متنازع اور بولڈ اسپورٹس اشتہار کے بعد سڈنی سوینی کے 2 لاکھ فالوورز کم ہوگئے
ہالی ووڈ اداکارہ سڈنی سوینی کو اس وقت سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا ہے جب اسپورٹس پریڈکشن کمپنی نووگ کے لیے ان کی نئی اشتہاری مہم پر خواتین کھلاڑیوں نے اعتراض اٹھایا۔ اسی دوران سوشل میڈیا ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق اداکارہ کے انسٹاگرام فالوورز میں 2 لاکھ سے زیادہ کمی بھی رپورٹ ہوئی ہے۔
نووگ کی ’’جسٹ اسپورٹس‘‘ نامی مہم 9 ستمبر کو شروع ہوئی تھی، جس میں سڈنی سوینی کو تقریباً عریاں حالت میں باسکٹ بال، فٹبال اور ٹینس سمیت مختلف کھیلوں کے سامان سے جسم ڈھانپتے دکھایا گیا۔ ایک منظر میں وہ باسکٹ بال رنگ پر بیٹھی نظر آئیں، جبکہ اشتہار کے اختتام پر پول ٹیبل کے قریب ان کا جملہ بھی سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آیا۔
خواتین کھلاڑیوں نے مہم کو کھیلوں میں خواتین کی غیر ضروری جنسی نمائندگی قرار دیتے ہوئے تنقید کی۔ چار بار کی اولمپک گولڈ میڈلسٹ تیراک آریانے ٹِٹس نے سوال اٹھایا کہ کھیلوں سے متعلق مصنوعات فروخت کرنے کے لیے خواتین کے جسم کو اب بھی کیوں جنسی انداز میں پیش کیا جارہا ہے۔ امریکی جمناسٹ گریسی کریمر نے اپنی کھیلوں کی ویڈیو کے ساتھ پیغام دیا کہ ’’یہ ہے کھیلوں میں ایک عورت کی حقیقی تصویر‘‘، جبکہ برطانوی ایتھلیٹ ایمی ہنٹ نے کھیلوں کی اصل حقیقت کو محنت، پسینے، خون اور آنسوؤں سے جوڑا۔
ورلڈ چیمپئن باکسر اسکائی نکولسن نے بھی کہا کہ ایک خاتون کا اپنی خوبصورتی اور نسوانیت کو قبول کرنا غلط نہیں، لیکن کھیلوں سے جڑی مصنوعات فروخت کرنے کے لیے جنسی کشش کو استعمال کرنا الگ معاملہ ہے۔ آسٹریلوی کھلاڑی ٹِلی کیرنز اور لینی پیلیسٹر سمیت متعدد دیگر ایتھلیٹس نے بھی مہم پر اعتراض کیا۔
سڈنی سوینی نے اس مہم پر معافی نہیں مانگی بلکہ اپنی جانب سے اس بات کی مثال پیش کی کہ ’’ای ایس پی این باڈی ایشو‘‘ میں سرینا ولیمز اور رونڈا روزی سمیت کئی ایتھلیٹس ماضی میں نیم عریاں یا برہنہ پوز دے چکی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ دونوں مہمات میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ای ایس پی این میں کھلاڑی کے جسم کو اس کی کھیلوں کی کامیابی کے تناظر میں پیش کیا جاتا ہے، جبکہ نووگ کے اشتہار میں سڈنی سوینی کے جسم کو اسپورٹس پریڈکشن پراڈکٹ کی تشہیر کے لیے استعمال کیا گیا۔
دوسری جانب سڈنی سوینی نووگ کی محض برانڈ ایمبیسیڈر نہیں بلکہ کمپنی کی اسٹریٹجک پارٹنر اور ایکویٹی ہولڈر بھی ہیں، یعنی کمپنی میں ان کا مالی مفاد بھی ہے۔ نووگ کے مطابق سڈنی نے خود شراکت داری کی تجویز پیش کی تھی۔
فالوورز میں کمی کے باوجود سڈنی سوینی کے انسٹاگرام پر اب بھی لاکھوں فالوورز ہیں، جبکہ ٹریکنگ سروسز یہ ثابت نہیں کرسکتیں کہ رپورٹ ہونے والے تمام ان فالو اسی اشتہار کی وجہ سے ہوئے۔ البتہ کمی کا وقت مہم پر بڑھتی تنقید کے ساتھ ضرور مطابقت رکھتا ہے۔
یہ سڈنی سوینی کا اشتہاری تنازع کا پہلا تجربہ بھی نہیں۔ 2025 میں امریکن ایگل کی ’’سڈنی سوینی ہیز گریٹ جینز‘‘ مہم بھی تنقید کی زد میں آئی تھی، جس میں ’’جینز‘‘ اور ’’جینز‘‘ سے ملتے جلتے الفاظ کے استعمال پر نسل اور جینیات سے متعلق متنازع مفاہیم اخذ کیے گئے۔ بعد میں سڈنی نے کہا تھا کہ وہ ردعمل سے حیران ہوئی تھیں۔ اس کے باوجود امریکن ایگل نے مہم کے بعد نئے صارفین اور برانڈ آگاہی میں ریکارڈ اضافہ رپورٹ کیا اور سڈنی کے ساتھ اپنی شراکت جاری رکھی۔
نووگ کے تازہ اشتہار کے بارے میں بھی ایک رائے یہ ہے کہ شدید ردعمل اور سوشل میڈیا پر بحث شاید مہم کی حکمت عملی کا حصہ ہو، کیونکہ تنازع نے کمپنی اور اس کی سڈنی سوینی والی مہم کو غیر معمولی توجہ ضرور دلا دی ہے۔