ملک کے کئی علاقوں میں موبائل فون کوریج تاحال نہ ہونے کا انکشاف
جیل میں نصب طاقتور جیمرز سے ڈی آئی جی ایسٹ کا دفتر اور متصل نیوٹائون تھانہ بھی براہ راست متاثر ہورہا ہے۔ فوٹو: فائل
ملک کے مختلف علاقوں میں موبائل فون کوریج نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے جس پر مقررہ لائسنس یافتہ معیار کی خلاف ورزی پر متعلقہ آپریٹرز کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور انہیں مقررہ معیارات کی تکمیل کے لیے ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پی ٹی اے نے سال 2026 کی دوسری سہہ ماہی (اپریل تا جون) کے لیے کوالٹی آف سروس (کیو او ایس) سروے کے نتائج جاری کر دیے، جس میں بڑے شہروں،فوکسڈ اور دیہی علاقوں کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
یہ سروے موبائل فون نیٹ ورک کیو او ایس ریگولیشنز 2021 کے تحت کیے گئے جن میں تمام موبائل فون آپریٹرز (سی ایم اوز) کی کوریج، موبائل براڈ بینڈ، وائس اور ایس ایم ایس سروسز کو مقررہ معیارات (کے پی آئیز) کے مطابق جانچا گیا ہے۔
پی ٹی اے کی فیلڈ ٹیموں نے مختلف علاقوں میں تفصیلی سروے کیے11 بڑے شہروں میں تقریباً 27ہزار تین سو وائس کالز اور ایس ایم ایس ٹیسٹس جبکہ 0.19 ملین موبائل براڈ بینڈ سیمپلز اکٹھے کیے۔
رپورٹ کے مطابق فوکسڈ اور دیہی علاقوں میں تقریباً تین ہزار تین سو وائس/ایس ایم ایس ٹیسٹس اور 24ہزار براڈ بینڈ سیمپلز لیے گئے اسی طرح آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے چھ بلند پہاڑی مقامات پر تقریباً چار ہزار ایک سو وائس،ایس ایم ایس ٹیسٹس اور تین ہزار نو ساٹھ براڈ بینڈ سیمپلز کا جائزہ لیا گیا۔
سروے کے دوران دیہی علاقوں میں ڈیجیٹل سہولیات کی دستیابی میں نمایاں فرق سامنے آیا اور بعض ایسے علاقوں کی نشاندہی بھی ہوئی جہاں تاحال موبائل فون کوریج دستیاب نہیں ہے، دور دراز علاقوں میں طویل لوڈشیڈنگ،ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی چوری اور توڑ پھوڑ، فائبر کٹس اور سیکیورٹی کی صورتحال سروسز کی بہتری میں اہم رکاوٹیں ہیں دیہی علاقوں میں کیے گئے۔
سروے کے دوران ڈیجیٹل رسائی میں نمایاں خلا سامنے آیا اور ایسے علاقوں کی نشاندہی ہوئی جہاں تاحال موبائل کوریج دستیاب نہیں ہے دور دراز علاقوں میں طویل لوڈشیڈنگ، ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی چوری اور توڑ پھوڑ، فائبر کٹس، رائٹ آف وے سے متعلق مسائل اور سیکیورٹی کی صورتحال ٹیلی کام سروسز کی توسیع اور بہتری میں اہم رکاوٹیں ہیں غیر مستفید اور کم سہولیات والے علاقوں تک ٹیلی کام سروسز کی رسائی کے فروغ کے پیش نظر یونیورسل سروس فنڈ (یو ایس ایف) کے ذریعے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ رائٹ آف وے کی منظوری کے عمل کو آسان بنانے اور ٹیلی کام نیٹ ورکس کے لیے بلاتعطل تجارتی بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے سلسلے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ رابطہ اور تعاون بھی جاری ہے۔
سروے کے نتائج کے مطابق ملک بھر میں ایس ایم ایس اور وائس سروسز کے حوالے سے مقررہ معیار مجموعی طور پر بہتر پائے گئےتاہم موبائل براڈ بینڈ کی کارکردگی میں بعض علاقوں میں فرق پایا گیا۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ مقررہ لائسنس یافتہ معیار کی خلاف ورزی پر متعلقہ آپریٹرز کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور انہیں مقررہ معیارات کی تکمیل کے لیے ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔
یہ سروے رپورٹس پی ٹی اے کی ویب سائٹ پر موجود ہے جن کی اشاعت کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا، صارفین کو معلومات کی فراہمی اور موبائل آپریٹروں کو سروس کے معیار میں مسلسل بہتری کی جانب راغب کرنا ہے۔
پی ٹی اے صارفین کے مفادات کے تحفظ، ٹیلی کام سروسز کے معیار کی بہتری، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور ملک بھر میں صارفین کو بہتر اور معیاری ٹیلی کمیونیکیشن سروسز کی فراہمی کے لیے اپنے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔