چین: سائنس دانوں کی میموری اسٹوریج ٹیکنالوجی میں اہم پیش رفت

محققین نے ورٹزائٹ فیرو الیکٹرکس میں 10 ارب سے زائد بار ڈیٹا لکھنے کے سائیکلز کامیابی سے مکمل کر کے دکھائے

چینی سائنس دانوں نے سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کے میدان میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے ایک ایسے طریقے کا مظاہرہ کیا ہے جس سے ورٹزائٹ فیرو الیکٹرکس نامی مواد کی پائیداری میں نمایاں اضافہ ممکن ہو گیا ہے۔

یہ پیش رفت مستقبل کے ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سسٹمز کے لیے ایک بڑے قابلِ اعتماد مسئلے کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

تحقیق کی قیادت شیان کی شیڈیان یونیورسٹی، سٹی یونیورسٹی آف ہانگ کانگ اور فوڈان یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے کی۔

محققین نے ورٹزائٹ فیرو الیکٹرکس میں 10 ارب سے زائد بار ڈیٹا لکھنے کے سائیکلز کامیابی سے مکمل کر کے دکھائے۔ یہ ایسے مواد ہیں جو دو مختلف برقی حالتوں کے درمیان تبدیل ہو سکتے ہیں اور اسی خاصیت کی مدد سے ڈیٹا محفوظ کیا جا سکتا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ حاصل ہونے والی پائیداری اسی مواد کے ساتھ اس سے پہلے حاصل کیے گئے نتائج کے مقابلے میں تقریباً 100 گنا زیادہ ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ بڑی پیش رفت اگلی نسل کی میموری ٹیکنالوجی کو آگے بڑھانے میں مدد دے سکتی ہے اور فیرو الیکٹرک میموری کو مستقبل کے کمپیوٹنگ ہارڈویئر میں عملی استعمال کے مزید قریب لے جا سکتی ہے۔

اگر یہ ٹیکنالوجی مزید تجربات میں بھی اسی کارکردگی کو برقرار رکھتی ہے تو مستقبل کے اے آئی اور تیز رفتار کمپیوٹنگ سسٹمز میں زیادہ پائیدار اور قابلِ اعتماد میموری تیار کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

Load Next Story