سانحہ کوہاٹ

ملک کے دو اہم صوبے خیبرپختونخوا اور بلوچستان دو دہائیوں سے بدترین دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں

وطن عزیز گزشتہ تقریباً ربع صدی سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے، 9/11 کے سانحے کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کے دباؤ پر فرنٹ لائن اتحادی بننے کے بعد سے آج تک پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ ملک کے دو اہم صوبے خیبرپختونخوا اور بلوچستان دو دہائیوں سے بدترین دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں۔

دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائیوں کے ذریعے نہ صرف خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں بلکہ خودکش حملوں، بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے نہ صرف عام لوگوں بلکہ سیکیورٹی فورسز کے لوگوں کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے ذریعے نشانہ بنا رہے ہیں۔ نماز جمعہ میں کوہاٹ (خیبرپختونخوا) ضلع پشاور روڈ پر واقع پولیس لائنز کی ایک مسجد میں دہشت گرد نے خودکش حملہ کرکے نمازیوں کو نشانہ بنایا۔ دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی مسجد کی دیوار سے ٹکرائی اور ایک خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑایا، ساتھ دہشت گردوں اور سی ٹی ڈی اور پولیس اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اس دل خراش سانحے میں 21 نمازی شہید ہوگئے جن میں 15 پولیس اہلکار اور 6 عام شہری شامل تھے جب کہ فتنہ الخوارج کے 6 حملہ آور دہشت گردوں کو فورسز نے جہنم واصل کر دیا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق دہشت گردی کے اس واقع میں 103 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

صدر، وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے پی کے نے کوہاٹ سانحے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے قوم کو یقین دلایا کہ حکومت آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رکھے گی جو بلاشبہ حوصلہ افزا بات ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے کے پی کے اور بلوچستان میں پولیس اور پاک فوج فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ آپریشن کر رہی ہیں جن میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن بھی شامل ہیں۔ ان آپریشنز میں بھارتی پراکسیز اور فتنہ الخوارج کے عناصر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

 افسوس ناک امر یہ ہے کہ مذکورہ دونوں صوبوں میں پاک فوج کی جانب سے اب تک متعدد آپریشن کیے جا چکے ہیں جن میں آپریشن راہ حق، آپریشن راہ نجات، آپریشن ردالفساد، آپریشن ضرب عضب اور آپریشن راہ راست جیسے اہم آپریشن شامل ہیں۔ آپریشن کا یہ سلسلہ گزشتہ دو دہائیوں سے جاری ہے اور آج بھی دونوں صوبوں میں پاک فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز مشترکہ آپریشن کر رہی ہیں۔ اس کے باوجود دہشت گردی کے عفریت سے نجات کی راہ تلاش کرنا ’’جوئے شیر‘‘ لانے کے برابر نظر آ تا ہے۔

ملک میں جاری دہشت گردی کے خون آشام واقعات کے پس پردہ عوامل میں جہاں اندرون وطن سہولت کاروں کا عمل دخل ہے وہاں بیرونی مداخلت کاری کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ بھارت گزشتہ سال پاکستان کے خلاف جنگ میں عبرت ناک شکست کے بعد افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف پراکسی وار میں مبینہ طور پر ملوث ہے۔

بعینہ افغان طالبان کی حکومت کو پاکستان کی طرف سے اعلیٰ ترین سطح پر بارہا کہا جا چکا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ اس کے باوجود افغانستان کی طرف سے کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔ رواں ماہ کے اوائل میں بھی پاک افغان سرحد سے دراندازی کی ایک ناکام کوشش کی گئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق 36 گھنٹے طویل کارروائی کرکے فتنہ الخوارج کی اس مبینہ دہشت گردی کو ناکام بنا دیا گیا۔

ایک اخباری اطلاع کے مطابق بلوچستان میں امن وامان کے حوالے سے سیکیورٹی حکام اور میڈیا نمائندگان کے درمیان ایک خصوصی نشست ہوئی جس میں سیکیورٹی عہدیدار نے بلوچستان کے لیے ایک نئی سیاسی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ حکام کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں گولی نہیں مذاکرات سے امن آئے گا۔ مبصرین، تجزیہ نگار اور سیاستدان اور صائب الرائے کے طبقے کے عرصے سے اسی حقیقت کو اجاگر کرنے اور افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ امن کے قیام کے لیے غیر معمولی اقدامات اٹھانا ازبس ضروری ہیں۔

 پاک افغان سرحد پر پیش آنے والے ان مسلسل واقعات نے ایک بار پھر پاکستان کے اس مؤقف کی تصدیق کی ہے کہ افغان طالبان حکومت، اپنی سرپرستی میں کام کرنے والی دہشت گرد تنظیم کو سرحد پار دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے میں بری طرح ناکام رہی ہے، پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملک کی سرحدوں کے دفاع کے اپنے عزم پر ثابت قدم اور غیر متزلزل ہیں۔دہشت گردی اور تشدد کے خلاف ریاستی کارروائی ناگزیر ہے، کیونکہ کسی بھی معاشرے میں شہریوں، تنصیبات اور معاشی سرگرمیوں کو خوف کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار جس عزم کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں، ان کی قربانیاں قومی احترام کی مستحق ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، بہتر انٹیلی جنس، ادارہ جاتی اشتراک، موثر سرحدی نگرانی اور مقامی سطح پر معلوماتی نظام کو مضبوط بنانا بھی ضروری ہے۔ دہشت گردی کا مقابلہ پیشگی حکمت عملی کے ذریعے زیادہ موثر بنایا جا سکتا ہے۔ جس قدر ریاست خطرے کے پیدا ہونے سے پہلے اس کی نوعیت کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرے گی، اتنا ہی شہریوں کا نقصان کم کیا جا سکے گا۔

پاکستان کو اس بدلتی ہوئی دنیا میں صرف بحرانوں کا ردعمل دینے والا ملک نہیں بلکہ بحرانوں کی روک تھام میں حصہ لینے والی ریاست بننا ہوگا۔ اس کے لیے سفارت کاری میں تسلسل، سلامتی تعاون میں عملی پن، اقتصادی پالیسی میں دوراندیشی اور داخلی سطح پر انتہاپسندی کے خلاف جامع حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔ جنگیں میزائلوں سے شروع ہوسکتی ہیں، مگر ان کا اختتام عموماً مذاکرات کی میز پر ہی ہوتا ہے۔ دانش مندی یہی ہے کہ میز تک پہنچنے کے لیے مزید لاشوں اور تباہ شدہ شہروں کا انتظار نہ کیا جائے۔

آج کا دہشت گرد محض کسی پہاڑی غار، سرحدی پٹی یا خفیہ ٹھکانے میں نہیں بیٹھا،وہ ڈیجیٹل دنیا میں بھی موجود ہے، جہاں ایک پیغام، ایک ویڈیو یا ایک خفیہ نیٹ ورک بسا اوقات سیکڑوں میل دور بیٹھے افراد کو ایک ہی مقصد کے لیے متحرک کرسکتا ہے۔

Load Next Story