4 سال کی بلند ترین سطح؛ پاکستانی ٹیکسٹائل برآمدات 18 ارب ڈالر پر پہنچ گئیں
پاکستانی ٹیکسٹائل برآمدات 18 ارب ڈالر پر پہنچ گئیں، جو 4 سال کی بلند ترین سطح ہے۔
پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے پہلی سالانہ ایکسپورٹ پرفارمنس رپورٹ جاری کردی، جس کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات 0.3 فیصد اضافے سے 18 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو 4 سال کی بلند ترین سطح ہے۔
تاہم مجموعی قومی برآمدات 5.9 فیصد کمی سے 30.14 ارب ڈالر رہیں، جبکہ ٹیکسٹائل شعبے کا قومی برآمدات میں حصہ تقریباً 60 فیصد ہوگیا۔
رپورٹ کے مطابق ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافہ مکمل طور پر ملبوسات اور ہوم ٹیکسٹائل میڈ اپس کی بدولت ہوا۔ چیپٹر 61 سے 63 پر مشتمل اپیرل اور ہوم ٹیکسٹائل میڈ اپس کی برآمدات 1.1 فیصد اضافے سے 14.98 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ٹیکسٹائل برآمدات کا 83.2 فیصد ہیں، جبکہ مالی سال 2021-22 میں ان کا حصہ 77 فیصد تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ خام مال اور انٹرمیڈیٹ مصنوعات کی برآمدات 3.4 فیصد کمی سے 3.03 ارب ڈالر رہ گئیں، جو 5 سال کی کم ترین سطح ہے۔ نان نِٹ اپیرل کی برآمدات 3.9 فیصد اضافے سے 4.295 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچیں، جس میں مردوں کی کاٹن ٹراؤزر کی برآمدات میں 19 فیصد جبکہ خواتین کی کاٹن ٹراؤزر کی برآمدات میں 54 فیصد اضافہ ہوا۔
ہوم ٹیکسٹائل اور میڈ اپس 5.705 ارب ڈالر کی برآمدات کے ساتھ سب سے بڑا سنگل چیپٹر رہا، تاہم اس کی شرح نمو 0.6 فیصد رہی۔ نِٹ ویئر کی برآمدات 0.7 فیصد کمی سے 4.979 ارب ڈالر رہیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹیکسٹائل مصنوعات کی بڑی منڈیوں میں یورپی یونین 7.103 ارب ڈالر کے ساتھ سب سے بڑی منزل رہی تاہم برآمدات 7.248 ارب ڈالر سے کم ہوئیں۔
امریکا کو ٹیکسٹائل برآمدات 4.853 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ برطانیہ کو برآمدات 1.730 ارب ڈالر رہیں۔ چین کو برآمدات بڑھ کر 644 ملین ڈالر جبکہ بنگلا دیش کو برآمدات تقریباً مستحکم رہتے ہوئے 620 ملین ڈالر رہیں، دونوں ممالک میں اضافہ بنیادی طور پر کاٹن یارن اور فیبرک کی بدولت ہوا۔
پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد حسن شفقت نے کہا کہ ٹیکسٹائل برآمدات میں معمولی اضافہ اس شعبے کی عالمی مسابقت برقرار رکھنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے، تاہم خام مال اور خصوصاً کپاس کی صورتحال باعث تشویش ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ سیزن میں کپاس کی پیداوار صرف 5.5 ملین بیلز رہی جو 3 دہائیوں کی کم ترین سطح ہے، جبکہ 2011-12 میں کپاس کی پیداوار 14.8 ملین بیلز کی بلند ترین سطح تک پہنچی تھی، اس فرق کو اب مستقل بنیادوں پر درآمدات کے ذریعے پورا کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جون 2026 میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات 1.27 ارب ڈالر رہیں، جو سالانہ بنیاد پر 17 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 23 فیصد کم ہیں، جس سے مالی سال 2026-27 کے آغاز میں آرڈرز کے کمزور بہاؤ کی نشاندہی ہوتی ہے۔
پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے برآمدی مسابقت بہتر بنانے کے لیے 6 شعبوں میں 11 مرحلہ وار سفارشات پیش کی ہیں۔ ان میں کارپوریٹ انکم ٹیکس کو 15 فیصد تک کم کرنا، سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس ریفنڈز کے نظام کو خودکار اور تیز بنانا، خطے میں مسابقتی توانائی نرخ اور قابل اعتماد فراہمی، فنانسنگ میں بہتری، ایس ایم ایز کے لیے قرضوں تک رسائی آسان بنانا، بالواسطہ برآمد کنندگان کو سہولت دینا، جی ایس پی پلس کی طویل مدتی تسلسل، امریکا اور برطانیہ کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں کی کوشش، مسابقتی فریٹ ریٹس، کم ترسیلی وقت اور پی این ایس سی کی استعداد میں اضافہ شامل ہیں۔
کونسل نے کپاس کے شعبے کے لیے مربوط قومی حکمت عملی کی بھی سفارش کی ہے جس میں معیاری بیج، کسانوں کی ڈیجیٹلائزیشن اور ٹریس ایبلٹی کو شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ کونسل کے مطابق یہ سفارشات مالی سال 2026-27 کے لیے اس کی پالیسی وکالت کے ایجنڈے کی بنیاد بنیں گی۔