مسجد الحرام کے خوش لحن اور پُرسوز مؤذن شیخ ابراہیم المدنی کی آخری اذان وائرل
شیخ ابراہیم المدنی کی فجر مین دی گئی زندگی کی آخری اذان وائرل ہوگئی؛ (فوٹو؛ اے آئی)
مسجد الحرام کے معروف مؤذن شیخ ابراہیم بن عادل حمزہ المدنی پیر کی صبح فجر کی اذان دینے کے فوری بعد انتقال کرگئے تھے ان کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے پورا شہر امڈ آیا۔
شیخ ابراہیم المدنی کی وفات پر مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے مذہبی امور کے انچارج شیخ عبدالرحمان السدیس نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی۔
سعودی میڈیا کے مطابق شیخ ابراہیم المدنی مسجد الحرام کے مستقل 24 مؤذنین میں شامل تھے اور فجر سمیت نمازوں کی اذان اور تکبیرات کی ادائیگی کی ذمہ داری انجام دیتے تھے۔
ان کی اذان سے وابستہ سفر بہت کم عمری میں شروع ہوا۔ 1976 میں مدینہ منورہ میں مذہبی گھرانے میں پیدا ہونے والے شیخ ابراہیم نے صرف 15 برس کی عمر میں مقامی مسجد میں اذان دینا شروع کردی تھی۔
قرآنی علوم کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انھوں نے مدینہ کی مختلف مساجد میں مؤذن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور 2008 میں مسجد المداح میں دوبارہ اذان کی ذمہ داری سنبھالی۔
حرم مکی میں مؤذن کی حیثیت سے ان کی باضابطہ تقرری 2018 میں ہوئی تھی۔ اس موقع کو وہ اپنی زندگی کا غیر معمولی اعزاز قرار دیتے تھے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ اذان مکمل کرنے کے بعد جب انھیں خانہ کعبہ کے گرد طواف کرتے لوگوں کی ویڈیو دکھائی گئی تو وہ جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور رو پڑے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ حرم میں اذان دینا اللہ کی طرف سے عطا کردہ ایسا اعزاز ہے جسے وہ اپنی ذاتی صلاحیت نہیں بلکہ رب کی عنایت سمجھتے تھے۔
شیخ ابراہیم المدنی کی وفات کے بعد ان کی اذانوں کی ریکارڈنگز اور آخری اذان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر دوبارہ گردش کرنے لگی ہیں۔
پُرسوز آواز اور خوش لحن ہونے کی وجہ سے وہ دنیا بھر میں مشہور ہیں اور ان کی اذان سُن کر نمازیوں اور سننے والوں پر رقت طاری ہوجاتی تھی۔