آج اپنی انا، ضد چھوڑ کر کیوان کی پہلی سالگرہ میں شریک ہوجاؤ، ایمان کا رجب بٹ کیلیے جذباتی پیغام

میں نے کبھی تمھیں یا کیوان کو ملنے سے نہیں روکا اور نہ ہی روکوں گی، بیٹے کو ماں اور باپ دونوں کی ضرورت ہے، ایمان اسد

ایمان اسد نے کیوان کی پہلی سالگرہ پر رجب بٹ کے نام جذباتی پیغام جاری کرتے ہوئے سابق شوہر اور اہل خانہ کو تقریب میں شرکت کی دعوت دے دی۔

سماجی رابطے کی سائٹ انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ایک اسٹوری میں ایمان اسد نے لکھا کہ رجب، آج کیوان کی پہلی سالگرہ ہے اور میں دل سے چاہتی ہوں کہ تم اپنے بیٹے کی اس خوشی میں ہمارے ساتھ شریک ہو۔

انہوں نے لکھا کہ میں نے تمہیں یا کیوان کو کبھی ملنے سے نہیں روکا اور نہ ہی کبھی روکوں گی کیونکہ یہ باپ اور بیٹے کا رشتہ ہے، میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ ہمارا بچہ ماں اور باپ دونوں کی محبت اور توجہ کے ساتھ بڑا ہو۔ آخر کیوان بھی تو یہی چاہتا ہوگا کہ اس کے والد اس کی خوشیوں میں اس کے ساتھ ہوں۔

ایمان نے کہا کہ رجب، یہ دن عدالتوں اور تنازعات کے لیے نہیں، ہمارے بیٹے کی معصوم خوشیوں کے لیے ہے، اس کی پہلی سالگرہ ہے، اور میں نہیں چاہتی کہ اس خوبصورت دن کی یادیں کسی تلخی یا عدالت کی چار دیواری سے جڑ جائیں۔ تم سے بس اتنا پوچھنا چاہتی ہوں، کیا کبھی تم نے کیوان کا حال پوچھا؟ کیا کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ کیسا ہے، اسے کیا چاہیے، اس کے ساتھ وقت کیسے گزارا جائے یا اس کی ذمہ داری کیسے نبھائی جارہی ہے؟

انہوں نے لکھا کہ ایک سال کی خاموشی اور دوری صرف ایک سالگرہ منا لینے سے ختم نہیں ہوسکتی کیونکہ باپ ہونا صرف ایک دن کی بات نہیں، یہ ہر روز کی ذمہ داری ہے، میرے دروازے تمہارے لیے ہمیشہ کھلے رہے ہیں۔ عید پر بھی میں نے تمہیں کیوان سے ملنے سے نہیں روکا تھا جبکہ صرف 8 روز پہلے مجھے تمھاری طرف سے طلاق کا نوٹس بھیجا گیا تھا اور آج بھی میں چاہتی ہوں کہ تم آؤ، کیوان کی سالگرہ میں شریک ہو اور اسے اپنی محبت دو۔

ایمان نے لکھا کہ رجب، آج اپنی انا، اختلافات اور باقی سب باتیں ایک طرف رکھ کر صرف اپنے بیٹے کے بارے میں سوچو۔ آؤ، کیوان کی پہلی سالگرہ کو خوبصورت اور یادگار بنائیں، تم اپنے ساتھ والدہ اور بہن و دیگر کو بھی لاسکتے ہیں۔

انہوں نے آخر میں اپیل کی کہ دونوں خاندانوں کی خوشیوں کو سوشل میڈیا کی زینت نہ بناؤ بلکہ حقیقت میں خوشیاں اور 

اور لوگوں سے بھی میری بس یہی درخواست ہے کہ ہماری زندگی اور ہمارے بچے کی خوشیوں کو سوشل میڈیا کی بحث نہ بنائیں۔ اسے نفرت اور تنازع نہیں، محبت اور خوشیوں کی ضرورت ہے۔

Load Next Story