کٹے صوبے نہیں، پورے صوبے چاہئیں
m_saeedarain@hotmail.com
مسلم لیگ (ن) کے سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ’’ (ن) لیگ کو تخت لاہور کے لیے کٹا ہوا پنجاب نہیں ،پورا پنجاب چاہیے ۔‘‘ان کی یہ بات تو درست ہے مگر یہ حقیقت نظر انداز نہیں کرتی چاہیے کہ مسلم لیگ (ن) ہی نہیں بلکہ سندھ میں پیپلز پارٹی اور کے پی میں تحریک انصاف بھی کٹا ہوا سندھ اور کٹا ہوا صوبہ کے پی کے نہیں بلکہ دونوں پارٹیوں کو اپنے اقتدار کے لیے پورے یعنی موجودہ صوبے چاہئیں جہاں تینوں بڑی پارٹیاں طویل عرصے سے حکومت کرتی آ رہی ہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی 18 سالوں سے کے پی میں پی ٹی آئی 13 سالوں سے اور مسلم لیگ (ن) پنجاب میں مسلسل تو نہیں مگر 1990 سے حکومت کرتی آ رہی ہے جب کہ (ن) لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف وزیر اعظم بننے سے قبل تین بار پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے تھے۔
سندھ میں پہلے بھٹو خاندان سے ذوالفقار علی بھٹو پھر ان کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو وزیر اعظم رہیں اور پنجاب میں نواز شریف 3 بار وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب پھر ان کے بھائی تین بار وزیر اعلیٰ اور دوسری بار وزیر اعظم ہیں جب کہ مسلم لیگ ن کی وزیر اعلیٰ پنجاب ہیں اور شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز بھی چند ماہ وزیر اعلیٰ پنجاب رہے تھے۔
بے نظیر بھٹو کے دونوں بھائی فوت ہو جانے کے بعد پیپلز پارٹی ان کے شوہر آصف زرداری کو وراثت میں ملی تھی جس پر وہ 2008 میں بھٹو خاندان کی جگہ سربراہ بنے تھے مگر وہ قومی اسمبلی کے رکن نہیں تھے، اس لیے وہ صدر مملکت بن گئے تھے اور انھوں نے ملک میں دو وزارتیں رکھیں اور پیپلزپارٹی کا چیئرمین اپنے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کو بنوایا تھا۔
2008 سے سندھ میں مسلسل پیپلز پارٹی اقتدار میں ہے اور مراد علی شاہ دس سال سے مسلسل وزیر اعلیٰ سندھ ہیں جب کہ ان کے والد عبداللہ شاہ بھی وزیر اعلیٰ سندھ رہ چکے ہیں اور 18 سال سے ہی پیپلز پارٹی کی خواتین بھی سندھ کے اقتدار میں نہایت اہمیت کی حامل چلی آ رہی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) وفاق اور پنجاب میں اور پیپلز پارٹی سندھ و بلوچستان کے بعد جی بی میں اپنا وزیر اعلیٰ لا چکی ہے جب کہ (ن) لیگ نے آزاد کشمیر میں اپنا وزیر اعلیٰ منتخب کرا لیا ہے۔ ملک کے دو بڑے آئینی عہدے پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے پاس ہیں جب کہ دونوں پارٹیوں کے پاس دو دو صوبوں کی گورنری بھی ہے۔
2013 سے کے پی میں تحریک انصاف کی حکومت ہے مگر وہاں 13 سالوں میں پی ٹی آئی کا چوتھا وزیر اعلیٰ ہے اور مسلم لیگ ن نے فاٹا کو کے پی میں شامل کرکے صوبہ کے پی بڑا کر دیا تھا جہاں ہزارہ صوبے اور پنجاب میں جنوبی پنجاب صوبوں کے مطالبے پر وہاں کی اسمبلیوں نے وہاں دونوں صوبوں کی قراردادیں بھی منظور کر رکھی ہیں مگر وہاں بڑی پارٹیوں نے صرف اعلانات کیے مگر وہاں اپنی وفاقی حکومتوں میں نئے صوبے نہیں بنائے اور اب (ن) لیگ پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب و بہاولپور صوبوں کی مسلم لیگ (ن) کی قراردادیں دس سال بعد غیر موثر ہو چکی ہیں۔ سندھ اسمبلی پانچویں بار سندھ کی تقسیم کی مخالفت کر چکی ہے جب کہ پی ٹی آئی اپنی کے پی حکومت کے سوا وفاقی اور تین صوبوں کی حکومتوں کو غیر قانونی قرار دے کر کہہ چکی ہے کہ ان چاروں غیر قانونی حکومتوں کو نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنانے کا حق ہی نہیں ہے۔
(ن) لیگ 12 کروڑ آبادی کے پنجاب، پیپلز پارٹی 6 کروڑ آبادی کے سندھ اور پی ٹی آئی بھی تقریباً 5 کروڑ آبادی کے صوبوں پر حکمران ہے جہاں کے وزرائے اعلیٰ 18 ویں ترمیم کے خلاف بادشاہ بنے اپنے صوبوں میں بااختیار مقامی حکومتیں بنوا کر پورے صوبے کو ملنے والے وفاقی فنڈز لے رہے ہیں اور سالوں سے فوائد سمیٹ رہے ہیں اور خصوصاً تینوں بڑے صوبے کیوں چاہیں گے کہ ان کے صوبے چھوٹے ہوں اور وہاں کا اقتدار ان کے خاندانوں یا پارٹیوں کے ہاتھوں سے نکل جائے اور این ایف سی ایوارڈ کے مطابق انھیں اربوں روپے کا جو فنڈ مل رہا ہے وہ کم ہو جائے اور ان کے من مانے شاہانہ اخراجات کم ہو جائیں، یہ حکمران ایسا کیسے چاہیں گے ۔
اندرون سندھ سے 18 سال سے حکومت کرنے والی پیپلز پارٹی کیسے چاہے گی کہ ملک کا سب سے بڑا شہر کراچی ترقی کرے اور وہاں کے عوامی مسائل کے حل پر سندھ کو ملنے والا فنڈ خرچ ہو۔ نوابشاہ کا زرداری خاندان کیسے چاہے گا کہ انتظامی یونٹس بننے سے لاڑکانہ کا بھٹو خاندان، ضلع سکھر، ضلع گھوٹکی اور آدھے ضلع شکارپور کے مہر خاندان، خیرپور، نوابشاہ، سانگھڑ، ٹھٹھہ، میرپور خاص میں وہاں کے بااثر پیرپگاڑا، جتوئی، شیرازی، سید و دیگر خاندانوں میں سندھ کا اقتدار تقسیم ہو جائے۔ پی ٹی آئی کیسے چاہے گی کہ کے پی میں نئے صوبے یا انتظامی یونٹوں سے بااثر خاندان یا دیگر پارٹیوں میں کے پی بٹ جائے۔
سندھ میں کرپشن، پنجاب میں من مانی کی شکایات کے پی اور بلوچستان سے زیادہ ہیں۔ بلوچستان اور کے پی سرداروں میں پہلے ہی تقسیم ہے اگر ان صوبوں کی موجودہ حدود کم ہو گئیں تو خاندانی اور پارٹی اقتدار ہی کم نہیں ہوگا ،اربوں روپے ہاتھ سے نکل جائیں گے۔ ذاتی کمائیاں اقربا پروری کم ہو جائے گی، خاندانی اقتدار متاثر ہونے سے عوام کو سہولت تو ملے گی مگر حکمران ایسا کیوں چاہیں گے؟