ایسی سرگرمی جس سے بنیادی حقوق متاثر ہوں آئین کے خلاف تصور ہوگی، پی ٹی آئی لانگ مارچ کیخلاف تحریری فیصلہ
فوٹو: فائل
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی ممکنہ لانگ مارچ کے خلاف کیس میں قرار دیا ہے کہ ایسی سرگرمی جس سے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوں وہ آئین کی خلاف ورزی تصور ہوگی، ذمہ دار سرکاری افراد کو نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر، جسٹس اعظم خان اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل لارجر بینچ نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے ممکنہ لانگ مارچ کے خلاف تاجر وقاص احمد کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کردیا، مختصر فیصلہ 14 ستمبر کو جاری کیا تھا۔
عدالت نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو پُرامن اجتماع اور سیاسی اختلاف کا آئینی حق حاصل ہے، شہریوں کے جان، آزادی، عزت، آزادانہ نقل و حرکت اور کاروبار کے حقوق بھی آئینی ہیں، سیاسی احتجاج کے حق اور شہریوں کے بنیادی حقوق میں آئینی توازن ضروری ہے، سیاسی جماعت کا احتجاج کا حق آئین اور قانون کے تابع ہے، سوال یہ بھی ہے ہائیکورٹ قبل از وقت سیاسی احتجاج کے معاملے میں کس حد تک مداخلت کر سکتی ہے؟ اسلام آباد میں آئینی اداروں کے معمول کے کام کا تسلسل بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے، شہریوں کو اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور عدالتوں تک رسائی کا حق حاصل ہے۔
عدالت نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 15 شہریوں کو پاکستان میں آزادانہ نقل و حرکت کا حق دیتا ہے، آرٹیکل 16 کے تحت شہریوں کو پُرامن اور بغیر اسلحہ اجتماع کا حق بھی حاصل ہے، اجتماع پر پابندی صرف قانون کے تحت اور مفادِ عامہ میں معقول حد تک عائد کی جا سکتی ہے آرٹیکل 17 شہریوں کو انجمنیں اور یونینز بنانے کا حق دیتا ہے، آزادیِ اجتماع پر پابندیاں عوامی نظم و ضبط کے مفاد میں قانون کے تحت عائد کی جا سکتی ہیں۔
عدالت نے فیصلے میں پی ٹی آئی کی گزشتہ یقین دہانیوں کی خلاف ورزی کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ قابل افسوس ہے کہ یقین دہانیاں اور عدالتی ہدایات نظر انداز کی جاتی رہیں، سپریم کورٹ میں دی گئی یقین دہانی کی بانی چیئرمین نے خود خلاف ورزی کی، نومبر 2024ء کے احتجاج میں ہائیکورٹ نے بھی فیصلہ جاری کیا لیکن عمل نہ ہوا، عدالت کے سامنے موجود کیس قیاس آرائیوں پر مبنی نہیں، سیاسی جماعت کی عدالتی احکامات اور یقین دہائیوں نظرانداز کرنے کی تاریخ ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ ماضی کے مارچ میں خیبرپختونخوا کے سرکاری وسائل سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیے گئے ایسے مارچ کے نتیجے میں اسلام آباد کے شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ممکن نہیں رہتا کسی صوبائی اکائی کی وفاق کے خلاف مارچ، ریلی یا جلوس کی صورت میں جارحیت غیرآئینی اور غیرقانونی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ اسلام آباد کی طرف کسی سیاسی مارچ کے لیے سرکاری فنڈز، گاڑیاں، مشینری یا سرکاری اہلکار استعمال نہیں کیے جا سکتے پُرامن احتجاج آئینی حق، مسلح یا سرکاری وسائل سے چلنے والا مارچ آئینی تحفظ نہیں رکھتا۔ اسلام آباد پر سیاسی دباؤ ڈالنے کے لیے شہری زندگی، کاروبار، تعلیم اور نقل و حرکت متاثر کرنا حقِ احتجاج کے دائرے میں نہیں آتا، لانگ مارچ کا حق قانون کے تابع ہے، وفاقی دارالحکومت کا محاصرہ یا شہری حقوق کی معطلی آئینی حق نہیں۔
عدالت نے ان ہدایات کے ساتھ درخواست نمٹا دی۔