1 ماہ کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 59 روپے اضافے کا انکشاف

14 اگست کو فی لیٹر پیٹرول کی قیمت 325.43 روپے تھی جبکہ آج اعلان کے بعد قیمت 384 روپے 34 پیسے ہوگئی

فائل

وفاقی حکومت نے ایک ماہ کے دوران پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں تقریبا 59 روپے اضافہ جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 32 روپے مہنگا کردیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی یومیہ قیمتوں کے تعین کا سلسلہ 18 جولائی 2026 سے شروع ہوا جس کے بعد سے قیمتیں کم ہونے کا رجحان کم دیکھا گیا ہے۔

گزشتہ 8 روز سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور آج بھی 16 ستمبر کیلیے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے 10 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے 41 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

حالیہ اضافے کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 384 روپے 34 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 415 روپے 83 پیسے پر پہنچ گئی ہے۔ یومیہ بنیاد پر پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے سے عوام شدید پریشان جبکہ مہنگائی کا طوفان ہر روز شدت کے ساتھ شہریوں کو متاثر کررہا ہے۔

اگر نظر ڈالی جائے تو 14 اگست کو فی لیٹر پیٹرول کی قیمت 325.43 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 383.95 روپے فی لیٹرتھی۔

اس حساب سے اگر دیکھا جائے تو ایک ماہ کے دوران پیٹرول کی قیمت میں تقریبا 59 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ پچھلے دس دن میں پٹرول کی قیمت میں 39 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 31 روپے فی لیٹر اضافہ کیا جا چکا ہے۔جبکہ ایک ماہ میں پٹرول ساٹھ اور ڈیزل اکتیس روپے فی لیٹر مہنگا کیا جا چکا ہے۔۔
 

واضح رہے کہ دو روز قبل وزیراعظم نے موٹرسائیکل سواروں اور چھوٹی گاڑی، رکشہ، چنگچی والوں کیلیے ریلیف کا اعلان کیا ہے جس کے آغاز سے قبل ہی قیمتیں بلندی کی طرف جارہی ہیں۔

حکومت ملک بھر میں جاری احتجاج اور تنقید کی پرواہ نہ کرتے ہوئے روزانہ کی طرح آج بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھا رہی ہے جبکہ پیٹرولیم ڈویژن کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹوں میں بھی قیمتیں بڑھ رہی ہیں جس کو مدنظر رکھتے ہوئے اوگرا کی جانب سے تعین کیا جارہا ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی آسمان کو چھو رہی ہیں۔ 
 

متعلقہ

Load Next Story