انمول عرف پنکی منشیات کیس؛ قائمہ کمیٹی داخلہ کا پولیس حکام کی کارکردگی پر اظہار برہمی

فریال تالپور کی زیرصدارت قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا، پولیس نے انسداد منشیات، امن وامان کے حوالے سے بریفنگ دی

فوٹو: فائل

سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے انمول عرف پنکی منشیات کیس کی پولیس تفتیش، جیل میں ملاقاتوں اور منشیات کے خلاف کارروائیوں پر پولیس حکام سے سخت سوالات کرتے ہوئے کارکردگی پر اظہار برہمی کیا اور کیس کی تفتیش اور جیل کسٹڈی میں ملاقاتوں کی تفصیلات کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

فریال تالپور کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں انسداد منشیات کارروائیوں، انمول عرف پنکی کیس کی تفتیش اور امن و امان کے معاملات پر پولیس اور متعلقہ حکام نے بریفنگ دی۔

اجلاس میں ارکان کمیٹی اور چیئرپرسن نے پولیس حکام سے انمول عرف پنکی کے خلاف درج مقدمات، سزاؤں میں تاخیر اور کیس سے منسوب دیگر افراد سے ہونے والی تفتیش سے متعلق سوالات کیے، اس دوران انمول عرف پنکی کی جیل میں ملاقاتوں اور تفتیش میں ممکنہ رکاوٹوں کے حوالے سے بھی سوالات کیے گئے۔

کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ایک خصوصی کمیٹی انمول عرف پنکی کی جیل کسٹڈی کے دوران ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیلات، کیس کی تفتیش اور اس میں پیش آنے والی رکاوٹوں کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے گی۔

قائمہ کمیٹی کے طویل اجلاس میں کراچی میں امن و امان کی صورت حال، موبائل فون اور موٹر سائیکل چھیننے کے بڑھتے واقعات اور چوری شدہ موٹر سائیکلوں کے پرزہ جات کباڑیوں کے پاس فروخت ہونے کے معاملے پر بھی سوالات کیے گئے۔

آئی جی سندھ پولیس نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ بلوچستان میں منشیات کی فیکٹریاں قائم ہوگئی ہیں، کمیٹی نے تعلیمی اداروں میں منشیات کے نقصانات سے متعلق آگاہی مہم چلانے کی ہدایت بھی کی۔

اجلاس کے دوران ایک سینئر افسر کے بار بار اونگھنے پر انہیں مائیک پر مخاطب کرکے جگایا گیا، جس پر اجلاس میں دلچسپ صورت حال پیدا ہوگئی۔

Load Next Story