والدین، بچے اور سوشل میڈیا

ان معاشرتی اچھائیوں کو نئی نسل تک پہنچانا ہماری ذمے داری بھی ہے

واٹس ایپ، انسٹاگرام، ٹوئٹر، ٹک ٹاک اور فیس بک آج کا دور اور انسان ان ایجادات کے بغیر خود کو تقریبا نا مکمل محسوس کرتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ اس ترقی یافتہ دور میں سوشل میڈیا نے انسانوں سے گہرا سماجی اور ثقافتی رشتہ قائم کر لیا ہے۔

جدید ایجادات کی مدد سے بڑے سے بڑا اور مشکل سے مشکل کام چند لمحوں میں پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکتا ہے، لیکن انسانوں خاص طور پر بچوں کا واٹس ایپ، انسٹاگرام، ٹوئٹر اور فیس بک اور دیگر ویب اور موبائل ایپلی کیشنز میں کھو جانا کسی بھی مہذب معاشرے اور ہماری تہذیب و تمدن سے بالکل میل نہیں کھاتا۔

آپس میں ملنا جلنا، ایک دوسرے کا خیال رکھنا اور دکھ درد میں ایک دوسرے کے کام آنا، کسی سے ہمدردی کرنا، کسی کو دلاسا دینا، کسی کے آنسو پونچھنا، ہماری تہذیب اور معاشرت کا اہم حصہ ہے۔

ان معاشرتی اچھائیوں کو نئی نسل تک پہنچانا ہماری ذمے داری بھی ہے اور فرض عین بھی۔ یہ سچ ہے کہ آج کی دنیا میں زیادہ تر لوگ سوشل میڈیا سے جڑے ہوئے ہیں۔ وطن عزیز بھی اس معاملے میں کسی دوسرے ملک اور معاشرے سے پیچھے ہرگز نہیں ہے۔

مرد، خواتین، بچے، بوڑھے، جوان امیر غریب سب اپنا اچھا خاصا وقت سوشل میڈیا میں لگا رہے ہیں، بالخصوص نوجوان نسل کے دل و دماغ پر تو سوشل میڈیا جنون کی حد تک حاوی ہو چکا ہے۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں دن بھر سوشل میڈیا سے چپکے رہنے کے باوجود رات میں بھی جب تک سوشل میڈیا پر کچھ وقت نہیں گزار لیتے، تب تک انھیں نیند ہی نہیں آتی۔

ٹک ٹاک اور ریلیز نے لوگوں کا وقت ضایع کرنے میں ریکارڈ بنا لیا ہے۔ فیس بک پر دوست بڑھتے جا رہے ہیں لیکن حقیقی زندگی میں ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بہت زیادہ متحرک حضرات حقیقی زندگی میں کسی ایسے کو ترستے ہیں جس سے حال دل کہہ سکیں، جس سے خوشی یا غم شیئر کر سکیں۔

دیکھا جائے تو سوشل میڈیا نے انسان کو اور زیادہ تنہا اور اپنی انا کا قیدی بنا دیا ہے، زندگی میں احساس کی جگہ ایموجیز نے لے لی ہے، ذات کے حصار میں بند لوگ کسی کی غم خوشی یا دیگر احساس کو لائیک اور کومنٹ کے ترازو میں تولنے لگے ہیں۔

ان باتوں سے یہ نتیجہ ہرگز نہ نکالا جائے کہ سوشل میڈیا کا استعمال غلط ہے اور ہماری نئی نسل کو اس سے دور رہنا چاہیے نہیں،اس کا مطلب یہ نہیں،بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ سوشل میڈیا کا استعمال کریں لیکن جائز حد تک۔غلط چیزوں اور فضول ایپس میں وقت گزاری نہ کریں۔

خاص طور پر والدین سوشل میڈیا سے اپنے محبت کا دم بھرنے اور اس کے فضول استعمال میں وقت صرف کرنے کے بجائے بچوں کی درست تعلیم و تربیت میں زیادہ دلچسپی لیں۔اپنے بچوں کو انٹرنیٹ سے نہ جوڑیں اور نہ ہی ان کی تفریح کے لیے کھلونے کے طور پر اسمارٹ فون کا استعمال کریں۔

والدین اپنے بچوں کو خود موبائل فون اور ٹیبلٹ کی اسکرین سے قریب کر رہے ہیں۔ بچے کھانا نہیں کھا رہے موبائل فون پکڑا دو، بچے شرارت کر رہے ہیں تو ان کے ہاتھ میں موبائل فون دے دو، اپنے کام نمٹانے ہیں،بچوں کو موبائل فون میں لگا دو۔

سوشل میڈیا جہاں اپنے آپ میں مفید ہے،وہیں حد درجہ خطرناک بھی ہے اور ہاں! یہ حقیقت بھی اکثر تجربے سے گزرتی ہے کہ بچوں کا ذہن کسی چیز سے استفادہ کرنے اور اسے مثبت پیمانے پر پرکھنے کے بجائے اس کے منفی پہلو میں اپنی دلچسپی کا اظہار کچھ زیادہ ہی کرتا ہے۔

مادہ پرستی کے اس دور میں اگر والدین ہی اپنے بچوں کی تربیت سے آنکھیں چرانے لگیں تو پھر ایسا ہونے کا قوی امکان ہے کہ بچہ قبل از وقت ہی اپنی ساری صلاحتیوں کا جنازہ نکال دے یا اس میں موجود خدا داد صلاحیتیں اس کے اندر ہی منجمد ہو جائیں اور وہ برائیوں سے ایسا ناتا جوڑ لے کہ پھر اسے راہ راست پر لانا مشکل ہو جائے۔

اس لیے تمام والدین کی یہ ذمے داری بنتی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر بیکار وقت گزاری کرنے کے بجائے زیادہ وقت اپنے بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت اور اسے ایک اچھا انسان بنانے میں لگائیں تاکہ یہ بچے اعلیٰ اخلاق و کردار کے مالک بن سکیں۔

ہمارا یہ آج کل کا زوال پذیر معاشرہ جو مکمل طور پر سوشل میڈیا کے جادو کے اثر میں آ چکا ہے، بچوں کو اس کے مضر اثرات سے بچانے کے لیے ان کے سوشل میڈیا کے استعمال پر کنٹرول وقت کی اہم ضرورت ہے۔

بچے بڑوں سے دیکھ کر سیکھتے ہیں، اس لیے والدین کو خصوصا بچوں کے سامنے موبائل فون یا سوشل میڈیا کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیے، ایسا کر کے ہی وہ اپنے بچوں اور خاندان کو مستقبل میں یک جان دو قالب رکھنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

والدین مختلف عملی اور جذباتی وجوہات کی بنا پر بچوں کو موبائل فون دیتے ہیں۔ سب سے بڑی وجہ سہولت اور حفاظت ہے۔ فون کی وجہ سے اسکول، ٹیوشن یا سفر کے دوران بچوں سے رابطہ رکھنا آسان ہو جاتا ہے۔

یہ بچوں کو مصروف اور خاموش رکھنے کا ایک فوری طریقہ بھی لگتا ہے جب والدین کھانا بنا رہے ہوں، گھر سے کام کر رہے ہوں یا گھریلو کام سنبھال رہے ہوں۔ بہت سے والدین یہ بھی سمجھتے ہیں کہ فون ’’تعلیمی‘‘ ہے کیونکہ اس پر یوٹیوب ویڈیوز، لرننگ ایپس اور آن لائن ہوم ورک میں مدد مل جاتی ہے۔

سماجی دباؤ بھی ایک وجہ ہے۔ جب بچے کے تمام دوستوں کے پاس فون ہو اور وہ کلاس کے واٹس ایپ گروپ یا آن لائن گیمز کھیل رہے ہوں تو والدین کو ڈر ہوتا ہے کہ ان کا بچہ پیچھے نہ رہ جائے۔ آخر میں، فون کو اکثر انعام کے طور پر یا بچوں کی ضد ٹالنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے،لیکن بہت زیادہ اسکرین ٹائم نیند، توجہ، نظر اور حقیقی دنیا میں ملنے جلنے کی صلاحیت پر برا اثر ڈالتا ہے۔

اسے کم کرنے کا مطلب فون مکمل طور پر چھین لینا نہیں ہے۔ اس کے لیے واضح نظام بہتر کام کرتا ہے۔کھانے، ہوم ورک اور سونے سے ایک گھنٹہ پہلے کے لیے ’’فون فری‘‘ اوقات مقرر کریں۔ اس وقت کی جگہ متبادل دیں۔ بورڈ گیمز، کتابیں پڑھنا، باہر کھیلنا یا کچن میں مدد کرنا۔

موبائل کے پیرنٹل کنٹرول اور ایپ ٹائمر استعمال کریں تاکہ یوٹیوب، گیمز اور سوشل میڈیا روزانہ چالیس سے ساٹھ منٹ تک محدود رہے۔خود مثال بنیں، اگر خود والدین گھنٹوں موبائل فون پر اسکرول کرتے رہیں گے تو بچے بھی وہی کریں گے۔

بیڈ روم سے باہر ایک جگہ فون چارج کرنے کے لیے مقرر کر دیں تاکہ بچے سونے کے وقت فون اپنے پاس نہ رکھ سکیں۔بچوں کو صرف ’’نہ‘‘ کہنے کے بجائے انھیں ’’وجہ‘‘ بھی سمجھائیں۔ جب بچوں کو پتہ ہوگا کہ کم اسکرین ٹائم سے زیادہ انرجی، بہتر نمبر اور زیادہ فیملی ٹائم ملے گا تو وہ زیادہ تعاون کریں گے۔

مقصد پابندی نہیں، زندگی میں توازن پیدا کرنا ہے۔سوشل میڈیا ایک مایا جال ہے، بہتر ہے خود بھی اس جال سے نکلیں اور اپنے بچوں کو بھی اس جال میں پھنسنے سے بچائیں۔ جو والدین اس میں کامیاب ہو گئے، وہ اپنے بچوں کو مستقبل میں ایک اچھا انسان اور معاشرے کا کار آمد شہری بنانے میں بھی کامیاب ہو جائیں گے۔

Load Next Story