بس ٹھان لیا تو ٹھان لیا

بلوچستان کے وزیر داخلہ نے گمراہ کی گئی سولہ اور چودہ سالہ دو بچیوں کو میڈیا کے سامنے پیش کرکے ایک اور ثبوت دنیا کو دیا ہے

m_saeedarain@hotmail.com

جون میں منظور ہونے والے بجٹوں کی منظوری کے مہینے میں جہاں وفاقی، پنجاب و سندھ کی حکومتیں اپنی دو سالہ کارکردگی قوم کو جتلا رہی تھیں تو بلوچستان کے پیپلز پارٹی کی حکومت کے مطابق بلوچستان کی تاریخ کے انقلابی اور عوام دوست بجٹ، تعمیر و ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوا تھا جس میں حکومت نے اپنے وعدوں کی تکمیل سے میرٹ، شفافیت اور ڈیجیٹلائزیشن کی راہیں ہموار کیں اور جو کہا وہ کر دکھایا اور جو ٹھانا وہ کرکے دکھانے کے دعوؤں میں دہشت گردی کے خاتمے، امن و امان کے قیام اور شہریوں کے تحفظ کے اقدامات بھی شامل کیے گئے تھے اور بلوچستان کے سلسلے میں متعدد عہد کیے گئے تھے۔جن کو گزرے تین ماہ تو گزر ہی چکے ہیں ۔

دوسری جانب بلوچستان میں جاری دہشت گردی مزید بڑھی ہے جس کو وفاقیوزراء نے ایک ایس ایچ او کی مار قرار دیا تھا مگر بلوچستان کو وہ ایس ایچ او ابھی تک نہیں ملا۔ ملک کے رقبے میں سب سے بڑے، معدنیات سے مالامال، غربت، پسماندگی کے شکار اہم صوبے بلوچستان کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی کا ہے جسے کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا کیونکہ وہاں سرداروں، جاگیرداروں، سرکاری وسائل سے امیر ترین بننے والے بااثر خاندانوں کی حکومت رہی ہے جن کی ترجیح بلوچ عوام، ان کی فلاح و بہبود، پسماندگی دور کرنا اور عشروں سے جاری دہشت گردی نہیں رہی اور انھوں نے ہی بلوچستان کی حالت زار پر کبھی توجہ دی نہ کبھی عوام کا سوچا جو ان کے محکوم چلے آ رہے ہیں۔

بلوچستان میں بند نہ ہونے والی دہشت گردی پر توجہ دینے کی بجائے سیاسی اور مالی مفادات ہر حکومت کی اولین ترجیح رہی اور دکھاوے کے لیے میڈیا کے ذریعے کبھی تعلیم اور روشن مستقبل، صحت عامہ میں انقلاب، گورننس اور شفافیت، تعلیم کا وسیع فروغ، جدید انفرااسٹرکچر اور ڈیجیٹلائزیشن، صحت اور بلدیاتی سہولیات ہر دہلیز پر پہنچانے سمیت سنہرے خواب ضرور دکھائے گئے اور ماضی کی طرح موجودہ پی پی اور (ن) لیگ کی اتحادی حکومت نے امن و امان دہشت گردی کے خاتمے اور شہریوں کو تحفظ دینے کے لیے موثر اقدامات کے اب بھی اعلانات ضرور کیے مگر مجموعی اور عملی طور کچھ نہیں کیا اور کیا بھی تو مخصوص اپنے ہی علاقوں تک اقدامات محدود رکھے۔

صوبے کے دیہی علاقوں کی حالت بہت ہی بری ہے جہاں پانی، علاج کی سہولت ہے نہ اسکول۔ راستوں سے محروم دیہی علاقوں کے لوگوں کو آمد و رفت ہی کی سہولت نہیں تو وہ تعلیم اپنے بچوں کو کیسے دلائیں۔ ان کے بڑے بھی نہیں چاہتے کہ ان کے زیر اثر تعلیم حاصل کریں اور اپنا مستقبل سنوار سکیں۔ جن افراد کو جینے کے لیے باآسانی خوراک میسر ہو نہ پینے کا صاف پانی اور بیماریاں ان کا مقدر بنی ہوئی ہوں وہ سرکاری اعلانات پر کیسے یقین کریں کہ حکومت ان کی مشکلیں بھی کم اور آسان کرے گی کیونکہ ایسے اعلانات ماضی میں بھی ہوئے اور اب بھی ہو رہے ہیں اور حکومت کی ڈھائی سالہ کارکردگی میں صرف دعوے نظر آئے عملی اقدامات عام لوگوں کی بجائے مخصوص لوگوں کے لیے مختص رکھے گئے ہیں۔

بلوچ عوام زیادہ تر چھوٹے شہروں یا پس ماندہ علاقوں میں اور پختون کوئٹہ اور چند شہروں میں رہتے اور کچھ محفوظ ہیں مگر بلوچ علاقے دہشت گردی کا زیادہ نشانہ بن رہے ہیں اور انھیں ہی گمراہ کیا جا رہا ہے اور خود انھیں جانی نقصان پہنچا کر بے بنیاد ذمے داری ان اداروں پر ڈالی جا رہی ہے جو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ یوں تو آئے دن یہ دہشت گرد جنھیں بھارت، افغانستان، ٹی ٹی پی اور دیگر علیحدگی پسندوں کی حمایت حاصل ہے یہ ملک دشمن عناصر بلوچ عوام اور اپنے صوبے کی ترقی کو روک رہے ہیں اور پنجاب سے آ کر ان کے صوبوں میں کام کرنے والوں کے بھی جانی دشمن بنے ہوئے ہیں جب کہ غیر ملکی کسی حد تک دہشت گردی سے محفوظ ہیں۔

پسماندگی اور ناخواندگی میں مبتلا معصوم لوگوں کو گمراہ کرکے اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے لیے انھیں گمراہ کرکے پہلے نوجوانوں اور مردوں کو خودکش دھماکوں میں مروایا گیا اور کچھ عرصے سے بلوچ خواتین گمراہ کی جا رہی ہیں۔ مردوں اور خواتین کو گمراہ کرنے والوں نے ورغلا کر تعلیم یافتہ افراد کو بھی اپنے چنگل میں پھنسا رکھا ہے کہ جن سے بلوچستان سے باہر بھی دہشت گردی کرائی گئی۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ نے گمراہ کی گئی سولہ اور چودہ سالہ دو بچیوں کو میڈیا کے سامنے پیش کرکے ایک اور ثبوت دنیا کو دیا ہے جنھیں دہشت گردوں سے بازیاب کرایا جو ان دونوں کم عمر بچیوں کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے۔ ان دونوں بچیوں کو جھوٹے ثبوتوں سے پہلے گمراہ کیا گیا کہ ان کے شوہر اور والدین کو اداروں نے قتل کیا ہے جب کہ وہ خود انھیں قتل کرکے اداروں کے کھاتے میں ڈال چکے تھے۔ خودکش حملوں کے لیے گمراہ کرکے ملک، صوبے اور بے گناہوں کو نقصان پہنچانے کے منصوبے کی ناکامی کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ متعدد حقائق سامنے آ چکے ہیں۔

صوبائی حکومتیں اپنے مفاد کے لیے جن بڑوں کو فائدے پہنچاتی آئی ہیں ان کی بجائے پس ماندہ اور دور دراز مسائل کا شکار علاقوں کے رہنے والوں پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے جنھیں بہکانا آسان ہے ،یہی وجہ ہے کہ ملک دشمن گمراہی پھیلا کر معصوموں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں کامیاب رہے ہیں جب کہ ضرورت ہے کہ معصوم بلوچوں کو گمراہی سے بچانے کے اقدامات کو سرکاری طور پر ترجیح اور اہمیت دی جائے۔

تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات سے محروم رہنے والوں کو گمراہ کرنا آسان ہوتا ہے مگر ان پر توجہ کی بجائے بااثر افراد کو پالنے کی پالیسی ترک کرکے حکومت یہ ٹھانے کہ اس نے اکثریتی پس ماندہ علاقوں پر توجہ دے کر وہاں کے غریبوں کو گمراہی سے بچانا ہے تاکہ ملک دشمن انھیں اپنے ہتھکنڈوں سے گمراہ نہ کر سکیں جو غربت کے باعث بھی گمراہ ہو رہے ہیں انھیں گمراہی سے بچانا حکومتی ترجیح اور عزم بنانے کی ضرورت ہے۔

Load Next Story