ایشین گیمز میں قومی دستے کی قیادت کرنا باعث افتخار اور اعزاز ہے: فاطمہ لاکھانی
پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایشین گیمز میں قومی دستہ کی قیادت کرنے والی خاتون فاطمہ لاکھانی نے ذمہ داری کو اعزاز قرار دیتے ہوئے بہتر نتائج کی توقع ظاہر کی ہے۔
ہفتہ سے جاپان میں شروع ہونے والے 20 ویں ایشین گیمز کے لیے روانگی سے قبل ایکسپریس سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کی شیف ڈی مشن فاطمہ لاکھانی نے کہا کہ 4 اکتوبر تک جاری رہنے والے ایشیائی مقابلوں میں پاکستان کے متعدد کھیلوں میں میڈلز جیتنے کے امکانات روشن ہیں۔ ان میں ایتھلیٹکس، کبڈی، مینز اور ویمن کرکٹ، اسکواش، شوٹنگ، ہاکی، والی بال اور باکسنگ شامل ہیں۔
ایشین گیمز کے 23 ڈسپلن میں شریک پاکستان خواتین کے 14 مقابلوں میں بھی حصہ لے گا۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی سینیئر نائب صدر فاطمہ لاکھانی نے کہا کہ ایشین گیمز میں قومی دستے کی قیادت کرنا باعث افتخار اور اعزاز ہے۔ دراصل یہ معاشرے میں خواتین کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ خواتین کو بھی مردوں کے مساوی حقوق حاصل ہیں۔
فاطمہ لاکھانی نے کہا کہ تمغہ حاصل کرنا اپنی جگہ اہم ہے لیکن بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام اجاگر کرنا زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ ایشین گیمز میں شریک قومی کھلاڑی اور آفیشلز ملک کے سفیر کی حیثیت رکھتے ہیں۔
فاطمہ لاکھانی نے کہا کہ ایشین گیمز اگلے سال پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے ساؤتھ ایشین گیمز کے شایان شان انعقاد میں معاون ثابت ہوں گے۔ گیمز میں ڈسپلن کو اہمیت دی جائے گی جبکہ توقع ہے کہ کھلاڑی ملک کی باوقار نمائندگی کرتے ہوئے اسپورٹس مین اسپرٹ، ڈسپلن اور بلند اخلاق کا بھرپور مظاہرہ کرکے دل جیت لیں گے۔
دریں اثنا ویمن کرکٹ ٹیم، ہاکی اور ٹینس کے بعد ایشین گیمز میں پہلی مرتبہ شریک ٹرائی تھالون کے قومی ایتھلیٹ بھی جاپان پہنچ گئے۔ ان میں گلگت، بلتستان کے ضلع ہنزہ کی انیشا علی بھی شامل ہیں جو مکسڈ ریلے ایونٹ میں شرکت کریں گی۔
واضح رہے کہ پشاور سے تعلق رکھنے والی علی سسٹرز کے نام سے معروف تین سگی بہنیں ماہ نور علی، سحرش علی اور مہوش علی نے ساتھ سماعت اور قوت گویائی سے محروم پشاور ہی کی ثنا بہادر ایشین گیمز کے ویمن اسکواش ایونٹ میں پاکستان کی نمائندگی کریں گی۔