’ملک میں کوئی فوجی جوہری پروگرام نہیں‘، ایران نے جرمن چانسلر کے دعوے کو جھوٹا قرار دے دیا
تہران: ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ملک میں فوجی نوعیت کے جوہری پروگرام کی موجودگی سے انکار کرتے ہوئے جرمن چانسلر کے ایران جنگ اور جوہری پروگرام سے متعلق بیان کو ’’جان بوجھ کر مسخ کیا گیا بیانیہ‘‘ قرار دیا ہے۔
اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کا کوئی فوجی جوہری پروگرام نہیں ہے، چاہے اسرائیل کی جانب سے بار بار پیش کیے جانے والے دعووں کو دہرایا جاتا رہے۔
ایرانی ترجمان نے جرمن چانسلر کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ امریکا اور اسرائیل نے شروع کی، ایران نے نہیں۔ ان کے مطابق جرمنی نے اس جنگ کی مذمت کے لیے بھی مطلوبہ اخلاقی جرات کا مظاہرہ نہیں کیا۔
بقائی نے خطے میں ایران سے منسلک گروہوں کے بارے میں جرمنی کی جانب سے استعمال کی جانے والی ’’پراکسیز‘‘ کی اصطلاح کو بھی مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ گروہ آزاد فریق ہیں اور اپنے اپنے مقاصد اور مفادات کے تحت کارروائیاں کرتے ہیں۔
ایرانی ترجمان کے مطابق ان گروہوں کا مؤقف قبضے، جارحیت اور تسلط کے خلاف حق خودارادیت، آزادی اور وقار کے حصول سے متعلق ہے۔
اسماعیل بقائی نے جرمنی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے ممالک کو جرمنی کی تاریخی ذمہ داریوں یا طاقتور ممالک کے سامنے اس کے مصالحتی رویے کی قیمت ادا نہیں کرنی چاہیے۔
The German Chancellor speaks of Iran’s “war,” its “military nuclear program,” and Iran’s “proxies.”
— Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) September 16, 2026
This narrative is knowingly distorted. It was #USrael - not Iran - that launched a war of aggression, and Germany failed to show even the minimum moral courage required to deplore… pic.twitter.com/QghYhGUZ1G
ایرانی وزارت خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے جوہری پروگرام اور مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے حوالے سے امریکا، یورپی ممالک اور اسرائیل کے درمیان شدید اختلافات برقرار ہیں۔