گھونسلہ جب کوئی گر جاتا ہے

’’ جب قینچی چل گئی تو نظر آگیا تھا مگر گھونسلہ اس ٹہنی کے اندر چھپا ہوا تھا، ٹہنی کٹنے سے ٹیڑھا ہو کر گر گیا اور سارے انڈے ضایع ہو گئے ہیں۔‘‘

Shireenhaider65@hotmail.com

weeping heart کی بیل پھیل پھیل کر اب آتے جاتے منہ پرلگتی، بالوں میں الجھتی اورگاڑی کا دروازہ کھولنے اور بند کرنے میں مشکل پیش آ رہی تھی تو مالی سے کہا کہ اسے تراشنے کا وقت آ گیا ہے۔ اس کے پتوں اور پھولوں کی خوبصورتی اپنی جگہ مگر اسے یوں تیز رفتاری سے پھیلنے سے روکنا ضروری تھا۔

ایک گرم دوپہر تھی اورمالی قینچی سے اس کی وہ ٹہنیاں کاٹ رہا تھا جو ہر سمت پھیل رہی تھیں، یک دم مالی کے منہ سے عجیب سی آواز نکلی اور ساتھ ہی ہلکی سی ٹھس کی آواز… میں نے بے ساختہ نیچے دیکھا جہاں پر تپتے ہوئے فرش پر چار پانچ ٹوٹے ہوئے چھوٹے چھوٹے انڈے پڑے تھے اور ساتھ ہی کچھ گھاس پھونس۔ ’’ گھونسلہ تھا ادھر، نظر ہی نہیں آیا!‘‘ مالی نے کہا تو میرے دل پر ہاتھ پڑا۔ میں اپنے بچپن کے اس دور میں چلی گئی جب کسی پرندے کو زخمی دیکھتے تو اسے اٹھا کر چھاؤں میں رکھتے اور ہر طرح کی طبی امداد دیتے، جب تک وہ تندرست ہو کر اڑ نہ جاتا، ہم اس کی رکھوالی کرتے، بلی سے بھی بچاتے اور سردی گرمی سے بھی۔ اگر وہ پرندہ اس دوران مر جاتا تو ہم باقاعدہ اس کی تکفین اور تدفین کرتے اور کئی دن تک سوگوار رہتے۔

اس وقت تک اگرچہ ہمیں پرندوں کے گھونسلوں میں انڈوں کی حفاظت کا اتنا احساس نہیں ہوتا تھا مگر جہاں کہیں گھونسلہ نظر آ جاتا تو ہمیں علم ہوتا تھا کہ کھیلتے وقت اس طرف گیند نہ جائے، مالی کو بھی بتاتے کہ فلاں پیڑ یا بیل پر گھونسلہ ہے تو اس کا خیال کریں۔

مالیوں کی عادت ہے کہ وہ لان یا باغ میں پرندوں کے آنے جانے کو پسند نہیں کرتے کہ وہ پھل ضایع کردیتے ہیں مگر اصل میں وہ پھل قدرت نے انھی کا حصہ رکھے ہوتے ہیں۔ جہاں بھی سبزہ ہو، پھل اور پھول ہوں تو وہاں قدرت کے یہ سارے اجزاء نظر آتے ہیں، شہد کی مکھیاں، تتلیاں اور پرندے۔ ایسے ایسے خوبصورت پرندے کہ جنھیں ہم نے پہلے کبھی دیکھا بھی نہیں ہوتا۔ ’’ آپ کو نظر نہیں آیا تھا گھونسلہ؟‘‘ میں نے تاسف اور خفگی سے سوال کیا۔

’’ جب قینچی چل گئی تو نظر آگیا تھا مگر گھونسلہ اس ٹہنی کے اندر چھپا ہوا تھا، ٹہنی کٹنے سے ٹیڑھا ہو کر گر گیا اور سارے انڈے ضایع ہو گئے ہیں۔‘‘ اس کا جواب بھی منطقی تھا کیونکہ اس بیل کے پتے بھی خوب صورت اور چوڑے ہوتے ہیں اور بہت گھنے بھی۔ میں کام وہیں چھوڑ کر اندر آ گئی۔ تھوڑی دیر میں مجھے باہر سے اس بے چین ماں کی چیخیں سنائی دینے لگیں جس کا سارا گھر اجڑ گیا تھا، وہ بے چینی سے وہاں اڑ رہی تھی اور فریادیں کررہی تھی، وہ فریادیں تو آسمان تک سنی جا رہی ہوں گی۔ میرے پاس اس کے دکھی دل کا کوئی درماں نہیں تھا سوائے دلی افسوس کے۔ کتنا برا ہوا تھا، اگر مجھے علم ہوتا تو میں اس بیل کو کٹوانے کا ہی نہ کہتی ، بیل کٹتے ہوئے بھی گھونسلہ نظر آجاتا تو بچت ہو جاتی مگر پرندے بھی تو اپنے گھونسلے چھپا کر بناتے ہیں کہ دشمنوں سے محفوظ رہیں۔ وہ بے چاری دانہ دنکا چگنے کو نکلی ہو گی اور اس کی ساری کمائی لٹ گئی، اس کے ہمراہ کچھ اور پرندے بھی ہو گئے تھے جو یقیناً اس کے دکھ میں ساتھ دینے کو آئے ہوں گے۔ اللہ ہی اس دکھیاری ماں کو صبر دے سکتا ہے، میں نے دل میں بہت بے چینی محسوس کی۔

گھونسلہ کوئی بھی ٹوٹے، یوں بد قسمتی سے گر جائے یا کوئی سانپ کھا جائے، طوفان کی نذر ہو جائے یا آندھی کی… نقصان تو اس پرندے کا ہے ، تڑپ تو اس کے معصوم دل میں ہوتی ہے۔ ہمیں بھی افسوس ہوتا ہے مگر جس کا اصل نقصان ہے اس کا دکھ سب سے بڑا ہے۔ اگر کسی پرندے کا گھونسلہ یوں گر جانے اور اس کے انڈے ٹوٹ جانے یا بچے مر جانے کا اتنا افسوس ہوتا ہے تو انسانوں کے بنائے ہوئے گھونسلے ( گھر) ٹوٹنے کا افسوس تو اس سے کہیں بڑھ کر ہوتا ہے۔

وہ گھر جن کی بنیاد ان رشتوں پر ہوتی ہے جن میں اللہ کی رضا شامل ہوتی ہے، چاہتیں دکھائی جاتی ہیں، ارمانوں کا اظہار ہوتا ہے، خوشیوں کے شادیانے بجائے جاتے ہیں اور ان کے تا قیامت آباد رہنے کی دعائیں کی جاتی ہیں۔ پھرکہیں تو کچھ غلط ہو جاتا ہے، یا تو کچھ پہلے ہی غلط ہوتا ہے اور اس کی پردہ پوشی کی جاتی ہے ، کہیں غلط ہوتا ہے اور کسی کو علم نہیں ہوتا ماسوائے اس کے جو غلط ہے۔ کہیں بعد میں بہت کچھ غلط ہوجاتا ہے اور اسے یونہی چلنے دیا جاتا ہے، دو سے تین، چار، پانچ اور چھ سات بھی ہوجاتے ہیں تو یونہی عمر بسر ہوتی رہتی ہے۔

ہم بیٹیوں کی شادی کر نے سے پہلے انھیں ہر وقت، اٹھتے بیٹھتے کہتے ہیں کہ شادی یہ ہے، شادی وہ ہے، فلاں چیز شادی سے پہلے نہیں کرنی، شادی کے بعد ایسا کرنا، ایسا نہیں کرنا۔ صبر کرنا، برداشت کرنا، نبھانا، شکایتیں نہ کرنا، لوٹ کر نہ آنا، بچوں کی خاطر وہیں رہو، کسی سے کچھ نہ کہو، جو کچھ خاوند کہتا اور کرتا ہے اسے کرنے دو۔

کبھی کسی نے اپنے بیٹے کو بھی شادی سے پہلے بٹھا کر پوچھا کہ کہ وہ شادی کے قابل ہے، اس میں کوئی جسمانی یا ذہنی نقص یا عیب تو نہیں؟ کیا وہ شادی کے بعد کی ذمے داریاں اٹھانے کے قابل ہے کہ نہیں، کیا وہ اس لڑکی کے خرچے اور ناز اٹھانے کے قابل ہے جو اس کی خاطر اپنے سارے خاندان کو چھوڑ کر اس کے گھر آ رہی ہے اور اس کی اس سے توقعات اور امیدیں وابستہ ہیں…

بیٹیاں غلطی کریں تو والدین اسے کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں مگر بیٹا غلط ہو تو والدین اس کی پردہ پوشی کردیتے ہیں اور ہمیشہ کرتے رہتے ہیں۔ بہوئیں ، عمر بھر گزار کر بھی اپنی سسرال میں دوسرے درجے کی شہری ہوتی ہیں، ان کی خواہشات کی کوئی وقعت ہوتی ہے نہ اہمیت، ان کی زندگیاں بھی ان خستہ رشتوں کو نبھانے میں چلی جائیں تو کسی کو کہاں فرق پڑتا ہے۔

گھونسلہ کسی پرندے کا ٹوٹے یا کسی کا گھر، افسوس اور دکھ ہوتا ہے، وجوہات پر پردے ڈالے جاتے ہیں اور عمر بھر بیٹیوں کو اپنا گلا گھونٹ کر جینے کو کہا جاتا ہے۔ وہ بھی انسان ہیں، انھیں بھی اپنی ایک ہی زندگی اپنے ڈھب سے جینے کا پورا اختیار ہے اور وہ جب اپنے گھر سے نکلتی ہیں تو ان کا ساتھ دیں، طعنے، لعنت اور ملامت نہیں۔ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنا چاہیں تو بھی انھیں وقت اور مواقع دیں اور اگر وہ حتمی فیصلہ کر لیں تو بھی ان کا ساتھ دیں۔ اگر وہ سوچ سمجھ کر خود سے واپس جانے کا فیصلہ کر لیں تو ان کے لیے حالات کو تبدیل کریں، انھیں مزید غلط کہنا چھوڑ دیں اور نہ ہی انھیں ہر وقت غلط کہتے رہیں۔

کسی گھر کی بہو وہ رہے نہ رہے، اپنے باپ کے گھر کی شہزادی وہ ہمیشہ ہوتی ہے۔

Load Next Story