پوچھا کہ آپ نے دو مواقع پر فیملی کو بتایا کہ آپ گولی مار دیتے ہیں۔ آپ نے اب تک کتنے ماورائے عدالت قتل کئے ہیں؟ عدیل افضال نے کہا کہ میں کبھی بھی ماورائے عدالت قتل میں شامل نہیں رہا، نا میں نے فیملی کا ایسا کہا۔

کمیشن نے پوچھا کہ آپ کی فیملی سے کب ملاقات ہوئی تھی؟ عدیل افضال نے کہا کہ میر رضا کے والد 6 سے 7 بجے کے درمیان تھانے میں چیک کرنے آئے کہ کہیں وہ تھانے میں تو نہیں۔ میں تھانے میں نہیں تھا اے ایس آئی عظیم اور کانسٹبل فرقان نے بات کی تھی۔

جسٹس عمر سیال نے استفسار کیا کہ آپ کے پاس مسنگ پرسن کی شکایت آتی ہے تو کیا کرتے ہیں۔ عدیل افضال نے کہا کہ قابل دست اندازی جرم ہوتا ہے تو مقدمہ درج کرتے ہیں۔ کمیشن نے پوچھا ان کی شکایت پر مقدمہ درج کیوں نہیں کیا گیا؟ عدیل افضال نے کہا کہ ڈیوٹی افسر نے والد سے بات کی تھی۔

کمیشن نے استفسار کیا کہ روزنامچے میں انٹری ہے؟ جس پر عدیل افضال نے کاغذ پیش کردیا۔ جس پر کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال برہم ہوگئے اور کہا کہ آپ ہمیں گھومائیں نہیں، کوئی مہر موجود نہیں بس ایسے ہی اٹھاکر لے آئے، اصل کہاں ہے۔

کمیشن نے سندھ حکومت کے فوکل پرسن پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ہمارے پاس اب تک روزنامچہ نہیں پیش کیا گیا۔ اب تک اگر کچھ تبدیل کرنا ہوگا تو کردیا ہوگا۔ فوکل پرسن صاحب آپ کا کیا فائدہ آپ یہاں بیٹھے ہوتے ہیں۔ ہم اپنے آرڈر میں یہ لکھیں گے۔ پولیس روزنامچہ پر نا مہر لگی ہے، یہ کیسی منیجمنٹ ہے۔ ہمارے سامنے اصل دستاویز کے علاوہ کچھ پیش نہیں کیا جائے۔ اصل روزنامچہ کیوں پیش نہیں کیا گیا؟تھانیدار سے پوچھے بغیر کوئی ایف آئی آر درج ہوتی ہے؟ کمیشن کے احکامات حلومت نہیں مان رہی۔

عدیل افضال نے کہا کہ اگر جرم بنتا ہے تو مقدمہ درج کیا جاتا ہے۔ کمیشن نے پوچھا کہ ایف آئی آر کے بعد کیا کیا آپ نے۔ عدیل افضال نے کہا کہ میں نے ایس آئی یو ارشد جاوید کو دیدی تھی۔

جسٹس عمر سیال نے استفسار کیا کہ پولیس پروٹوکول کیا کہتا ہے، کہ جب آپ نے تفتیش افسر کو تفتیش دیدی تو آپ کیوں تفتیش کررہے تھے۔ عدیل افضال نے کہا کہ سر ضابطہ فوجداری 156 کے تحت میں معاملہ دیکھ رہا تھا۔

جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیے کہ آپ کس کھاتے میں تفتیش کررہے تھے۔ عدیل افضال نے کہا کہ شروع میں سی سی ٹی وی کے لیئے میں نے کام کیا۔ مجھے میر حسین نے کہا تھا کہ میری مدد کریں، آپ اچھے انسان ہیں۔

جسٹس عمر سیال نے کہا کہ اس پورے علاقے میں کتنے سی سی ٹی وی فوٹیج ہیں۔ عدیل افضال نے کہا کہ ہم نے 9 جگہ سے سی سی ٹی وی لی۔ کمیشن نے کہا کہ سیزر میمو دیکھائیں۔ عدیل افضال نے کہا کہ میرے پاس سیزر میمو نہیں ہے۔ کمیشن نے پوچھا کہ آپ کتنے جگہ گئے۔ عدیل افضال نے کہا کہ میں 6 جگہ پر موجود تھا۔ پی سی نعمان نے باقی سی سی ٹی وی لی۔ کسی کا سیزر میمو موجود نہیں۔

جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیئے کہ احمد بھاردے کے وکیل نے کہا کہ سو جگہ سے سی سی ٹی وی لیے گئے، عدیل افضال نے کہا کہ نہیں سر میں نے نہیں لیے۔

جسٹس عمر سیال نے کہا کہ کیا احمد بھاردے کا وکیل جھوٹ بول رہا ہے۔ عدیل افضال نے کہا کہ جی بلکل۔ کمیشن نے تصاویر دیکھائیں۔ کمیشن نے کہا کہ یہ سب وہ تصاویر ہیں جس کا ہم کریڈٹ نہیں دے رہے۔ جو ویڈیوز آپ نے لی، اس کے ڈی وی آر کہاں ہیں، آپ نے ثبوت ضائع یا غائب کیے۔

عدیل افضال نے کہا کہ سر جو ہم نے سی سی ٹی وی ریکارڈ کی وہ ہمارے کیمروں میں موجود ہے۔ کمیشن نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کے سی سی ٹی وی کے حوالے سے کیا احکامات ہیں۔ عدیل افضال نے کہا کہ جی مجھے معلوم ہے۔

کمیشن نے کہا کہ اس کے باوجود آپ نے فالو نہیں کیا۔ جسٹس عمر سیال نے پوچھا کہ آپ کو کیا انٹرسٹ تھا اس کیس میں؟ سارے گواہوں سے آپ بات کرتے ہیں جبکہ آپ تفتیشی افسر نہیں ہیں۔ کس نے تفتیش دی تھی شبیر لغاری کو؟

عدیل افضال نے کہا کہ انچارج انوسٹیگیشن ارشد جاوید ہیں، انہوں نے شبیر لغاری کو تفتیش دی۔ جسٹس عمر سیال نے استفسار کیا کہ 30 اور 31 جولائی کو آپ فیملی کے پاس گئے تھے، آپ نے کیا بولا تھا۔

عدیل افضال نے کہا کہ میں ارشد آفریدی کے ساتھ گیا تھا، میں نے تعزیت کی اور ویڈیوز کا بتایا جو احمد نے دی۔ میں نے احمد کو کال کی تھی اور بلایا، لیکن احمد بھاردے نہیں آیا۔ میں نے میر کی بہن سے کہا کہ احمد بھاردے کو سمجھائیں۔

کمیشن نے پوچھا کہ آپ نے ویڈیو دیکھائی تھی۔ عدیل افضال نے کہا کہ جی میں نے دیکھائی۔ کمیشن نے پوچھا کہ احمد نے آپ کو ویڈیو کیوں دی۔ عدیل افضال نے کہا کہ مجھے ذیشان نے کال کرکے کہا کہ رضا پسٹل لے کر گیا۔

کمیشن نے پوچھا کہ ذیشان کون ہے۔ عدیل نے کہا کہ ذیشان میر کے والدہ کے بھائی کے دوست ہیں۔ جسٹس عمر سیال نے کہا کہ کیا آپ نے خودکشی والی بات کی تھی۔ عدیل افضال نے کہا کہ نہیں میں نے ان سے نہیں بولا۔ میر رضا کی والدہ نے کہا کہ ہمیں انہوں نے ویڈیو دیکھائی کہ دیکھیں یہ میر اکیلا جارہا ہے، یہ اس نے پسٹل نکالا، اس کے پیچھے کوئی نہیں گیا، گن شاٹ آگے سے تھا۔

عدیل افضال نے کہا کہ نہیں سر میں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔ کمیشن نے کہا کہ تو یہ لوگ کیوں جھوٹ بولیں گے۔ میر حسین نے کہا کہ میرے بھائی کو کال آئی وہ سوئم چھوڑ کر گیا، عدیل نے لوکیشن بھیجی، تو وہاں گیا، انہوں نے کہا کہ ہم نے بندے ٹریس کرلیے ہیں۔

کمیشن نے کہا کہ عدیل افضال تو مان ہی نہیں رہے ہیں کہ انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ جسٹس عمر سیال نے استفسار کیا کہ تو میر رضا کی فیملی کی ایف آئی آر کیوں درج نہیں کی گئی۔ آپ ذمہ داری ماتحت ملازمین پر نا ڈالیں۔ ہمارا تجربہ آپ سے زیادہ ہے۔ ہمیں گھمانے کی کوشش نہیں کریں۔ 28 تاریخ کو کس کی کال آئی تھی جس کے بعد مقدمہ درج ہوا؟

عدیل افضال نے مجھے کسی کی کال نہیں آئی۔ میر رضا کے والد کیوں جھوٹ بولیں گے؟ آپ نے ان کو کہا کہ لڑکے ناراض ہوکر چلے جاتے ہیں۔ عدیل افضال نے کہا کہ میں نے ایسا کچھ نہیں کہا کہ ڈیوٹی افسر نے کہا ہوگا۔

جسٹس عمر سیال نے کہا کہ آپ خود کیمرے سے فوٹیجز لے گئے اور سب غائب کردیں، آپ کیخلاف کیوں مقدمہ نہیں ہونا چاہیے، اگر میں جھوٹ بول رہا ہوں تو پھر مجھے بتائیں۔ 29 اور 30 تاریخ کو کیا آپ فیملی سے رابطے میں رہے۔ عدیل نے کہا کہ جی یہ سچ ہے۔

جسٹس عمر سیال نے کہا کہ جب مقدمہ درج ہوا تو آپکا کیوں اتنی دلچسپی تھی اس کیس میں، کتنے ایسے کیسز میں آپ دلچسپی لیتے ہیں۔ آپ نے تو تباہ کردیا تمام شواہد کو ، کسی کا بیان ریکارڈ کیوں نہیں کیا۔

عدیل افضال نے کہا کہ میں بطور ایس ایچ او کسی کو کیس کی تفتیش منتقل نہیں کرسکتا۔ ارشد جاوید نے شبیر لغاری کو تفتیش سونپی تھی۔ تو بھی میں نے تفتیش کی ہیں اس کا کوئی ریمانڈ موجود نہیں ہے۔

جسٹس عمر سیال نے پوچھا کہ کیا آپ 30 اور 31 تاریخ کو میر رضا کے گھر گیے تھے۔ عدیل افضال نے کہا کہ جی گئے تھے۔ کمیشن نے پوچھا کہ احمد نے کب آپ کو فوٹیجز دی تھیں۔ عدیل نے کہا کہ 29 کو ہم نے اسے بلایا تھا وہ نہیں آیا تھا۔ پھر اسکی بہن کو کال کی تھی اور اسے کہا تھا کہ احمد کو تفتیش کے لیے بھیجیں۔

کمیشن نے کہا کہ آپ کیوں ملنا چاہتے تھے۔ عدیل افضال نے کہا کہ احمد نے مجھے ووفلکس کی فوٹیجز بھیجیں تھیں۔ ذیشان نے بتایا کہ میر رضا اپنے ساتھ پستول لے کر گیا تھا۔ احمد 30 جولائی کو میرے پاس فوٹیجز لے کر آیا تھا۔

مجھے واٹس ایپ پر ویڈیو شئیر کی گئی تھیں۔ میر رضا کی بہن نے کہا کہ انہوں نے ہی کہا تھا کہ واقعہ خودکشی کا ہے۔ عدیل افضال نے کہا کہ میں ایسی صورتحال میں حتمی طور میں ایسا کیسے کہہ سکتا ہوں۔

جبران ناصر

جبران ناصر نے کہا کہ یہ 30 تک قاتل تلاش کررہے تھے پھر 31 کو خودکشی کہنے لگ گئے۔ عدیل افضال نے کہا کہ میں نے کبھی اہل خانہ کو کہا کہ لاش ڈیرھ دن پرانی ہے۔ میں کبھی یہ بھی کہا کہ لاش پر ایسڈ کے نشانات تھے۔ میں نے کبھی بھی لاش کو خود نہیں دیکھا بس ایمبولینس میں رکھے ہوئے دیکھا تھا۔

میر حسین نے کہا کہ 30 جولائی کو ایس ایچ او نے کہا کہ ہم نے ملزمان ٹریس کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو معلوم ہے میرا ٹریک ریکارڈ کیسا ہے۔ ایس ایچ او نے کہا کہ ہم اڑتالیس گھنٹوں میں آپ کو بتائیں گے۔

کمیشن نے ریمارکس دیئے کہ پولیس نے ملزمان ٹریس کرلیے تھے، 48 گھنٹوں بعد خودکشی قرار دیدیا۔ آپ نے فیملی سے کہا کہ باڈی ڈیڑھ دن پرانی ہے؟ عدیل افضال نے کہا کہ میں نے باڈی نہیں دیکھی۔

جسٹس عمر سیال نے استفسار کیا کہ آپ نے فیملی سے اسمارٹ واچ کیوں لی تھی؟ عدیل افضال نے کہا کہ فرانزک کے لئے واچ لی تھی۔ کمیشن نے کہا کہ کیا میمو بنایا گیا تھا؟ عدیل افضال نے کہا کہ جی میمو بنایا گیا تھا۔

کمیشن نے کہا کہ سب نے بیان میں کہا کہ صرف 2 لوگ گھر گئے تھے۔ میمو پر تیسرے اہلکار یاسر اور حماد کا نام کیسے ہے؟

جبران ناصر نے کہا کہ میمو بنانے والے اے ایس آئی فیصل رحیم بھی وہاں موجود نہیں تھے۔ کیس میں ہولسٹر بھی اے ایس آئی فیصل رحیم نے برآمد کیا۔ عدیل افضال نے کہا کہ ہم 2 گاڑیوں میں وہاں گئے تھے۔ کمیشن نے پوچھا کہ ڈی ایس پی ارشد آفریدی نے بھی بیان میں یہی کہا تھا کہ وہ آپ کے ساتھ گئے تھے۔

کمیشن سے استفسار کیا کہ فیصل رحیم تو شاہین فورس میں ہیں وہ تھانے میں کیا کررہے تھے؟ عدیل افضال نے کہا کہ فیصل رحیم تھانے ایکسٹرا ڈیوٹی بھی کرتے ہیں۔

جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کہا کہ فیملی کی موجودگی میں گواہ پولیس اہلکار کو ہی کیوں بنایا گیا؟ آپ نے فیملی سے پاسپورڈ کیوں مانگا؟ عدیل افضال نے کہا کہ سی ٹی ڈی کے پاس ٹیکنیکل ڈپارٹمنٹ ہے انہوں نے کہا تھا۔ کمیشن نے استفسار کیا کہ وہ لیٹر دکھائیں جس میں یہ کہا گیا ہو۔ عدیل افضال نے کہا کہ میرے پاس لیٹر نہیں ہے۔

کمیشن نے پوچھا اچھا یہ بتائیں جب باڈی آپ نے دیکھی نہیں تو چپل کہاں سے آئی آپ کے پاسَ عدیل افضال نے کہا کہ جائے وقوعہ سے دوسرے روز میر رضا کی چپل ملی جسکو والد کے حوالے کیا۔

کمیشن نے ریمارکس دیئے کہ اس کا بھی میمو نہیں بنایا گیا ہوگا۔ جسٹس عمر سیال نے استفسار کیا کہ گیسٹ ہاؤس کا ڈی وی آر کہاں گیا؟ وہاں سے تو ڈی وی آر اٹھا لیا تھا اس کے بعد کہاں گیا؟ عدیل افضال نے کہا کہ گلستان جوہر کے آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کے اہلکار نے سی سی ٹی وی حاصل کی تھی۔

کمیشن نے پوچھا کہ وہ ڈی وی آر اپ گاڑی میں لیکر گھوم رہے تھے۔ میر حسین نے کہا کہ انہوں نے چپل حوالگی کے وقت ڈی وی آر دکھایا اور کہا کہ گیسٹ ہاؤس کا ڈی وی آر لے لیا ہے۔

کمیشن نے استفسار کیا کہ گواہوں نے بیان دیا کہ آپ نے گواہوں کو فیملی سے ملنے اور احتجاج میں شامل ہونے سے منع کیا اور دھمکایا۔ عدیل افضال نے کہا کہ میں نے کسی گواہ کو کچھ نہیں کہا۔ سینکڑوں لوگ احتجاج میں شامل ہوتے ہیں صرف دو لوگوں کو کیوں منع کرونگا۔

کمیشن نے پوچھا کہ احمد اور عبداللہ سے آپ کے ساتھ کیا معاملہ ہے؟ یہ حسن سوریہ کون ہے؟ حسن سوریہ کے تو پولیس سے بڑی تعلقات تھے۔ عدیل افضال نے کہا کہ حسن سوریہ سے احتجاج میں ملاقات ہوئی تھی، میں نے کہا کہ یہ مین روڈ ہے احتجاج کی وجہ سے اسپتال جانے کے راستے بند ہوجاتے ہیں۔

کمیشن نے کہا کہ ہمارے پاس آپکی فیملی اور آپ کی بات چیت کے اسکرین شاٹس موجود ہیں۔ آپ تو بہت گہرائی سے تفتیش میں شامل تھے۔ آپ کس اتھارٹی سے تفتیش کررہے تھے۔ عدیل افضال نے کہا کہ والد نے مدد کی درخواست کی تھی۔

جسٹس عمر سیال نے ایس ایچ او پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ فیملی تو یہ بھی کہہ رہی کہ قتل ہوا ہے، وہ بات تو آپ نہیں مان رہے۔ انسانی بنیاد پر آپ ان کی مدد کررہے تھے۔ آپ نے اہم شواہد کے میمو نہیں بنائے، ٹرائل میں فیملی کہاں کھڑی ہوگی؟کس کے کہنے پر آپ نے کیس خراب کیا؟ 30 جولائی کو میر رضا کا موبائل فون ملا، آپ نے 31 جولائی کو فرانزک کے لئے بھیجا۔

عدیل افضال نے کہا کہ موبائل رات دس بجے برآمد ہوا۔ کمیشن نے پوچھا کہ فون کس نے برآمد کیا تھا؟ عدیل افضال نے کہا کہ لوکیٹر ٹیم نے ساجد نامی مزدور سے برآمد کیا تھا۔ جبران ناصر نے کہا کہ پولیس نے سی سی ٹی وی چلوائی کہ میر رضا نے فون پھینکا۔ کیا فون اٹھانے والوں کی سی سی ٹی وی موجود ہے؟

عدیل افضال نے کہا کہ نہیں سر یہ میں نے نہیں کہا۔ کمیشن نے آج کی کارروائی مکمل کرلی۔

کمیشن کو آگاہی دی گئی کہ میر رضا کے بزنس پارٹنر احسان انیس شمسی روس میں موجود ہیں۔ میر رضا کے مبینہ انویسٹر عثمان بوزئی سرکاری ملازمت کے لئے دوسرے شہر میں ہیں۔ کمیشن نے رجسٹرار کو بیانات وڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کرنے کے انتظامات کی ہدایت کردی۔

کمیشن نے 15 ستمبر کیلےی میر رضا کے بزنس منیجر شیری اور اکاونٹنٹ عمیر کو طلب کررکھا ہے۔ کمیشن نے آسٹریلیا میں موجود میر رضا کے انویسٹر حسن تنولی کو وڈیو لنک پر بیان ریکارڈ کرنے کے لئے ای نوٹس جاری کئے ہیں۔ اس کے علاوہ میر رضا کے مبینہ انویسٹر اسد علی بٹ کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔

کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ کو بھی شوکاز نوٹس کی وضاحت کے لئے آج طلب کیا ہے۔

متعلقہ

Load Next Story