مودی سرکار نے زیر تربیت این سی سی طالبات کو 18 ہزار فٹ کی بلندی پر تنہا چھوڑ دیا
بھارتی فضائیہ نے لداخ میں 18 ہزار 500 فٹ کی بلندی سے نیشنل کیڈٹ کور کی 4 طالبات کو ریسکیو کرلیا۔
لداخ میں قابض بھارت کی مسلط کردہ حکومت کی نااہلی نے نیشنل کیڈٹ کور کی 4 طالبات کو شدید خطرے میں ڈال دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ چاروں طالبات این سی سی کے آل انڈیا گرلز ہائی آلٹی ٹیوڈ لانگ ٹریک ’اپراجیتا پرانگ لا 2026‘ کی مہم کا حصہ تھیں۔
یہ مہم تقریباً 250 کلومیٹر طویل اور 30 روز پر مشتمل ہے جس میں 3 خواتین افسران اور 28 طالبات شریک ہیں۔ سب سے کم عمر شریک طالبہ کی عمر تقریباً ساڑھے 16 سال ہے۔
ٹریکنگ روٹ ہماچل پردیش کی اسپیتی وادی سے لداخ کے چانگ تھانگ خطے تک جاتا ہے اور پرانگ لا پاس سے گزرتا ہے جس کی بلندی 18 ہزار 300 فٹ ہے۔
اس ٹریک کے راستے میں برفانی میدان، گلیشیئرز، بلند صحرائی علاقے اور دریائی وادیاں شامل ہیں۔ ایسے پُرخطر جگہ اور اتنی بلندی پر 4 طالبات ٹیم سے جدا ہوکر تنہا رہ گئیں۔
جس پر بھارتی فضائیہ نے صبح سویرے انتہائی دشوار گزار علاقے میں ریسکیو آپریشن کیا گیا جہاں کم فضائی کثافت، بلند پہاڑوں اور ہیلی پیڈ نہ ہونے کے باعث امدادی کارروائی خاصی مشکل تھی۔
بھارتی فضائیہ کی لیہہ میں تعینات ’سیاچن پائنئرز‘ یونٹ نے لداخ میں 18 ہزار 500 فٹ کی بلندی پر مشکل میں پھنسنے والی نیشنل کیڈٹ کور (این سی سی) کی 4 طالبات کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے بحفاظت ریسکیو کیا۔
چاروں طالبات کو مزید طبی امداد کے لیے لیہہ کے اسپتال منتقل کردیا گیا جب کہ ان کے اہل خانہ کو بھی اطلاع کردی گئی۔
واضح رہے کہ بھارت کا ’سیاچن پائنئرز‘ ہیلی کاپٹر یونٹ 1964 میں لیہہ میں قائم کیا گیا تھا اور انتہائی بلند علاقوں میں ریسکیو، طبی انخلا اور فوجی رسد کی فراہمی جیسے حساس مشنز انجام دیتا ہے۔