اور طلاق ٹل گئی

''ایک شخص نے کسی مشہور بزرگ کے تقوے شہرت کے بارے میں سنا تو بڑا بے چین ہوا کہ کسی طرح اس بزرگ سے جا کر ملا جائے۔

منے میاں کی شخصیت بچپن ہی سے ہر دل عزیز تھی، وہ ہر ایک کے کام آتے تھے، خواہ اپنے ہوں یا پرائے۔ اس لیے سب ہی انھیں بہت زیادہ چاہتے تھے، ان کی اماں بھی ان سے بہت محبت کرتی تھی۔

یہ ان کی واحد اولاد تھی۔ چنانچہ جب منے میاں بالغ ہوئے اور خیر سے ایک اچھی ملازمت پر لگ گئے تو ان کی اماں رشتے کے لیے لوگوں سے رابطے کرتی اور لڑکیاں ڈھونڈتی کہ کوئی اچھی شکل و صورت کی لڑکی مل جائے۔ منے میاں کی اماں کی صرف ایک ہی ڈیمانڈ تھی کہ لڑکی خوبصورت ہو۔ ان کا ایک ہی بیٹا تھا تو وہ چاہتی تھیں کہ ان کی بہو چاند جیسی ہو، ایسی ہو کہ خاندان میں سب سے خوبصورت لگے۔ بہرحال، انھیں ایک حسین وجمیل لڑکی مل گئی اور اس کی شادی منے میاں سے کر دی گئی، مگر شادی کے بعد جلد ہی منے میاں اور ان کی بیوی میں بات بات پر اَن بن رہنے لگی۔ صبح شام وہ ایک دوسرے سے الجھنے لگے۔

منے میاں ایک اچھے کردار کے حامل تھے، لہٰذا شروع شروع میں تو انھوں نے اپنی بیوی کی باتوں کو نظر انداز کیا، مگر اس کے بعد وہ بے چین رہنے لگے اور سوچنے لگے، زندگی کی گاڑی کیسے چلے گی؟ ابھی تو شروعات ہے۔ پھر بھی وہ بیوی کو برداشت کرتے رہے، مگر بیوی کی صبح شام کی چک چک ان سے برداشت نہیں ہو رہی تھی۔ چنانچہ انھوں نے ایک دن فیصلہ کر لیا کہ وہ اپنے ایک وکیل دوست سے ملیں گے اور مشورہ کریں گے کہ بیوی کو طلاق قانونی طور پر کس طریقے سے دی جائے، یعنی مہر وغیرہ کی رقم کیسے ادا کی جائے اور جہیز کی واپسی وغیرہ کے معاملات کیسے کیے جائیں۔

انھوں نے اپنے دوست کو ایک ہوٹل پر ٹائم دیا اور خود بھی ہوٹل پر جا کر بیٹھ گئے اور انتظار کرنے لگے۔ ابھی دوست کے آنے میں وقت تھا کہ قریبی مسجد سے اذان کی آواز آئی۔ منے میاں نے سوچا کہ جب تک ان کے وکیل دوست آتے ہیں، کیوں نہ مسجد میں نماز ہی پڑھ لی جائے۔ چنانچہ وہ مسجد میں نماز پڑھنے چلے گئے۔ منے میاں نے دیکھا کہ نماز کے بعد چند لوگ مسجد کے ایک کونے میں بیٹھے ہیں اور کوئی شخص انھیں دین کی باتیں بتا رہا ہے۔ چنانچہ منے میاں بھی وقت گزارنے کے لیے ان کے پاس جا بیٹھے اور سننے لگے کہ وہ شخص کیا کہہ رہا ہے۔ وہ شخص مولانا روم کے اشعار اور ان کی تشریح پیش کر رہا تھا۔

''ایک شخص نے کسی مشہور بزرگ کے تقوے شہرت کے بارے میں سنا تو بڑا بے چین ہوا کہ کسی طرح اس بزرگ سے جا کر ملا جائے۔

یہ بزرگ کافی دور کسی اور ملک میں رہتے تھے، مگر اس شخص نے فیصلہ کر لیا کہ چاہے کتنا ہی دور سفر کرنا پڑے، کتنی ہی مشکلات کیوں نہ پیش آئیں، ایسے عظیم بزرگ سے ضرور ملاقات کروں گا۔ چنانچہ وہ ایک طویل سفر پر روانہ ہو گیا اور معلومات کرتے کرتے بزرگ کے گھر پہنچ گیا۔ گھر پر دستک دی تو اندر سے اس بزرگ کی بیوی نکلی۔ اسے جب یہ پتہ چلا کہ یہ شخص بڑی دور سے سفر کر کے ان کے شوہر سے ملنے کے لیے آیا ہے تو وہ بہت ہنسی اور اس نے مذاق اڑایا کہ تمہیں کوئی غلط فہمی ہو گئی ہے، میرا شوہر تو کوئی اچھا انسان نہیں ہے۔ اس بیوی نے اور بھی بہت ساری غلط باتیں اور گھٹیا زبان میں اپنے شوہر کے بارے میں بتایا اور اس شخص کو کہا کہ تم نے بلاوجہ اپنا وقت برباد کیا۔ اتنی دور سے آئے، یقیناً تمہیں کسی شیطان نے بہکا دیا ہے، کسی نے تمہیں غلط اطلاع دی ہے وغیرہ وغیرہ۔

وہ شخص بڑا حیران ہوا کہ اتنی دور کسی اور ملک میں جس بزرگ کی شہرت پہنچ چکی ہے، اس کی بیوی اس بزرگ کے بارے میں بالکل ہی الٹ باتیں بتا رہی ہے۔ خیر، یہ شخص وہاں سے چلا گیا اور دیگر لوگوں سے معلومات کرتا رہا کہ اس وقت وہ بزرگ کہاں ملیں گے۔ لوگوں نے بتایا کہ وہ جنگل میں لکڑیاں لینے گئے ہیں۔ چنانچہ وہ شخص جنگل کی طرف چل دیا۔

جنگل میں پہنچ کر اس نے دیکھا کہ وہ بزرگ ایک شیر پر کٹی ہوئی لکڑیاں لادے چلے آ رہے ہیں۔ وہ شخص بڑا حیران ہوا کہ یہ بزرگ تو واقعی میں بہت پہنچے ہوئے اللہ والے ہیں کہ ان کے قابو میں جنگل کا بادشاہ شیر، ان کی خدمت کر رہا ہے اور یہ بلاخوف اس پر لکڑی لے کر آ رہے ہیں اور خود بھی شیر پر سوار ہیں۔

جب وہ بزرگ قریب پہنچے تو انھوں نے اس بزرگ کو بتایا کہ وہ ان کی بیوی سے کیا کچھ باتیں سن کر آ رہے ہیں۔ بزرگ نے اس شخص کو کہا کہ حیران نہ ہو۔

ترجمہ۔’’اگر میں اپنی بیوی کی سختیوں پر صبر نہ کرتا تو یہ شیر میرے لیے بوجھ کیسے اٹھاتا؟‘‘ اب مولانا روم خود اس حکایت کا اصل سبق بیان کرتے ہیں کہ ترجمہ:’’میں نے یہ ساری گفتگو تمہارے لیے کی ہے تاکہ تم اپنے بدخلق ساتھی کے ساتھ نباہ کرنا سیکھو۔‘‘

مسجد میں درس ختم تو ہوگیا مگر مولانا روم کے ان اشعار اور اس کی تشریح بیان کرنے والے شخص کی باتوں کا منے میاں پر اس قدر اثر ہوا کہ وہ فوراً اٹھے اور ہوٹل پر اپنے دوست کے پاس پہنچے اور ان سے کہا کہ ’’اب میرا ارادہ بدل گیا ہے۔ میں نے تم سے جو مشورہ کرنا تھا، اس کا جواب مجھے مسجد میں مل گیا ہے۔ اب میں طلاق لینا نہیں چاہتا۔ اب میں اپنی زندگی ایک نئے طریقے سے گزاروں گا۔ اب میں سمجھ چکا ہوں کہ ایک اچھے انسان کو کیسا ہونا چاہیے، لہٰذا اب میرا ارادہ تبدیل ہو گیا ہے۔ اب میری سمجھ میں آ گیا ہے کہ اچھوں کے ساتھ زندگی گزارنا تو کوئی کمال کی بات نہیں، مشکل حالات میں مشکل لوگوں کے ساتھ زندگی گزاریں تو کوئی بات ہے۔‘‘

اس طرح منے میاں نے طلاق کا خیال دل سے نکال دیا اور یوں منے میاں کی طلاق ٹل گئی۔

Load Next Story