چمن اُجڑ رہا ہے
ہمارا ملک پاکستان، جس کو بنانے والے ہمارے محسنوں نے ’’چمن‘‘ یعنی باغ سے تشبیہ دی ہے، پچھلے ماہ اُناسی برس کا ہوا ہے۔ 1947 میں جب پاکستان معرض وجود میں آیا تھا تب ایک آزاد مملکت حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرنے والے بانیان پاکستان نے اس کی آبیاری کے حوالے سے کئی منصوبے بنائے اور اُنھیں تکمیل تک پہنچایا۔ اُس وقت انگریزوں کی غلامی اور خود سے مختلف عقائد رکھنے والوں کی شرانگیزیوں سے آزاد ہو کر برصغیر کے مسلمان ایک وادی جنت کا تصور لے کر سرزمین پاکستان آئے تھے۔
اُس دور کے مشکل ترین حالات میں چُھپتے چُھپاتے اور دشمنوں سے اپنی جانیں بمعہ عزتیں بچاتے جب مہاجرین نومولود ریاست پاکستان پہنچے تو اپنی خوش نصیبی پر رشک کرنے لگے کہ اُن کے پروردگار نے اُنھیں آزاد ملک کی آزاد فضا میں عزت و وقار کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا موقع دیا ہے۔ ابتداء میں یہاں وسائل کا فقدان تھا مگر چین و سکون کی رتی برابر کمی نہیں تھی۔
اُس وقت ادھر آنے والوں کی تعداد زیادہ اور مکانات کی موجودگی کم تھی جس کی وجہ سے کئی خاندان ایک ہی چھت کے نیچے زندگی گزارا کرتے تھے، اُن کے مابین جذبہ یگانگت اور محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔
مہاجرین کا آپس میں کوئی خونی رشتہ یا قریبی نسبت نہ ہونے کے باوجود ساتھ سفر کرنے، ہندوستان میں محلے داری، ماضی میں ایک گاؤں سے جڑا تعلق اور کئی نسلوں سے چلی آ رہی آشنائی کے باعث سب کی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں سانجھی تصور کی جاتی تھیں۔
جب ایک سے زائد کنبے جگہ کی تنگی کی وجہ سے مکان واحد میں رہنے پر مجبور تھے تب کسی انسان کی عزت و آبرو کو دوسرے انسان سے کوئی خطرہ لاحق تھا نہ اُن کی آنکھیں حیا سے عاری تھیں۔ رشتوں میں خیانت اخلاقی جرم سمجھا جاتا تھا اور اپنی جائز حدود سے سبھی لوگ واقف تھے۔
ایسا نہیں تھا کہ اُس وقت معاشرے میں اخلاقی برائیاں موجود نہیں تھیں مگر اُن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ اگر چند افراد اپنے گھر کی چار دیواری میں کچھ غلط کرتے تھے تو اُس سے معاشرے میں کسی قسم کی خرابی پیدا ہوتی تھی نہ ہی پھیلتی یا پروان چڑھتی تھی۔
ملک کے بڑے شہروں کے چوراہوں، گلی، کوچوں یہاں تک کہ دیہاتوں، قصبوں میں بھی حوا کی بیٹی کے ساتھ ساتھ ابن آدم کی آبرو محفوظ تھی۔ پاکستان چونکہ ایک اسلامی مملکت ہے جس کے باعث اچھائی اور برائی، حلال اور حرام کا نمایاں فرق معاشرے میں واضح طور پر دکھائی دینا نہایت اہم اور ضروری ہے۔
اگر ہم پندرہ، سولہ برس قبل کی بات کریں تو تب پاکستانی معاشرہ اتنا بدنما نہیں تھا جتنا پچھلے کچھ سالوں اور خصوصاً موجودہ وقت میں ہوچکا ہے۔ ہمارے معاشرے کے حالات و معاملات اس قدر نازک دور سے گزر رہے ہیں کہ اب والدین اپنے بچے، بچیوں کی عزت کی حفاظت کے حوالے سے قریبی رشتے داروں پر بھی بھروسہ کرنے سے کترانے لگے ہیں۔
انسان کی نیتوں کا حال صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے لیکن حالیہ دور کا جائزہ لیتے ہوئے ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ ہمارا معاشرہ انسانوں کے بجائے وحشی درندوں سے بھرا پڑا ہے اور وہ اپنی درندگی سے پورے معاشرے کو تعفن زدہ بنانے کی قسم کھا بیٹھے ہیں۔
جنسی جرائم کے ہولناک واقعات روزانہ کی بنیاد پر ہمارے اطراف میں رونما ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی اور خواتین کو گھریلو تشدد، ابتدائی شادیوں اور بعض دیگر معاملات میں مفت قانونی معاونت فراہم کرنے والی تنظیم ’’ساحل‘‘ (Sahil) کے مطابق موجودہ سال 2026 کے پہلے چھ ماہ جنوری تا جون کے دوران پاکستان بھر میں بچوں سے زیادتی کے 1,914 رپورٹ شدہ کیسز سامنے آئے ہیں۔
یہ تعداد صرف جنسی زیادتی کے واقعات تک محدود نہیں ہے بلکہ بچوں کے ساتھ مختلف اقسام کی بدسلوکی اور تشدد کے واقعات بھی اس میں شامل ہیں۔اس کے علاوہ پچھلے چھ مہینوں میں ہمارے ملک میں بڑوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 280 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، رپورٹ ان واقعات کے متاثرین کی جنس کے لحاظ سے مکمل تفصیل فراہم نہیں کرتی ہے۔
تنظیم ساحل کی یہی رپورٹ بتاتی ہے کہ ان چھ ماہ میں اجتماعی جنسی زیادتی کے 79 واقعات، اغوا کے بعد جنسی زیادتی کے 100 واقعات اور جنسی زیادتی کی کوشش کے 67 واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ جن متاثرین کی عمریں معلوم تھیں، اُن میں 334 متاثرین کی عمر 21 سے 30 سال، 120 کی عمر 31 سے 40 سال اور 306 متاثرین کی عمر 11 سے 20 سال تھی۔
تاہم، 71 فیصد واقعات میں متاثرین کی عمریں رپورٹ نہیں کی گئی ہیں۔درج بالا تفصیلات پاکستان میں تشدد و زیادتی کی رپورٹ شدہ اعداد و شمار کی ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں کتنے اس طرح کے واقعات خاندان کی ناموس کو پامال ہونے سے بچانے کے لیے گھر کے کیواڑ سے باہر آنے ہی نہیں دیئے جاتے ہیں۔
نجانے کیوں دنیا والے کہتے ہیں کہ ایک دن قیامت آئے گی اور تب دنیا کا پردہ گرا دیا جائے گا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ قیامت آچکی ہے اور دنیا کا شو ٹائم ختم ہوچکا ہے۔ جو ابھی ہے وہ شیطانوں کا اکھاڑہ ہے جس میں ہر فرد اپنے اندر کی شیطانیت کو دوسرے سے زیادہ ثابت کرنے کے لیے تمام ایسے طور طریقے اختیار کر رہا ہے جس سے اُس کے انسان ہونے کی نفی ہو۔
ادھر سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے۔ یہاں ابلیس کے چیلے اپنی نظروں میں بے حیائی، نیت میں برائی اور اپنے قلب میں کسی کو رُسوا کرنے کی خواہش لیے ہمارے اردگرد دندناتے پھر رہے ہیں۔ ’’اس کو مار دیا، اُس کے جسم کو کاٹ پیٹ کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے، چند ماہ و برس کے بچے /بچیوں سے جنسی زیادتی، بڑوں کیساتھ ظلم، جبر اور جنسی زیادتی، قانون کا مذاق اُڑاتے ہوئے چھوٹی عمر کی بچیوں کے ساتھ بڑی عمر کے مردوں کی شادی اور نفسیاتی مریض شوہروں کا اپنی بیویوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دینا۔‘‘ پاکستان میں یہ سب عام ہوچکا ہے تبھی ہمارا چمن اُجڑ رہا ہے اور اتنی پستی کے بعد وہ کیسے آباد رہ سکتا تھا؟