نئی حکومت یا نیا نظام؟ پاکستان کو کیا چاہیے؟

کتاب کی اصل اہمیت شاید ان کے جوابات سے زیادہ سوال اٹھانے میں ہے

پاکستان کے سیاسی، معاشرتی اور معاشی نظام کے حوالے سے ان دنوں جو بحث ہو رہی ہے اس کے پس منظر میں حال ہی میں ایک نئی کتاب منظر عام پر آئی ہے۔ اس کتاب میں پاکستان کے گورننس ماڈل پر ایک سنجیدہ مکالمہ بھی ہے اور اس موضوع پر سیرحاصل بحث کی گئی ہے۔ کتاب کے مصنف انعام الرحمن سیہری ہیں،کتاب کا عنوان ہے۔

"SYSTEM COLLAPSED NEW CODES OF GOVERNANCE HERE"

پاکستان میں حکومتیں بدلتی رہی ہیں، وزرائے اعظم آتے جاتے رہے، پارلیمان بنتی اور تحلیل ہوتی رہیں، قوانین میں ترامیم بھی ہوتی رہیں مگر ایک بنیادی سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے: کیا ہم نے اپنے نظامِ حکمرانی کی اصلاح پر بھی کبھی غور کیا ہے؟ یہی سوال انعام آر سیہری نے اپنی نئی کتاب میں اٹھایا ہے۔

کتاب کا عنوان ہی قاری کو چونکا دیتا ہے۔ مصنف محض یہ نہیں کہتے کہ نظام میں خامیاں ہیں بلکہ ان کے نزدیک مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ وہ موجودہ انتظامی ڈھانچے، عدالتی نظام، پولیس، قانون سازی، معیشت اور سیاسی طرزعمل کو ایک ایسے بحران کا حصہ سمجھتے ہیں جس کا علاج محض حکومت یا چہرے بدلنے سے ممکن نہیں۔

انعام آر سیہری کا یہ مؤقف اختلافِ رائے کے باوجود نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کو Incremental Reforms سے آگے بڑھ کر اپنے گورننس ماڈل پر بنیادی بحث کی ضرورت ہے۔

مصنف کے نزدیک نئے نظام کی ابتدا دو شعبوں سے ہونی چاہیے: کریمنل جسٹس سسٹم اور اکانومی، ان کی دلیل ہے کہ جہاں انصاف کمزور ہو وہاں ریاست پر اعتماد ختم ہوتا ہے اور جہاں معیشت غیر یقینی کا شکار ہو وہاں ترقی کا خواب محض نعرہ بن کر رہ جاتا ہے۔

کتاب میں انصاف کو محض عدالتی معاملہ نہیں بلکہ معاشرتی استحکام، شہری اعتماد اور ریاستی نظم کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ کتاب کا ایک اہم باب پاکستان کے ان قوانین سے متعلق ہے جو برصغیر میں برطانوی دور میں نافذ ہوئے۔

مصنف خصوصاً پاکستان پینل کوڈ 1860، کریمنل پروسیجر کوڈ 1898، سول پروسیجر کوڈ 1908،پولیس ایکٹ 1861 اور پولیس رولز 1934 جیسے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا 21ویں صدی کے پاکستان کے پیچیدہ سماجی، معاشی اور تکنیکی تقاضے انیسویں اور بیسویں صدی کے ابتدائی قانونی ڈھانچے سے پورے کیے جا سکتے ہیں؟

یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک اپنے قوانین کو بدلتے ہوئے حالات کے مطابق مسلسل اپ ڈیٹ کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی قانون سازی اور اصلاحات ہوتی رہی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے قانونی اور انتظامی نظام میں وہ رفتار موجود ہے جس کی آج کے دور میں ضرورت ہے؟

انعام سیہری ’’نیوکوڈز‘‘ کی بات کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایسے قوانین جو موجودہ پاکستان کی ضروریات، ٹیکنالوجی، معیشت، جرائم کی نئی شکلوں اور شہری توقعات کو سامنے رکھ کر بنائے جائیں۔کتاب کا شاید سب سے زیادہ بحث طلب حصہ Speedy Justice کا تصور ہے۔

مصنف موجودہ عدالتی تاخیر پر سخت تنقید کرتے ہوئے بعض سنگین اور واضح جرائم کے مقدمات میں چند دنوں کے اندر فیصلہ کرنے کی تجویز دیتے ہیں۔ وہ موجودہ عدالتی نظام میں مقدمات کے انبار، کمزور تفتیش، گواہوں کے مسائل اور فرانزک سہولتوں کی کمی کو انصاف کی راہ میں بڑی رکاوٹیں قرار دیتے ہیں۔

انعام سیہری صاحب نے اپنی کتاب میں جو بنیادی سیاسی تصور پیش کیا ہے، وہ ایک نئے طرزِ حکمرانی کا ہے۔ وہ براہِ راست منتخب Chief اور صرف 12 رکنی Council کی تجویز پیش کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں اس طرح وسیع سیاسی اتحادوں، وزارتوں اور حکومتی اخراجات کے دباؤ کو کم کیا جا سکتا ہے۔

یہ تجویز بلاشبہ ایک بڑی constitutional debate کا دروازہ کھولتی ہے۔ کیا براہِ راست منتخب Chief زیادہ مؤثر Governance فراہم کر سکتا ہے؟ یا اختیارات کا ایک مرکز میں جمع ہونا کسی نئے مسئلے کو جنم دے گا؟ اس کے فیصلوں کے خلاف شہری اور ادارہ جاتی checks and balances کیا ہوں گے۔

کتاب کی اصل اہمیت شاید ان کے جوابات سے زیادہ سوال اٹھانے میں ہے۔ انعام سیہری صاحب کی کتاب پڑھتے ہوئے ایک بات مسلسل سامنے آتی ہے: مصنف Status Quo سے مطمئن نہیں۔ وہ پارلیمنٹ، بیوروکریسی، عدلیہ، پولیس اور دیگر اداروں کے کردار پر سخت سوالات اٹھاتے ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ موجودہ ڈھانچے میں طاقتور مفادات اصلاحات کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ Governance ایک Institutional Ecosystem ہے۔ اگر پارلیمان قانون بنائے مگر انتظامیہ اسے مؤثر طور پر نافذ نہ کرے، پولیس ناقص تفتیش کرے، پراسیکیوشن کمزور ہو اور عدالتیں برسوں مقدمات سنتی رہیں تو مسئلہ پورے نظام کا بن جاتا ہے۔ اسی لیے اصلاح بھی کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ Systemic Reform ہونی چاہیے۔

کتاب میں Economy کو Justice کے ساتھ اولین ترجیح قرار دیا گیا ہے۔ مصنف کا استدلال ہے کہ قانون کے عملدرآمد میں سست روی ، طویل مقدمات، تنازعات اور اداروں پر اعتماد کا فقدان معاشی سرگرمی کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ یہ ایک اہم زاویہ ہے۔ دنیا بھر میں سرمایہ کاری صرف ٹیکس کی شرح دیکھ کر نہیں آتی۔

سرمایہ کار یہ بھی دیکھتا ہے کہ اگر تنازع پیدا ہو جائے تو اسے انصاف کتنی جلدی اور کتنی غیرجانبداری سے ملے گا۔ اس اعتبار سے Rule of Law دراصل Economic Policy بھی ہے۔ اگر شہری اور سرمایہ کار دونوں کو یقین ہو کہ قانون طاقتور اور کمزور کے لیے یکساں ہے تو معیشت میں اعتماد پیدا ہوتا ہے۔

انعام آر سیہری کی کتاب ’’System Collapsed‘‘ سے ہر قاری کا اتفاق ضروری نہیں بلکہ ایک سنجیدہ قاری کو کتاب میں پیش کیے گئے کئی تصورات پر سوال بھی اٹھانے چاہئیں۔

کسی کتاب کی کامیابی کا ایک پیمانہ یہ ہے کہ وہ قاری کو سوچنے پر مجبور کرے۔ یہ کتاب نہ صرف یہ کہ ہماری توجہ بنیادی سوالات کی طرف مبذول کراتی ہے بلکہ انھیں حل کرنے کا لائحہ عمل بھی تجویز کرتی ہے اور یہ سوال بھی اٹھاتی ہے کہ کیا موجودہ Governance Structure آنے والے پاکستان کی ضروریات پوری کر سکتا ہے؟

کیا ہمیں صرف قوانین میں ترامیم کرنی چاہئیں یا نئے Codes کی ضرورت ہے؟ کیا Justice کو واقعی ریاستی ترجیحات میں سب سے اوپر لایا جا سکتا ہے؟ کیا ایک نیا Governance Model موجودہ سیاسی ڈھانچے سے بہتر طور پر عوامی مسائل حل کر سکتا ہے؟ اور سب سے بڑھ کر:

کیا پاکستان کو صرف نئی حکومتوں کی ضرورت ہے یا نئے Governance Thinking کی؟

انعام سیہری کی کتاب ان سوالات کا جواب دیتی ہے۔ قاری اس جواب سے اتفاق کرے یا اختلاف لیکن ان سوالات کو نظرانداز کرنا شاید اب آسان نہیں۔ پاکستان کا مستقبل صرف اس بات سے طے نہیں ہوگا کہ اگلی حکومت کون بناتا ہے۔

اصل امتحان یہ ہے کہ ریاست کس طرح چلائی جاتی ہے، قانون کس طرح نافذ ہوتا ہے، انصاف کس طرح ملتا ہے اور عام شہری کا ریاست پر اعتماد کس طرح بحال ہوتا ہے۔

اس پس منظر میں سہیری صاحب کی کتاب ’’System Collapsed‘‘ کو صرف ایک کتاب کے طور پر نہیں بلکہ پاکستان کے Governance Model پر ایک فکری دعوتِ مکالمہ کے طور پر پڑھا جانا چاہیے کیونکہ کسی بھی نظام کی اصلاح صرف نعروں سے نہیں ہوتی۔

اس کے لیے پہلے یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ مسئلہ کیا ہے، کہاں ہے، اور کیوں ہے؟ ان باتوں کو طے کرنے کے بعد ہی اس بات کا تعین ہوگا کہ اسے بدلنے کی قیمت کون ادا کرے گا۔

Load Next Story