مسلم لیگ (ن) پنجاب میں پی ٹی آئی سے بڑا جلسہ کرے تو سیاست چھوڑنے کو تیار ہوں، سہیل آفریدی

مسلم لیگ (ن) کواپنی کارکردگی اورعوام کی حمایت پریقین ہےتو چیلنج قبول کرنے میں ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے، وزیراعلیٰ کے پی

فوٹو: فائل

خیبرپختونخوا کے وزیراعلی محمد سہیل آفریدی نے پاکستان مسلم لیگ (ن) سیاسی چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کے کسی بھی شہر میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مقابلے میں بڑا جلسہ کرکے دکھائے تو سیاست چھوڑنے کے لیے تیار ہوں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ جلسے کے لیے پنجاب کے کسی بھی شہر کا انتخاب مسلم لیگ (ن) خود کرے اور پی ٹی آئی کے لیے بھی وہ اپنی مرضی کا کوئی بھی شہر منتخب کر لے، دن، تاریخ اور وقت بھی مسلم لیگ(ن) خود طے کرے، شرط صرف یہ ہے کہ دونوں جماعتوں کو مکمل اور یکساں لیول پلیئنگ فیلڈ دی جائے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کا جلسہ عوامی شرکت کے اعتبار سے پی ٹی آئی کے جلسے سے بڑا ثابت ہوا تو میں سیاست چھوڑنے کے لیے تیار ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی کا جلسہ بڑا ہوا تو مسلم لیگ (ن) کو پنجاب کے عوام کے سامنے اپنے عوامی مینڈیٹ سے متعلق اٹھنے والے سوالات، سیاسی کارکنوں پر ظلم و جبر اور اپنی طرز حکمرانی اور بدترین کارکردگی پر جواب دینا ہوگا اور عوام سے معذرت کرکے اپنی سیاسی حکمت عملی اور قیادت پر نظرثانی کرنی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ‏میں یہ چیلنج ایک بار پھر پوری وضاحت کے ساتھ پیش کر رہا ہوں، اگر مسلم لیگ (ن) کو اپنی کارکردگی اور پنجاب کے عوام کی حمایت پر یقین ہے تو اسے یہ چیلنج قبول کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ ‏میرا مؤقف ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے لیے سب سے بڑا سیاسی امتحان خود مریم نواز کی ناجائز مینڈیٹ کے ذریعے مسلط کی گئی حکومت کی کارکردگی ہے، اگر انہیں اپنی ناجائز حکومت کی کارکردگی اور عوامی مقبولیت پر اعتماد ہے تو آئیں، میدان میں آ کر عوام کی طاقت کا فیصلہ ہونے دیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اب فیصلہ دعووں، سرکاری اعداد و شمار یا میڈیا بیانات سے نہیں بلکہ عوام کی موجودگی اور عوامی ردعمل سے ہونے دیں، ‏چیلنج سامنے ہے اور ‏فیصلہ پنجاب کے عوام کریں گے جیسے انہوں نے 8 فروری کے دن تحریک انصاف کو دو تہائی اکثریت دے کر کیا تھا۔

Load Next Story