خلائی جنگ کا نیا باب کھل گیا؟ امریکا نے مدار میں خطرناک دفاعی ہتھیار رکھنے کا اعتراف کردیا

امریکی حکام کے مطابق خلا مستقبل کی فوجی کارروائیوں میں ایک اہم میدان بن چکا ہے

واشنگٹن: امریکا نے پہلی بار باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے کہ اس کی اسپیس فورس نے زمین کے مدار میں ’اسپیس کنٹرول ہتھیار‘ تعینات کر رکھے ہیں، جو دشمن کے خلاف امریکی فوجی اثاثوں کے دفاع کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

امریکی فضائیہ کے سیکریٹری ٹرائے مینک نے کہا کہ بدلتے ہوئے خطرات کے پیش نظر امریکا کو خلا میں اپنی افواج کے تحفظ اور دشمن کی کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ تاہم انہوں نے ان ہتھیاروں کی نوعیت، تعداد یا انہیں مدار میں کب تعینات کیا گیا، اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

امریکی اسپیس فورس کے ترجمان کے مطابق یہ ’اسپیس کنٹرول‘ صلاحیتیں دشمن کے اثاثوں کو متاثر، غیر مؤثر یا ضرورت پڑنے پر تباہ کرنے کے لیے استعمال کی جاسکتی ہیں اور ان کا استعمال دفاعی یا جارحانہ دونوں مقاصد کے لیے ممکن ہے۔

امریکا کا یہ اعتراف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن، روس اور چین کی بڑھتی ہوئی خلائی فوجی صلاحیتوں کو اپنے لیے اہم خطرہ قرار دے رہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق خلا مستقبل کی فوجی کارروائیوں میں ایک اہم میدان بن چکا ہے۔

1967 کے آؤٹر اسپیس ٹریٹی کے تحت زمین کے مدار میں جوہری ہتھیار یا دیگر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تعینات کرنے پر پابندی ہے۔ تاہم معاہدہ عام یا روایتی ہتھیاروں کی مدار میں تعیناتی پر اسی طرح کی مکمل پابندی عائد نہیں کرتا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خلا میں موجود نئی صلاحیتیں بین الاقوامی قانون اور متعلقہ قوانین کے مطابق استعمال کی جائیں گی۔ امریکا کی جانب سے اس صلاحیت کا باضابطہ اعتراف خلائی عسکری دوڑ اور مستقبل کے ممکنہ تنازعات کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔

Load Next Story