عوامی مسائل کے حل کا راستہ
salmanabidpk@gmail.com
ایک بنیادی نوعیت کا سوال یہ ہے کہ اگر حکمرانی کا نظام ناکامی سے دوچار ہوجائے تو لوگ کدھر جائیں گے؟عمومی طور پر لوگوں کا بھروسہ اور اعتماد حکومت سمیت اس کے ادارہ جاتی نظام پر ہوتا ہے کہ وہ مشکل وقت میں ان کے مسائل کے حل میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔لیکن ہمارے یہاں ایسا نہیں ہے۔کیونکہ پارلیمنٹ کی سطح پر ہونے والی بحثیں، عدالتی نظام،سیاسی جماعتیں،سول سوسائٹی،میڈیا لوگوں کی زندگیوں میں کوئی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کر رہے ہیں۔لوگوں کی سطح پر ان کی روزمرہ مجموعی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔
لوگوں کو لگتا ہے کہ ہمارا مجموعی نظام ان کی ضرورت کے ساتھ نہیں جڑا ہوا اور یہ تعلق مضبوط ہونے کی بجائے کمزور ہوتا جارہا ہے۔پہلے لوگوں کو لگتا تھا کہ انتخابات تبدیلی کا راستہ ہوتے ہیں اور ہم اپنی مرضی ومنشا کے ساتھ اپنی قیادت کا انتخاب کرسکتے ہیں۔اب یہ فکری مغالطہ بھی لوگوں کے ذہنوں سے نکل گیا ہے کہ یہاں منصفانہ انتخابات کی بنیاد پر حکومتوں کو منتخب کیا جاتا ہے۔ اسی طرح لوگوں کو لگتا ہے کہ ہم سیاسی،آئینی اور قانونی بنیادوں پر پرامن سیاسی جدوجہد اور مکالمہ کر سکتے ہیں۔ اسی بنیاد پر سیاسی جماعتیں حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے پرامن احتجاج کا راستہ اختیار کرتی ہیں۔لیکن اس پرامن احتجاج کا کوئی پرامن حل نہیں نکلتا تو لوگوں میں مایوسی بڑھتی ہے۔
جماعت اسلامی نے پٹرول،ڈیزل اور تیل کی قیمتوں میں اضافے میں لیوی ٹیکس کے خلاف پورے ملک میں پرامن احتجاج کیا، لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔اب جماعت اسلامی نے 20ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کردیا ہے جو خود حکومت کی ناکامی کے زمرے میں آتا ہے۔اسی طرح پی ٹی آئی کے جو بھی سیاسی مطالبات ہیں وہ اسے منوانے کے 27ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کررہے ہیں۔ کسانوں نے بھی اپنے مسائل کے حل کے لیے23 ستمبر کو اسلام آباد کی کال دے دی ہے۔اصل میں حکمرانوں کی یہ حکمت عملی ہونی چاہیے کہ وہ سیاسی مسائل کا حل سیاسی حکمت عملی کے تحت ہی تلاش کریں اور ایسا ماحول پیدا نہ ہونے دیں جو سیاسی تلخیوں یا انتشار کو پیدا کرنے کا سبب بنے۔
ایک طرف آپ لوگوں کے پرامن احتجاج پر توجہ نہ دیں اوردوسری طرف پارلیمانی سیاست عوامی مسائل سے لاتعلق ہوجائے یا پارلیمنٹ کا کردار جمہوری سیاست کو مضبوط نہ کرے تو پھر لوگ سیاست، جمہوریت اور پارلیمانی سیاست پر کیوں یقین کریں گے۔ حکمران طبقہ یہ ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہے کہ لوگ کس قدر پریشان اور بدحال ہیں ۔ معاشی بدحالی نے ان کو کن بڑی مشکلات سے دوچارکر دیا ہے۔ حکمران طبقات،ریاستی نظام اور سیاسی جماعتیں عوامی معاملات سے لاتعلق ہوچکی ہیںاور اس عمل نے لوگوں کو سیاسی طور پر تنہا کردیا ہے۔یہ جو کچھ عرصہ سے پٹرول، ڈیزل،تیل،بجلی ،ادویات اور روزمرہ کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ،بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کا طوفان برپا ہے مگر عوام کدھر جائیں۔
ایسے لگتا ہے کہ موجودہ نظام اور عوام کے درمیان ایک ایسی لاتعلقی ہے جو مجموعی طور پر نظام کی ناکامی کی تصویر پیش کررہا ہے۔اہم بات یہ ہے اس ملک میں کئی سو کے حساب سے سیاسی جماعتیں ہیں۔لیکن عوامی مسائل پر کسی بھی جماعت ماسوائے جماعت اسلامی نے عوامی مسائل پر آواز نہیں اٹھائی جو خود سیاسی جماعتوں کی نااہلی اور ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔عوامی سطح پر اب یہ سوال اکثر پوچھا جاتا ہے کہ ہم اپنے مسائل کے حل کے لیے کہاں جائیں ، جب ان کو کہا جاتا ہے کہ آپ کو اپنی منتخب حکومت سے یہ سوالات کرنے ہونگے تو لوگ سوچ میں پڑ جاتے ہیں۔کیونکہ اب ان میں یہ یقین ہوگیا ہے کہ انتخابی عمل مکمل طور پر درست نہیں ہے اور یہ کھیل انتخابات میں نہیں بلکہ بڑی طاقتوں کے درمیان ہوتا ہے۔اس سوچ کا پیدا ہونا لوگوں کو جمہوری اور انتخابی عمل سے اور زیادہ دور کر رہا ہے۔ پاکستان کے دو صوبوں کے حالات تو اپنی سکیورٹی کی بنیاد پر پریشان کن ہیں اور اس کی ایک بھاری قیمت ہم دہشت گردی کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔
یہ جو معاشرے میں لاتعلقی کی سوچ پیدا ہوتی ہے اس کی بڑی وجہ بھی حکومت کے نظام سمیت عوامی مسائل کے حل میں ناکامی ہے۔یہ ہی وجہ کہ لوگ نظام سے نالاں نظر آتے ہیں اور کسی متبادل نظام کی تلاش کی خواہش رکھتے ہیں۔لیکن ایسے لگتا ہے کہ نظام میں لوگوں کو ریلیف دینے والے تمام ادارے کمزور ہوگئے ہیںاور ان کی عدم فعالیت نے لوگوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔کوئی بھی نظام کی بنیاد جب جوابدہی پر مبنی ہوگی اور احتساب سمیت شفافیت ہوگی تو وہیں لوگوں کو ریلیف مل سکتا ہے اور یہ عمل لوگوں کو اداروں کی بڑی مضبوطی کی طرف لاتا ہے۔اصل میں سیاسی نظام کی کامیابی اس نظام میں موجود سیاسی جماعتوں کے کردار سے جڑی ہوتی ہے۔لیکن یہاں سیاسی جماعتوں کے حوالے سے ہمیں تین بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔
اول سیاسی جماعتوں کا داخلی غیر جمہوری نظام اور موروثی سیاست سے جڑا نظام،دوئم سیاسی جماعتوں اور عوام کے درمیان بڑے پیمانے پر لاتعلقی یا عوامی مسائل سے نظرانداز کی پالیسی،سوئم ان کی مجموعی سیاست طاقت کے مراکز سے جڑی ہوئی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ سیاسی جماعتوں پر بے جا تنقید کی جائے مگر ان کو یہ احساس دلانا ہوگا یا ان کو عوامی سطح پر جنجھوڑنا ہوگا کہ وہ اپنا سیاسی قبلہ درست کریں اور اقتدار میں شامل سیاسی جماعتیں اپنی شاہانہ حکمرانی کے انداز کو بھی تبدیل کریں۔ہمارے بعض دوست گلہ کرتے ہیں کہ ہم سیاسی جماعتوں پر بے جا تنقید کرتے ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ غیر سیاسی قوتوں کی بار بار کی مداخلتوں نے بھی سیاسی اور جمہوری نظام کو متاثر کیا ہے۔لیکن ہماری زیادہ تر توقعات تو سیاسی اور جمہوری جماعتوں سے ہوتی ہیں اور انھوں نے جمہوری ماڈل کی بنیاد پر ریاست کے نظام کو جمہوری ریاست میں تبدیل کرنا ہوتا ہے۔اس لیے جب سیاسی جماعتوں پر تنقید کی جاتی ہے تو اس پہلو کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا تاکہ عوامی سطح پر سیاسی جماعتوں کو سیاسی نظام میں زیادہ جوابدہ بنایا جاسکے۔کیونکہ جب ملک میں سیاسی جماعتیں جوابدہ ہونگی تو ان کی سیاست کی بنیاد پرعوامی مفادات کو بھی اہمیت مل سکتی ہے۔
اصولی طور پر تو پاکستانی سیاست کو تبدیل ہونا ہے اور موجودہ گورننس کے نظام میں بھی تبدیلی ناگزیر ہے۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ تبدیلی کا یہ عمل کیسے ممکن ہوگا۔ کیونکہ تبدیلی کی راہ میں رکاوٹیں بہت ہیں اور اس نظام کو اسی روائتی طورطریقوں سے چلایا جا رہا ہے۔ اصل میں ہمیں سیاسی اور عوامی محاذ پر ایک بڑی مزاحمت درکار ہے جو نظام کی تبدیلی میں کلیدی کردار ادا کر سکے۔ لوگ انفرادی سطح پر تو نظام سے نالاں ہیں لیکن ابھی ہم اجتماعی طورپر مضبوط آوازوں کو کم دیکھتے ہیںجس سے بڑی مزاحمت کے امکانات کمزور نظر آتے ہیں۔
اہم کام رائے عامہ بنانے والے انفرادی افراد اور اداروں کی بڑی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ لوگوں کے حقوق پر آواز اٹھائیں اور عام یا کمزور طبقات کی طاقت بنیں۔کیونکہ ان کا یہ عمل ایک بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کرسکے گا۔طاقت کے سامنے مظلوم کی آواز بننا اور ان کے مفادات کو تقویت دینا ہی سیاسی اور جمہوری سیاست کو مضبوط کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔
یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اس وقت ملک کے عام آدمی کے تناظر میں مسائل گھمبیر اور مشکل ہوگئے ہیں اور ان کو ریلیف دیے بغیر حکمرانی کا نظام کامیابی سے آگے نہیں بڑھ سکے گا۔اس لیے لوگوں کو جہاں معاشی حقوق درکار ہیں تو اسی طرح دوسری طرف ان کو سیاسی،جمہوری ،آزادی اظہار اور بنیادی انسانی حقوق بھی درکار ہیں۔ان تمام حقوق کی پاسداری کی بنیاد پر ہی ریاست کا نظام آگے بڑھ سکتا ہے۔اس لیے اگر ہمیں آگے بڑھنا ہے تو ماضی کی سیاست اور پالیسیوں سے باہر نکل کر خود کو جدید ریاست کے تصور کے ساتھ جوڑنا ہے جو لوگوں کے بنیادی حقوق کی پاسداری کو ممکن بناسکے۔لیکن یہ کام سیاسی تنہائی میں ممکن نہیں ہوگا اور اس نظام کی مضبوطی میں سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔