پشاور پولیس اور میاں سعید
ashfaqkhan@express.com.pk
دنیا کی تاریخ میں پہلی بار پولیس کے محکمے کا قیام خلیفہ دوم مراد رسول مقبول حضرت محمد مجتبیٰ ﷺ حضرت عمر فاروق رضی اللہ نے کیا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ پولیس اور عوام میں قابل رشک اعتماد کا رشتہ ہوتا تھا مگر یہ بھی ایک زمینی حقیقت ہے کہ اب پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ بالعموم بداعتمادی، روایتی تھانہ کلچر، رشوت ستانی اور رویوں کی تلخی کے باعث شدید فاصلوں کا شکار دکھائی دیتا ہے جس کی وجہ سے عام شہری اکثر و بیشتر اپنے جائز حقوق یا ناگہانی آفت کی صورت میں بھی پولیس کے پاس جاتے ہوئے شدید ہچکچاہٹ، نامعلوم خوف اور تحفظات محسوس کرتا ہے، تاہم اس عمومی منفی تاثر کے برعکس جب بھی اس اہم اور حساس محکمے میں کوئی ایماندار، فرض شناس، باکردار اور انصاف پسند افسر تعینات ہوتا ہے تو عوام کا رویہ اور سوچ یکسر تبدیل ہو جاتی ہے۔
ایسا باہمت افسر نہ صرف مظلومین کی داد رسی اور تمام فیصلے مکمل میرٹ اور شفافیت پر کرتا ہے بلکہ اپنے عہدے کا رعب ڈالنے کے بجائے اپنے اعلیٰ اخلاق، کردار اور عمل کے ذریعے قانون کی اصل حاکمیت کو قائم و دائم کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں عوام نہ صرف اس کی پشت پناہی کرتے ہیں بلکہ اسے اپنے دلوں میں ایک مسحور کن عزت، احترام اور عقیدت کا مقام بخشتے ہیں۔ ایسے آفیسرز محکمے کا اصل قیمتی اثاثہ اور شہریوں کے لیے امید کی روشن کرن ثابت ہوتے ہیں جن کی موجودگی یہ سچ ثابت کرتی ہے کہ اگر نیت میں اخلاص اور فرض شناسی کا جذبہ صادق ہو تو پولیس کا ادارہ عوام کا سب سے بڑا محافظ، ہمدرد اور مونس بن سکتا ہے۔
جس کی زندہ و تابندہ مثال دبنگ و نڈر پولیس آفیسر ڈاکٹر میاں سعید سی سی پی او پشاور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب نشے میں مست چار درندوں نے غربت کے مارے خاندان کی دو خواتین کے ساتھ شوہر، نوجوان بیٹے اور معصوم بیٹی کی موجودگی میں اجتماعی زیادتی کی تو سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید کی ٹیم پر اعتماد کی وجہ سے کرایہ نہ ہونے کے باوجود پورا خاندان پیدل چل کر تھانے پہنچا اور پولیس افسران نے حق ادا کرکے مظلوموں کی داد رسی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
6 ستمبر 2026 کو پشاور تھانہ رحمان بابا کی حدود میں گڑھی موسیٰ خان کی دو خواتین سے اجتماعی زیادتی کے واقعہ نے پورے ملک کو خصوصاً خیبر پختونخوا کو ہلا کر رکھ دیا کہ پختون معاشرے میں ایسا واقعہ کیسے اور کیوں رونما ہوا۔ کیوں کہ پختون معاشرے میں تو دشمن کی خواتین کو بھی عزت و تکریم دی جاتی ہے۔ دشمنوں کی خواتین کو بری نظر سے دیکھنا تو دور کی بات نظریں اٹھا کر بات بھی نہیں کی جاتی۔ پشاور پولیس نے واقعی حق ادا کردیا اپنی پروفشنل ازم اور پختون معاشرے کے اقدار کا، اور 24 گھنٹے کے اندر چاروں درندوں کو گرفتار کیا، گرفتاری کے بعد مجھ سمیت شاید ہر پختون کی خواہش اور تمنا تھی کہ سرراہ ان چار درندوں کو ان متاثرہ خواتین، ان کے شوہر اور ان کے بچوں کے سامنے سنگسار کیا جانا چاہیے کیونکہ جرائم کے تدارک کا واحد راستہ برسرعام سزائیں ہیں۔
اللہ رب العزت قادر مطلق اور اپنے بندے سے ستر پیار کرنے والی ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے مگر وہی بندہ اگر چوری کرے تو برسرعام ہاتھ، اور قتل کرے تو سر کٹوانے کا حکم دیتا ہے۔ زنا جیسے قبیح عمل کر تو برسرعام سنگسار کرنے کا حکم دیتا ہے، تو پھر کلمہ طیبہ کے نام پر بنے پاکستان اور شافع محشر کی شفاعت کے منتظر پاکستانی قانون ساز کیوں اللہ رب العزت کے قانون کے مطابق شرعی سزائیں نہیں دیتے؟ جس کی وجہ سے ہر بار، چور، ڈکیت، قاتل اور درندہ صفت زانی باعزت بری ہو کر پھر اپنے جرائم میں لگ جاتے ہیں۔
مسلح درندوں کی خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرنے والوں کی گرفتاری پر جو خوشی ہو رہی تھی اس کے بعد عدالتوں سے ان کے باعزت طور پر بری ہونے کے خوف نے آنکھوں سے نیند چھین لی تھی، میں ہر لمحے یہ دعا کرتا رہا یا مولائے کائنات پشاور پولیس کی اس کامیابی بلکہ کارنامے کو ضایع ہونے سے بچائیں اور ان درندوں کو نشان عبرت بنائیں کہ درندگی کا یہ سلسلہ رک جائے۔
شاید منتقم و قہار و جبار اللہ نے ان پاک دامن خواتین، معصوم بچوں اور ایک بے بس شوہر کی فریاد پر خود انتقام کا فیصلہ کیا تو جمعہ کے دن ان درندوں کے ساتھیوں نے پولیس پر اس وقت حملہ کیا جب چاروں ملزمان کو شناخت اور اسلحہ کی برآمدگی کے لیے لے جارہی تھی جس کے نتیجے میں چاروں درندے ہلاک ہوگئے جب کہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، پورے پختونخوا نہیں پورے پاکستان کے عوام کو شکرانے کے نوافل ادا کرنے چاہیے کہ اللہ رب العزت کی یہ زمین منشیات کے عادی ان درندہ صفت مجرموں سے پاک ہوگئی ورنہ پتہ نہیں وہ اور کتنی عزتیں پامال کرتے، مگر افسوس کہ چند سیاسی نوسرباز اور انسانی حقوق کے دو نمبر اور خود ساختہ ٹھیکیدار اس کو جعلی پولیس مقابلہ بنانے پر بضد ہیں۔
ان کا مقصد صرف اور صرف پشاور پولیس کے اس کارنامے اور بہترین کارکردگی سے عوام الناس کی نظریں ہٹانے اور پولیس افسران کا امیج خراب کرکے عوام کو پولیس کے خلاف متنفر کرکے ایک بار پھر جرائم پیشہ عناصر کی سہولت کاری کرنا ہے جس میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوںگے، انشاء اللہ۔ اس وقت مجھ سمیت پورے خیبرپختونخوا کے امن پسند عوام پشاور پولیس کی کارکردگی سے مطمئن نظر آتے ہیں، پشاور سے کسی نہ کسی عزیز خاص کر میرے بڑے بھائی ڈاکٹر انعام اللہ خان کا فون آتا ہے کہ پشاور پولیس نے آج یہ کارنامہ انجام دیا اور وجہ صرف ڈاکٹر میاں سعید کی دبنگ قیادت اور انکی ٹیم ہے۔
ایکسپریس کے کرائم رپورٹر احتشام خان سے باقاعدگی کے ساتھ رابطہ رہتا ہے اور پشاور پولیس کی کارکردگی پر بات ہوتی ہے۔ ڈاکٹر میاں سعید اچانک منظر عام پر نہیں آئے وہ اپنے پورے پولیس کئیریر میں جہاں بھی رہے ایک مظلوم دوست اور جرائم سے نفرت کرنے والے دبنگ اور عوام میں مقبول پولیس آفیسر کے طور مانے اور جانے جاتے تھے۔ وہ جہاں بھی رہے قیادت کی ذمے داریاں احسن طریقے سے نبھائیں، جرات کے ساتھ گینگسٹرز، قبضہ مافیا، ٹارگٹ کلرز اور بھتہ خوروں کے گرد گھیرا تنگ کرکے نہ صرف مجرموں کا کس بل نکال دیا اور ان کا غرور خاک میں ملا کر عوام کے دلوں میں پولیس اور ریاستی اداروں پر اعتماد کی ایک نئی روح پھونک دی۔
خیبرپختونخوا، خاص کر ان اضلاع جہاں میاں سعید تعینات رہے کا بچہ بچہ گواہ ہے کہ ڈاکٹر میاں سعید نے ناصرف محکمے کے وقار کو بلند کیا بلکہ جرائم پیشہ عناصر اور مافیاز کے لیے خوف اور دہشت کی علامت بن کر رہے۔ جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے ذریعے ریاست کی رٹ بحال اور قانون کی بالا دستی کا لوہا منوایا اور عوام کے دلوں پر راج کیا۔ ڈاکٹر میاں سعید قحط الرجال کے اس دور میں ہر موقع پر اپنی ٹیم کے لیے اپنے جیسے پولیس آفیسر ڈھونڈ نکالنے میں ماہر اور گوہر شناسی میں اپنی مثال آپ ہیں، فعال اور پروفیشنل ٹیم کے علاوہ ٹارگٹ نہیں حاصل ہوسکتے۔ بطور سی سی پی او پشاور انھوں نے اپنے لیے ایک جاندار اور دبنگ آفیسرز پر مشتمل ٹیم بنائی۔
6 ستمبر والے درندگی کے ان چار جہنم واصل درندوں کی گرفتاری کے لیے ڈاکٹر میاں سعید کی ہدایت پر تشکیل دی گئی چاروں ٹیموں کے تمام افراد اور ان کی قیادت کرنے والے ایس ایس پی فرحان جیسے بے خوف آفیسر، ملزمان کی برق رفتار گرفتاریوں پر داد اور عوامی محبت کے مستحق اور محکمے کی طرف سے خصوصی انعام اور اسناد کے حقدار ہیں۔ مجھ سمیت خیبرپختونخوا کے امن پسند اور جرائم سے نفرت کرنے والے ہر شہری کی خواہش، آرزو اور تمنا ہے کہ اللہ رب العزت ہر ضلع کو کم از کم ایک میاں سعید جیسا پولیس آفیسر عطا کریں، یہ بالکل ممکن ہے اگر ڈاکٹر میاں سعید صوبے کے آئی جی پولیس بن گئے تو جو ٹیم انھوں نے پشاور میں بطور سی سی پی او بنائی اس طرح کے ایماندار اور دلیر افسران کو ہر ضلع میں تعینات کرکے ہر ضلع کو پشاور جیسا بنا سکتے ہیں۔
خیبرپختونخوا پولیس میں ایماندار اور دلیر افسران کی کمی نہیں، بس ڈاکٹر میاں محمد سعید جیسی قیادت کی پشت پناہی چاہیے، اگر ایسا ہوجائے تو خیبرپختونخوا بدل جائے گا، انشاء اللہ۔ کئی بار سوچا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کی طرف سے ڈاکٹر میاں سعید کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ان کی خدمات پر لکھوں مگر روز نئی مصیبت اور نیا موضوع، مگر انشاء اللہ اگلا کالم صرف میاں سعید کے نام ہوگا۔