مُہر بہ لب

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پاس وزارت عظمیٰ اور پنجاب کی حکومت ہے جب کہ پیپلز پارٹی کو سندھ کی حکمرانی کا کنٹرول حاصل ہے

ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) بیک وقت ایک دوسرے کی اتحادی بھی ہیں اور ایک دوسرے کے مقابل بھی کھڑی نظر آتی ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پاس وزارت عظمیٰ اور پنجاب کی حکومت ہے جب کہ پیپلز پارٹی کو سندھ کی حکمرانی کا کنٹرول حاصل ہے۔ آزاد کشمیر میں ہونے والے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف پیپلز پارٹی کو مسلم لیگ (ن) سے گلے شکوے جب شدت اختیار کرنے لگے تو دونوں جماعتوں کے درمیان فاصلے بڑھنے لگے۔

پیپلز پارٹی نے باقاعدہ دستاویزی ثبوت کے ساتھ آزاد کشمیر انتخابات میں دھاندلی کی تحریری شکایت مسلم لیگ (ن) تک پہنچائی۔ جواب میں زبانی کلامی پیپلز پارٹی کو طفل تسلیاں دی گئیں تو پیپلز پارٹی نے واضح طور پر پیغام دے دیا کہ وہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے ساتھ قومی اسمبلی میں قانون سازی کے موقع پر تعاون نہیں کرے گی۔ نتیجتاً مسلم لیگ (ن) میں تشویش کی لہریں اٹھنے لگیں کہ پیپلز پارٹی کے دست تعاون کے بغیر مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم نہیں رہ سکتی۔اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے مفاہمت و مصالحت کا بیڑا اٹھایا اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب رہے۔ دونوں جماعتوں نے ایک مرتبہ پھر ایک دوسرے کے ساتھ تمام قومی امور پر مشاورت و مفاہمت کے ساتھ آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مبصرین و تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ملک کے موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا اتحاد ہی ان کی سیاسی بقا کا ضامن ہے کہ دونوں جماعتوں کو عوامی سطح پر اپنی مقبولیت کا بخوبی اندازہ ہے۔ بالخصوص مسلم لیگ (ن) پر پی ٹی آئی کی جانب سے فارم 47 کا الزام مستقل اس کا پیچھا کر رہا ہے۔ اس پہ مستزاد مسلم لیگ (ن) کی حکومتی کارکردگی نے گزشتہ تین سال کے دوران اس کا عوامی مورال خاصا نیچے کر دیا ہے۔ پیپلز پارٹی شہباز حکومت کی کارکردگی سے خود کو بری الذمہ قرار دیتی ہے کہ ان کے پاس کوئی حکومتی عہدہ نہیں، وفاقی کابینہ میں پیپلز پارٹی کی کوئی نمائندگی نہیں۔ تمام وزرا مسلم لیگ (ن)، ایم کیو ایم اور دیگر اتحادی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسی باعث پیپلز پارٹی کے رہنما حکومت کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنانے میں آزادی و آسانی محسوس کرتے ہیں۔

ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، غربت اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آئے دن ہونے والے اضافے سے لے کر بجلی و گیس نرخوں میں اضافے سے پیدا شدہ عوامی مسائل کا سارا ملبہ مسلم لیگ (ن) کے کھاتے میں جاتا ہے جس کے باعث عوامی سطح پر مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت کا گراف مسلسل نیچے جا رہا ہے۔ گزشتہ تین سالوں کے دوران مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ آٹے، چینی، چاول، گھی، تیل، گوشت، سبزی، دودھ غرض روز مرہ استعمال کی عام اشیا کی قیمتیں ہر گزرنے والے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہیں۔ حکومت کا قیمتوں پر کنٹرول کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔

ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں ہر روز ہونے والے اضافے سے پیداواری اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے جس کے باعث اشیا کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ ٹرانسپورٹر حضرات کرایوں میں اضافہ کر دیتے ہیں جس سے روزانہ اجرت پر کام کرنے والے، تنخواہ دار ملازم اور عام آدمی اپنی محدود آمدنی سے گھر کے بھاری اخراجات کا بوجھ نہیں اٹھا پا رہا ہے۔ آئے دن اخبارات میں یہ خبریں آتی ہیں کہ فلاں علاقے میں مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کے ہاتھوں تنگ آ کر فلاں شخص نے خودکشی کر لی۔ حضرت علیؓ کا قول ہے کہ معاشرہ کفر پر تو قائم رہ سکتا ہے ظلم و ناانصافی پر نہیں۔ اور حضرت عمرؓ کا فرمان ہے کہ اگر دریائے فرات کے کنارے بھوک سے کتا بھی مرے گا تو عمرؓ روز قیامت جواب دہ ہوگا۔ آج ملک میں کتنے لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں۔

ان سب کا بوجھ حکومت پر ہوگا۔ سو روپے فی لیٹر کا عارضی ریلیف بارگراں کم نہیں کر سکتا۔ہماری سیاسی قیادت کا یہی المیہ ہے کہ یہ اپنے سیاسی و جماعتی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک دوسرے کی مخالفت کے باوجود اپنی سیاسی بقا کی خاطر مل بانٹ کر اقتدار کے دسترخوان پر ساتھ بیٹھنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتیں لیکن جب عوام کے مفادات کی بات آتی ہے تو زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں۔

مہنگائی اور پٹرولیم لیوی کے خلاف آج جماعت اسلامی ملک بھر میں دھرنے دے بیٹھی ہے مسلسل اپنا احتجاج ریکارڈ کروا رہی ہے اور عوام کی آواز بن کر حکمرانوں کو خواب غفلت سے جگانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن قومی اسمبلی میں ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے مہنگائی، غربت، بے روزگاری، بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف کوئی آواز سنائی نہیں دیتی، سب مہر بہ لب ہیں۔ کیا انھوں نے جن وعدوں اور دعوؤں کی بنیاد پر عوام سے ووٹ لیے تھے کیا ان کا حق ادا کر دیا؟ ذرا سوچیے۔

Load Next Story