سندھ ہائیکورٹ؛ اقدام قتل کا ملزم ضمانت مسترد ہونے کے بعد پولیس کی حراست سے فرار
فوٹو: ایکسپریس نیوز
سندھ ہائی کورٹ نے ملیر میمن گوٹھ میں اقدام قتل کے مقدمے میں ملزم کی ضمانت مسترد کردی جبکہ ملزم کے اہل خانہ اور وکیل کی پولیس افسر سے ہاتھا پائی ہوئی اور ملزم پولیس حراست سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
سندھ ہائی کورٹ میں ملیر میمن گوٹھ میں اقدام قتل کے مقدمے میں ملزم بادشاہ کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی، عدالت نے ملزم بادشاہ کی ضمانت مسترد کردی۔
ضمانت مسترد ہونے پر ملزم کی عدالت سے فرار کی کوشش کی، جس سے تفتیشی افسر شعیب پٹھان نے ملزم کو احاطہ عدالت سے حراست میں لے لیا، ہائی کورٹ میں ملزم کے اہل خانہ اور وکیل کی پولیس افسر سے ہاتھا پائی ہوئی، اہل خانہ اور وکیل کی مداخلت پر ملزم پولیس حراست سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
ملزم کیخلاف تھانہ میمن گوٹھ میں اقدام قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا جبکہ ملزم کا پولیس کی حراست سے فرار ہونے کا مقدمہ بھی درج کیا اور قانونی کاروائی شروع کر دی ہے۔
مقدمے میں کہا گیا ہے کہ متعدد افراد نے ملزم کو چھڑانے کی کوشش کی، عدالتی حکم کے بعد ملزم کو گرفتار کر کے باہر بلایا گیا، عدالت نے ملزم کی ضمانت مسترد کر کے گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ مزاحمت کے دوران ایک وکیل اکبر چغتائی بھی موقع پر پہنچا۔
مقدمہ کے متن کے مطابق ملزمان نے پولیس اہلکاروں سے گرفتار ملزم کو چھڑایا اور سرکاری امور میں مداخلت کی۔