حکومت ہمارے پیاروں کی رہائی کیلیے چند کروڑ نہیں دےسکتی؟ صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کے اہل خانہ کا مظاہرہ
صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال 10 پاکستانیوں کے اہل خانہ نے اپنے پیاروں کی بازیابی کیلیے ایک بار پھر احتجاج کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تاوان کی رقم ادا کردے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق صومالی قذاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کے لیے امروہہ سوسائٹی کے باہر احتجاج کیا جس میں یرغمال پاکستانیوں کے خاندان شریک ہوئے۔
متاثرہ خاندانوں نے اپنے پیاروں کی رہائی کے لیے شدید نعرے بازی کی اور سوال کیا کہ کیا حکومت 10 پاکستانیوں کی رہائی کے لیے چند کروڑ روپے بھی ادا نہیں کرسکتی؟
متاثرین نے کہا کہ عام شہری حکومت سے سوال کر رہا ہے کہ عوام کی جان اس قدر سستی ہے کہ بیرون ملک پانیوں میں ہمارے پیاروں کو اغوا کیا جائے اور حکومت تماشائی بنے دیکھتی رہے، ہمیں بتایا جائے کہ ہمارے پیاروں کی واپسی کیلیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔
متاثرین نے کہا کہ حکومت کا یہ رویہ کسی بھی بہتر معاشرے کی عکاسی نہیں کرتا، ہم کب تک بے بسی کی تصویر بنے رہیں۔
اس موقع پر پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما بشیر خاصخیلی، جے ڈی سی فائونڈیشن کے سربراہ ظفر عباس اور انصار برنی ٹرسٹ سے وابستہ ایڈوکیٹ قرت العین نے بھی خطاب کیا۔
پیپلز پارٹی کے رہنما بشیر خاصخیلی نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف اور وزیر داخلہ محسن نقوی آپ ان مظلوم پاکستانیوں کی مدد کریں، چند قذزاقوں نے آپ کے شہریوں کو یرغمال بنا رکھا ہے اور ان کی رہائی کے لیے یہ ہماری مائیں بہنیں پریشان حال ہیں اور سڑک پر بیٹھیں ہیں 10 پاکستانیوں پر ہر وقت موت منڈلا رہی ہے۔
انھوں نے اہل خانہ سے کہا کہ ہم ہر فورم پر آپ کے لیے آواز اٹھائیں گے۔ سماجی رہنما ظفر عباس نے کہا کہ دنیا کی تاریخ میں لوگ اپنے گھر کے باہر احتجاج نہیں کرتے لیکن ان لوگوں کو مجبور کردیا گیا ہے کہ یہاں احتجاج کریں۔
انہوں نے کہا کہ یرغمالیوں کے اہل خانہ نے شاہراہ فیصل پر وزارت خارجہ کے دفتر کے باہر احتجاج کیا تو انھیں پولیس تھانے لے گئی، حکومت بتائے کیا ان یرغمالیوں کا حق نہیں ہے کہ وہ وطن واپس آجائیں۔
ظفر عباس نے فیلڈ مارشل آصف منیر سے درخواست کی کہ یہ خاندان ڈیڑھ سو دن سے آپ سے اپیل کررہے ہیں آپ ان کے پیاروں کو واپس لائیں ، انھوں نے حکومت سے سوال کیا کہ جب صومالی قزاق پاکستانی یرغمالیوں کو ایک ایک کر کے مارنا شروع کریں گے تب ہماری حکومت حرکت میں آئے گی انھیں زندہ واپس لائیں۔
انصار برنی ٹرسٹ کی ایڈوکیٹ قرت العین نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت سے کہوں گی یہ دہشت گرد نہیں عوام ہیں ان کا خیال کریں میں نے ہی انھیں ٹیپو سلطان تھانے سے رہا کرایا تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہمیں منسٹری آف ہیومن رائٹس سے جواب چاہیے ان کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے حکومت تاوان دے یا آپریشن کرے لیکن ان کے پیاروں کو واپس لائے۔