بحری راستوں کا بحران، تیل کی بڑھتی عالمی قیمتیں
دنیا کے نقشے پر بعض مقامات ایسے ہوتے ہیں جہاں جغرافیہ محض زمین کی ساخت نہیں رہتا بلکہ پوری عالمی معیشت کی نبض بن جاتا ہے۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب اس وقت اسی حقیقت کی زندہ تصویر بنے ہوئے ہیں۔
ایک طرف ہرمز کے اوپر امریکی ڈرون گرائے جانے اور خلیجی بحری راستوں میں بڑھتے ہوئے خطرات نے توانائی کی عالمی ترسیل کو غیر یقینی بنا دیا ہے، دوسری طرف باب المندب اور بحیرہ احمر میں حوثی پیش قدمی نے تجارت کے ایک ایسے دروازے کو خطرے میں ڈال دیا ہے جس سے تیل کے ساتھ ساتھ گاڑیاں، صنعتی سامان اور دوسری بے شمار اشیا عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہیں۔ یوں مشرق وسطیٰ کی جنگ اب محض میدان جنگ تک محدود نہیں رہی، اس کے اثرات تیل کے کنوؤں، بندرگاہوں، سمندری راستوں، صنعتی کارخانوں اور بالآخر عام صارف کی جیب تک پہنچ رہے ہیں۔
سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کی بندش اور ینبع بندرگاہ پر تیل کی لوڈنگ کا تعطل اس بحران کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔ یورپی خریداروں کو ستمبر کے اختتام پر ہونے والی خام تیل کی ترسیل منسوخ کیے جانے کی خبر نے عالمی منڈی میں اس تشویش کو مزید بڑھایا کہ اگر توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے طویل ہوتے گئے تو پیداوار موجود ہونے کے باوجود اسے عالمی صارفین تک پہنچانا مشکل ہوسکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 107 ڈالر سے تجاوز کر گئی جب کہ امریکی خام تیل بھی 102 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔ دوسری جانب بعض اوقات اس سے بھی بلند قیمتوں پر مختلف اقسام کے خام تیل کی تجارت ہونا اس امر کی علامت ہے کہ منڈی مستقبل کے خطرات کو موجودہ قیمتوں میں شامل کر رہی ہے۔
توانائی کی عالمی معیشت میں سب سے زیادہ خطرناک صورت حال قلت سے زیادہ غیر یقینی ہوتی ہے۔ مارکیٹ کو اگر یہ معلوم ہو کہ سپلائی کچھ دنوں کے لیے متاثر ہوئی ہے تو وہ متبادل انتظامات کر سکتی ہے، لیکن جب یہ واضح نہ رہے کہ اگلا حملہ کس بندرگاہ، پائپ لائن یا بحری راستے کو نشانہ بنائے گا تو کاروباری فیصلے خطرے کے حساب سے ہونے لگتے ہیں، یہی کیفیت اس وقت خلیج میں پیدا ہو رہی ہے۔
بحری جہازوں کی آمدورفت معمول پر لانے کی سفارتی کوششیں جاری ہیں، مگر تازہ حملے ان کوششوں کے اثرات کو محدود کر رہے ہیں۔ امریکی وزیر توانائی کی جانب سے سعودی پائپ لائن سے تیل کی ترسیل چند روز میں بحال ہونے کی توقع یقینا ایک مثبت اشارہ ہے، لیکن مستقل استحکام صرف عارضی بحالی سے نہیں بلکہ محفوظ اور قابلِ اعتماد راستوں کی ضمانت سے پیدا ہوگا۔
باب المندب کا بحران اس تصویر کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے لیے محض سمندری راستے نہیں بلکہ ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان معاشی رابطے کی اہم کڑیاں ہیں۔ حوثیوں کی عسکری پیش قدمی اور جزائر پر کنٹرول کی اطلاعات نے اس راستے کی سلامتی کے بارے میں بین الاقوامی تشویش بڑھا دی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس اسی بڑھتی ہوئی تشویش کا اظہار ہے۔ اگر بحیرہ احمر کا جنوبی راستہ بھی بڑے پیمانے پر متاثر ہوتا ہے تو پہلے ہی ہرمز کے دباؤ سے دوچار عالمی تجارت کو ایک دوسرا بڑا دھچکا لگ سکتا ہے۔
یہ صورتحال اس لیے بھی تشویش ناک ہے کہ سمندری تجارت کا متبادل صرف نقشے پر ایک دوسری لکیر کھینچنے سے پیدا نہیں ہوتا۔ جہازوں کو طویل راستوں پر بھیجنے سے ایندھن، بیمہ، وقت اور مال برداری کے اخراجات بڑھتے ہیں۔ ان اضافی اخراجات کا آخری بوجھ بالآخر صارفین، صنعتوں اور درآمدی معیشتوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ تیل مہنگا ہو تو نقل و حمل مہنگی ہوتی ہے، نقل و حمل مہنگی ہو تو خوراک اور صنعتی خام مال کے نرخ متاثر ہوتے ہیں، اور یہ سلسلہ افراطِ زر کی ایک نئی لہر کو جنم دے سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ بحران خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ عالمی تیل کی قیمت میں ہر نمایاں اضافہ براہِ راست درآمدی بل، زرمبادلہ اور داخلی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 4 روپے 10 پیسے اور 6 روپے 41 پیسے فی لیٹر اضافہ اسی عالمی ماحول کا ایک فوری معاشی عکس ہے۔ عوام کے لیے یہ محض پٹرول پمپ پر ادا کی جانے والی اضافی رقم نہیں، اس کے اثرات ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش، زرعی سرگرمیوں، صنعتی پیداوار اور روزمرہ زندگی کے تقریباً ہر شعبے تک پہنچتے ہیں۔
تاہم اسی مشکل ماحول میں پاکستان کے بجلی کے شعبے سے متعلق بروقت ایندھن انتظام کے اقدامات ایک اہم معاشی پہلو سامنے لاتے ہیں۔ وفاقی وزیر توانائی کے مطابق اگست میں ان فیصلوں سے صارفین پر تقریباً 10.6 ارب روپے کے اضافی بوجھ سے بچنے میں مدد ملی اور فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ بھی جولائی کے مقابلے میں کم رہی، اگر عالمی منڈی میں ایندھن مہنگا ہو رہا ہو اور ہرمز کے حالات سپلائی کے لیے خطرات پیدا کر رہے ہوں تو مقامی سطح پر بہتر منصوبہ بندی، بروقت خریداری اور ذخائر کا دانش مندانہ انتظام محض انتظامی کارروائی نہیں بلکہ معاشی دفاع کی ایک شکل بن جاتا ہے۔
لیکن موجودہ بحران کا سب سے اہم سبق شاید یہ ہے کہ جنگ میں طاقت کا پیمانہ صرف میزائلوں اور جنگی طیاروں سے نہیں ناپا جا سکتا۔ امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کی رپورٹ میں ایران کے خلاف جنگ کے دوران بھاری مالی اخراجات اور گولہ بارود کے ذخائر پر پڑنے والے دباؤ کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 28 فروری سے 30 جون کے دوران آپریشن پر 33.4 ارب ڈالر خرچ ہوئے، جن میں 22.3 ارب ڈالر صرف گولہ بارود پر صرف ہوئے۔ اس بڑے پیمانے کے استعمال سے اسٹرٹیجک ذخائر میں کمی اور دفاعی صنعتی نظام میں دوبارہ پیداوار کے مسائل سامنے آنے کی بات بھی رپورٹ میں کی گئی ہے۔
یہ اعداد اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جدید جنگ جتنی ٹیکنالوجی پر منحصر ہے، اتنی ہی صنعتی صلاحیت پر بھی۔ جنگی سازوسامان استعمال کرنا ایک مرحلہ ہے، مگر اسے مسلسل دوبارہ تیار کرنا ایک بالکل مختلف چیلنج۔ امریکی صدر کی جانب سے گولہ بارود کی دستیابی کے بارے میں اطمینان کا اظہار اپنی جگہ، لیکن دفاعی رپورٹ اور ماہرین کی آرا یہ بتاتی ہیں کہ طویل جنگ کی معاشی اور صنعتی قیمت الگ سوال ہے۔ اگر ایک بڑی طاقت کو اپنے ذخائر کی دوبارہ تکمیل کے لیے صنعتی پیداوار بڑھانے کی ضرورت پیش آئے تو اس سے واضح ہوتا ہے کہ جنگ کے میدان سے باہر بھی محاذ قائم رہتا ہے۔
ادھر ایران کی جانب سے مذاکرات کے لیے شرائط پوری ہونے تک بات چیت نہ کرنے کا اعلان اور ایرانی وزیر خارجہ کا چین کا دورہ اس بحران کے سفارتی پہلو کو نمایاں کرتا ہے۔ ایسے وقت میں جب فوجی دباؤ بڑھ رہا ہو، چین جیسے بڑے عالمی فریق سے رابطہ صرف دوطرفہ تعلقات کا معاملہ نہیں رہتا بلکہ خطے کے بدلتے ہوئے سفارتی توازن سے بھی جڑ جاتا ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان کا سفارتی کردار خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور رافیل گروسی کے درمیان رابطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کو اہم راستہ قرار دینا اس بات کی علامت ہے کہ جنگ کے بیچ میں سفارت کاری کے دروازے بند نہیں ہونے چاہئیں۔
پاکستان کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ اپنے معاشی مفادات، توانائی کی ضروریات اور علاقائی امن کو ایک ہی حکمت عملی میں سموئے۔ خلیج میں کشیدگی بڑھنے کی صورت میں پاکستان کو نہ صرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں بلکہ سمندری تجارت، ترسیل کے بیمہ اخراجات، زرمبادلہ کے دباؤ اور بیرونی ادائیگیوں کے امکانات کو بھی سامنے رکھنا ہوگا۔ محض قیمت بڑھنے کے بعد ردعمل دینے کے بجائے ممکنہ سپلائی رکاوٹوں کے لیے پیشگی منصوبہ بندی زیادہ موثر ثابت ہوسکتی ہے۔
اگر دنیا نے ہرمز اور باب المندب کے بحران سے یہ سبق حاصل نہ کیا کہ عالمی تجارت کی چند اہم گزرگاہوں پر حد سے زیادہ انحصار پوری معیشت کو غیر محفوظ بنا سکتا ہے تو آیندہ کسی بھی علاقائی تنازع کا اثر پہلے سے زیادہ وسیع ہوگا۔ آج کی ضرورت یہ ہے کہ جنگ کے شور میں تجارت کے راستے محفوظ رکھے جائیں، سفارت کاری کو زندہ رکھا جائے اور توانائی کو سیاسی دباؤ کے بجائے عالمی استحکام کا ذریعہ بنایا جائے۔ یہی راستہ اس بحران کو ایک وسیع تر معاشی المیے میں تبدیل ہونے سے روک سکتا ہے۔
اس تناظر میں پاکستان کو اپنی توانائی پالیسی میں وقتی ردعمل کے بجائے طویل المدتی تحفظ کو مرکزی حیثیت دینا ہوگی۔ عالمی منڈی میں معمولی اتار چڑھاؤ بھی درآمدی معیشت کے لیے بڑے مالی اثرات پیدا کرسکتا ہے، اس لیے تیل کے ذخائر، متبادل ذرائع، توانائی کی بچت اور محفوظ درآمدی راستوں کی منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔ ساتھ ہی خطے میں کشیدگی کم کرنے والی سفارتی کوششوں میں فعال کردار پاکستان کے اپنے معاشی مفاد سے بھی جڑا ہے۔ ہرمز اور باب المندب کی سلامتی دراصل عالمی معیشت کی سلامتی ہے؛ ان راستوں پر امن کی بحالی ہی مہنگائی، سپلائی کے بحران اور مزید انسانی تباہی کے امکانات کو محدود کرسکتی ہے۔