پنجاب میں پری اسموگ آپریشن تیز، آلودگی پھیلانے والے 37 یونٹس مسمار
پنجاب میں سموگ سیزن سے قبل آلودگی کے پھیلاؤ کیخلاف خلاف کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے میں 441 اینٹوں کے بھٹوں اور 270 صنعتی یونٹس کی انسپیکشن کے دوران 21 بھٹے اور 16 صنعتی یونٹس مسمار کردیے گئے، جبکہ خلاف ورزیوں پر جرمانے، مقدمات اور سیل کرنے کی کارروائیاں بھی کی گئیں۔
محکمہ ماحولیات پنجاب کے مطابق بھٹوں کے خلاف کارروائی میں 4 بھٹے سیل، 6 ایف آئی آرز درج اور 25 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا، جبکہ صنعتی یونٹس کے خلاف کارروائی میں 5 یونٹس سیل، ایک ایف آئی آر درج اور 16 لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا۔
پلاسٹک آلودگی کے خلاف 253 انسپیکشنز کے دوران 3 ہزار 145 کلوگرام پلاسٹک ضبط کرکے 26 مقامات سیل کیے گئے۔ باربی کیو اور کمرشل کچنز کے 52 مقامات کی چیکنگ کی گئی، جہاں 30 مقامات پر دھوئیں کے اخراج میں کمی کے لیے سکشن ہڈز نصب کیے گئے۔
ڈی جی ماحولیات پنجاب عبداللہ نائیر شیخ کی ہدایت پر ڈرون اسکواڈ، نائٹ اسکواڈ اور ہاک آئی فیلڈ اسکواڈ کے ذریعے سموگ ہاٹ اسپاٹس اور آلودگی کے ذرائع کی 24 گھنٹے نگرانی جاری ہے۔ حکام کے مطابق ڈرون سے نشاندہی کے بعد فیلڈ ٹیمیں موقع پر پہنچ کر کارروائی کررہی ہیں۔
انسداد اسموگ کارروائیوں کے تحت پنجاب بھر میں 1006 کلومیٹر سڑکوں پر پانی کا چھڑکاؤ بھی کیا گیا، جبکہ فصلوں کی باقیات جلانے کی روک تھام کے لیے 10 ہزار سپر سیڈرز، 163 بیلرز اور 1259 مشینی آلات فعال ہیں۔ حکام کے مطابق اب تک ایک لاکھ 48 ہزار 231 ایکڑ رقبے پر فصلوں کی باقیات مشینی طریقے سے تلف کی جاچکی ہیں۔
پنجاب میں چاول کی فصل 63 لاکھ 32 ہزار 311 ایکڑ رقبے پر کاشت کی گئی ہے، جس میں سے 3 لاکھ 57 ہزار ایکڑ پر برداشت مکمل ہوچکی ہے۔ فصلوں کی باقیات جلانے کے خلاف 3 لاکھ 77 ہزار وارننگ نوٹسز جاری کیے گئے، جبکہ گزشتہ روز صرف ایک واقعہ رپورٹ ہوا جس پر 30 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کے مطابق اسموگ کی روک تھام کے لیے نگرانی، انفورسمنٹ، آگاہی اور جدید مشینری پر مبنی مربوط اقدامات جاری ہیں، جبکہ 2029 تک سپر سیڈرز کی تعداد 20 ہزار تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس بین الاقوامی ڈیٹا کے مطابق 55 جبکہ پنجاب کے اے کیو آئی نظام کے تحت 90 ریکارڈ کیا گیا ہے۔