برکس کا شرمیلا اتحاد کب بے باک ہو گا؟
نئی دلی میں گیارہ ممالک پر مشتمل تنظیم برکس کے اٹھارویں دو روز سربراہ اجلاس کی واحد کامیابی مشترکہ اعلان پر اتفاق ہے۔ گذشتہ مئی میں برکس وزرائے خارجہ کی کانفرنس ایران اور متحدہ عرب امارات کے مابین کشیدگی کے سبب کسی اعلان نامے پر متفق نہیں ہو سکی تھی۔دلی سربراہ اجلاس کا اعلامیہ اس لیے جاری ہو سکا کہ الفاظ کا چناؤ پھونک پھونک کے کیا گیا تاکہ کسی رکن کے جذبات و مفادات ’’ مجروح ‘‘ نہ ہو جائیں۔
مثلاً اسرائیل ، امریکا ، ایران یا کسی عرب ملک کا نام لیے بغیر کہا گیا کہ مشرقِ وسطی میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے فریقین ’’ تحمل ‘‘ سے کام لیں۔ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کا بلاواسطہ ذکر کچھ یوں کیا گیا کہ ہمیں سویلین جوہری تنصیبات پر جانے بوجھے حملوں پر تشویش ہے۔یوکرین روس جنگ کے بارے میں کسی فریق کا نام لیے بغیر کہا گیا کہ ’’ بین الاقوامی تنازعات کو اقوام ِ متحدہ کے چارٹر کے تحت بات چیت اور سفارت کاری ‘‘ سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔امریکا کا نام لیے بغیر من مانے عالمی ٹیرف نافذ کرنے کی پالیسیوں کی بھی مذمت کی گئی۔
صرف فلسطین کے بارے میں قدرے کھل کے بات کی گئی کہ یہ اجلاس مقبوضہ فلسطین کے جغرافیے و آبادی میں پرتشدد تبدیلی اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔اسرائیل غزہ میں نسل کشی روکے اور انسانی امداد کی بلارکاوٹ ترسیل کے لیے بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں کو آزادانہ کام کرنے دے۔اجلاس نے فلسطینی اتھارٹی کو اقوامِ متحدہ کی مکمل رکنیت دینے اور دو ریاستی حل کو عملی شکل دینے کا بھی متفقہ مطالبہ کیا۔
دو ہزار چھ میں برکس کی بنیاد بطور معاشی تعاون کی تنظیم برازیل ، روس ، بھارت اور چین نے رکھی۔دو ہزار دس میں جنوبی افریقہ شامل ہوا اور پھر مصر ، ایتھوپیا ، ایران ، متحدہ عرب امارات ، سعودی عرب اور انڈونیشیا کو بھی رکنیت مل گئی۔
اگرچہ ایران ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اس وقت ایک دوسرے کو ایک آنکھ نہیں بھاتے ، جب کہ دریاِ نیل کے پانی کی تقسیم پر ایتھوپیا اور مصر میں بھی کشیدگی برقرار ہے مگر مثبت بات یہ ہے کہ ان پانچوں ارکان نے برکس سربراہ کانفرنس میں ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا ، اجتماعی تصاویر کھنچوائیں اور سائڈ لائن پر دو طرفہ ملاقاتیں بھی کیں ( سب سے اہم ملاقات ایرانی صدر مسعود پیش ازکیان اور امارات کے ولی عہد شیخ خالد بن زید کے درمیان قرار دی جا رہی ہے ) ۔
دنیا کی نصف آبادی برکس ممالک میں رہتی ہے۔ عالمی معیشت میں برکس کا حصہ لگ بھگ چالیس فیصد اور تجارت میں پچیس فیصد ہے۔ چالیس فیصد تیل برکس ممالک میں پیدا ہوتا ہے۔گذشتہ برس برکس ممالک کی معیشت میں اجتماعی طور پر تین اعشاریہ سات فیصد کی بڑھوتری ہوئی جب کہ جی سیون صنعتی ممالک میں معاشی شرح نمو ایک فیصد کے لگ بھگ رہی۔
برکس اپنی آبادی و معاشی قوت کے بل پر مغرب کے وضع کردہ بریٹن وڈ عالمی مالیاتی و معاشی نظام کو منصفانہ بنانے کے لیے عالمی تجارتی تنظیم ( ڈبلیو ٹی او ) ، عالمی بینک ، عالمی مالیاتی فنڈ اور اقوامِ متحدہ کے ڈھانچے میں تیزی سے بدلتے تقاضوں کے مطابق اصلاحات تو چاہتی ہے مگر رکن ممالک کے مفادات و ترجیحات میں عدم اشتراک کے سبب گذشتہ بیس برس میں اپنے اقتصادی و جغرافیائی حجم کو عالمی فیصلہ سازی میں موثر طریقے سے استعمال نہیں کر سکی۔
البتہ کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ برکس کی کامیابی و ناکامی کا پیمانہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ مغربی مفادات کی جانب جھکاؤ رکھنے والے موجودہ عالمی نظام کا حریف کیوں نہیں بن سکی۔بلکہ یوں دیکھنا چاہئیے کہ سرد جنگ کے زمانے میں تشکیل پانے والی غیر جانبدار تحریک کی غیر اعلانیہ وفات کے بعد برکس کی پیدائش اس امر کی غماز ہے کہ جنوب کے ممالک اپنی ایک موثر اجتماعی آواز بلند کرنا چاہتے ہیں اور برکس جیسی تنظیمیں مغربی تسلط کو اگر ختم نہیں کر پا رہیں تو اسے مشکل ضرور بنا رہی ہیں۔
ویسے بھی ’’ مغربی استعمار ‘‘ اب وہ نہیں رہا جو چند دہائیوں پہلے نظر آتا تھا۔ٹرمپ انتظامیہ کی متنازعہ سٹرٹیجک ، سیاسی و معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں یورپ اور امریکا کے روائیتی اتحاد میں دراڑ پڑ چکی ہے۔امریکا ایشیا کی ترقی کے پہیے کو بریک لگانا چاہتا ہے جب کہ یورپ امریکا سے بتدریج مایوس ہو کر رفتہ رفتہ ایشیا سے اقتصادی پینگیں بڑھانے پر مائل ہے۔یہ فضا برکس جیسی تنظیموں کے لیے نیک شگون ہے بشرطیکہ وہ اس موقع سے جامع انداز میں فائدہ اٹھانا چاہیں۔
انسانی حقوق و جمہوریت کے بارے میں مغرب کے منافقانہ بھاشنوں اور نصیحتوں سے تنگ آئے ہوئے برکس ممالک بین الاقوامی تجارت میں اپنا حصہ بڑھانا چاہتے ہیں۔خود برکس اگر اپنے داخلی تضادات پر قابو پالے تو اس کی اپنی منڈی کا حجم اتنا بڑا ہے کہ باہر دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں۔یعنی نظام اپنا اپنا اور تجارت مشترکہ۔
برکس کا معاشی انجن چین اور بھارت ہیں جب کہ برازیل چاہتا ہے کہ رکن ممالک ایک دوسرے کی کرنسی کو باہمی تجارت میں زیادہ سے زیادہ استعمال کریں تاکہ ڈالر پر تکیہ کم سے کم ہو اور یوں امریکا کے معاشی اثر و نفوذ کو کچھ نہ کچھ لگام مل سکے۔اس کے لیے ایک برکس بینک ( نیو ڈویلپمنٹ بینک ) کا قیام عمل میں لایا گیا۔لیکن ابھی اسے ایک ہم پلہ بین الاقوامی ادارہ بننے میں کچھ وقت لگے گا۔ ڈالر کے تسلط سے راتوں رات چھٹکارا نہیں مل سکتا۔چینی کرنسی جنوب کے متعدد ممالک میں زور پکڑ رہی ہے۔۔بالخصوص اقتصادی ناکہ بندی کے سبب چینی کرنسی پر تکیہ کرنے کے سوا ایران کے پاس فی الحال کوئی راستہ نہیں۔ سعودیوں نے تیل کی تجارت میں ڈالر کے ساتھ ساتھ دیگر کرنسیوں کو بھی جگہ دینا شروع کی ہے۔ تاہم برکس ہو یا غیر برکس ممالک۔ ہر کوئی اپنے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں ڈالر زیادہ سے زیادہ رکھنے کو کم ازکم اگلے دس برس تک ترجیح دیتا رہے گا۔
عالمی لین دین اور بینکاری کا موجودہ نظام ڈیزائن ہی ڈالر کے اردگرد ہوا ہے۔مگر وقت ایک سا نہیں رہتا۔امریکا کی اپنی اقتصادی حالت ، کرپٹو کرنسی کا فروغ اور چین کی بڑھتی معاشی طاقت جیسے اسباب مل ملا کر تجارتی نقشہ کسی کے چاہنے نہ چاہنے کے باوجود بدل رہے ہیں۔
پاکستان بھی برکس کی رکنیت کا امیدوار ہے۔مگر نئے ارکان موجودہ ارکان کے اتفاقِ رائے سے ہی شامل ہو سکتے ہیں۔مودی کے ہوتے کیا بھارت ایسا ہونے دے گا ؟
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)