ایران میں گرنے والا امریکی پائلٹ دو دن تک سے کیسے چھپا رہا؟ ہولناک کہانی

اپریل میں جنگ کے دوران جنوبی ایران کے اوپر امریکی ایف 15 ای طیارے کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا تھا

ایران سے امریکی پائلٹ کو تقریباً 50 گھنٹے بعد ریسکیو کیا گیا تھا۔ (اے آئی سے بنوائی گئی تصوراتی تصویر)

امریکی فضائیہ کے اہلکار ’براوو‘ نے بتایا کہ جنوبی ایران میں ایف 15 طیارہ گرنے کے بعد شدید زخمی حالت میں تقریباً 50 گھنٹے ایرانی فورسز سے چھپتے رہے تھے اور بالآخر ایک انتہائی پیچیدہ ریسکیو آپریشن کے ذریعے انھیں نکال لیا گیا۔

بی بی سی اردو کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق اس ریسکیو مشن میں 155 طیاروں نے حصہ لیا، جن میں چار بمبار، 64 فائٹر جیٹس، 48 ری فیولنگ ٹینکرز، 13 ریسکیو طیارے اور دیگر شامل تھے۔

اپریل میں جنگ کے دوران جنوبی ایران کے اوپر امریکی ایف 15 ای طیارے کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد پائلٹ اور ایک دوسرے اہلکار نے طیارے سے چھلانگ لگا دی تھی۔

یہ دونوں امریکی پائلٹس تقریباً 8 کلومیٹر کے فاصلے پر جا گرے۔ دوسرے اہلکار ’ایلفا‘ کو تو امریکی فورسز نے چند گھنٹوں میں ہی ریسکیو کر لیا تھا اور ایران سے واپس لے گئے تھے لیکن دوسرا پائلٹ ’’براوو‘‘ شدید زخمی حالت میں تقریباً 50 گھنٹے تک ایرانی علاقے میں موجود رہے تھے۔

بی بی سی کے مطابق براوو نے بتایا کہ طیارے سے نکلتے وقت ان کا پیراشوٹ خراب ہو چکا تھا اور زمین پر گرنے سے ان کی کمر، کندھا اور بازو ٹوٹ گئے تاہم انھوں نے بلند پہاڑی علاقے میں جا کر خود کو چھپا لیا تھا۔

دشوار گزار اور سنسان پہاڑی علاقے میں چھپنے کی جگہ ملتے ہی انھوں نے اپنی فوج کو بھیجے گئے ایک خفیہ پیغام میں لکھا کہ میں زخمی ہوں لیکن حرکت کر رہا ہوں۔ بچانے والا مہربان ہے۔

جس پر امریکی حکام نے سرچ آپریشن شروع کیا جس کے لیے سی آئی اے نے براوو کی تلاش میں ایرانی فورسز کو گمراہ کرنے کے لیے جعلی معلومات پھیلائیں جبکہ امریکی طیاروں اور ڈرونز نے ریسکیو سے قبل علاقے میں ایرانی پوزیشنز کو نشانہ بنایا۔

براوو کو نکالنے کے لیے دو ایم سی-130 طیارے زرعی زمین میں بنائے گئے عارضی رن وے پر اتارے گئے جہاں سے چار چھوٹے ہیلی کاپٹر دوبارہ جوڑ کر انھیں لینے گئے۔

تاہم نرم مٹی میں دھنسنے کے باعث دونوں ٹرانسپورٹ طیارے اڑان نہ بھر سکے اور امریکی فوجیوں کو متبادل طیاروں سے نکالا گیا۔

امریکی سینٹکام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کے مطابق ایف 15 کا مشن ایران کے ڈرون اور میزائل پروگرام سے متعلق صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا اصفہان کی جوہری تنصیبات اس مشن کا ہدف نہیں تھیں۔

Load Next Story