مشرق وسطیٰ اور پاکستان کے معاشی امتحانات
آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی کشیدگی، ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ تصادم کے خدشات، یمن سے سعودی عرب کی طرف میزائل حملے، شام میں اسرائیلی فوجی سرگرمیاں اور عالمی منڈی میں توانائی کے راستوں کی غیر یقینی صورتِ حال نے ایک ایسے بحران کو جنم دیا ہے جس کا دائرہ محض جنگ زدہ خطے تک محدود نہیں رہا۔ پاکستان کے لیے اس بحران کی اہمیت اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ یہاں جنگ کی گونج سب سے پہلے توانائی، زرمبادلہ، درآمدی لاگت، مہنگائی اور عام آدمی کے روزمرہ بجٹ میں سنائی دیتی ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ صورتِ حال میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ جنگ اور سفارت کاری بیک وقت آگے بڑھ رہے ہیں۔ ایک طرف واشنگٹن کی جانب سے بڑے فیصلے کے اشارے، خطے میں امریکی سفارتی مشنز کے حفاظتی اقدامات اور فوجی تیاریوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، دوسری طرف تہران نے مذاکرات کے لیے شرائط پیش کرنے کا عندیہ دیا ہے اور قطر دونوں فریقوں کے درمیان رابطے بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لیے نیویارک جانا بھی اسی متضاد کیفیت کی علامت ہے۔
امریکا نے ایرانی اعلیٰ حکام کو جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے ویزے دیے ہیں، اگرچہ سفری پابندیوں کے ساتھ، جب کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے امکان کے لیے بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔ یہ تضاد دراصل موجودہ بحران کی اصل تصویر ہے۔ ایک ہی وقت میں جنگ کی تیاری اور مذاکرات کی گنجائش رکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ فریقین ابھی کسی حتمی راستے پر نہیں پہنچے۔
ایران کے لیے آبنائے ہرمز محض ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ اس کی تزویراتی قوت کا اہم حصہ ہے، جب کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے اس راستے کی آزادی عالمی توانائی اور تجارت کے تسلسل سے جڑی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی محدود فوجی واقعے کے اثرات بھی کئی براعظموں تک پہنچ سکتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایران اور امریکی افواج کے درمیان ڈرونز اور سمندری سرگرمیوں کے حوالے سے واقعات نے اس حساس مقام پر غلط اندازے کے خطرے کو مزید بڑھایا ہے۔
ایسے ماحول میں کسی بھی فریق کی جانب سے ایک بڑا عسکری قدم صرف دو ملکوں کے درمیان محاذ آرائی نہیں رہے گا۔ سعودی عرب پر حوثیوں کے میزائل حملے اور یمن کے محاذ کی دوبارہ شدت اس خطرے کو نمایاں کرتی ہے۔ امریکا نے بھی خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان لڑائی تیزی سے پھیل سکتی ہے، اگر خلیج، یمن، عراق، شام اور آبنائے ہرمز کے مختلف محاذ ایک دوسرے سے جڑ گئے تو بحران کا انتظام مشکل تر ہو جائے گا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سفارت کاری کی اہمیت عسکری طاقت سے بڑھ جاتی ہے۔
قطر کی جانب سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں کی کوشش اس لیے قابلِ توجہ ہے کہ بحران کے اندر ایک ایسا راستہ ابھی موجود ہے جس کے ذریعے فریقین براہ راست یا بالواسطہ بات چیت کر سکتے ہیں، اگر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس محض تقریروں کا اجتماع بننے کے بجائے خاموش سفارتی رابطوں کا مرکز بنتا ہے تو موجودہ کشیدگی کو محدود کرنے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے، تاہم مذاکرات کی کامیابی کے لیے دھمکی اور شرط کے بجائے باہمی قابلِ قبول ضمانتوں، جنگ بندی کے قابلِ تصدیق طریقہ کار اور بحری راستوں کی سلامتی پر عملی اتفاق درکار ہوگا۔
اس بحران کا دوسرا اہم پہلو شام ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ میں شام کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی عمل کی حمایت کرتے ہوئے اسرائیلی عسکری سرگرمیوں کو شام کے عبوری استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ پاکستانی موقف میں ایک بنیادی نکتہ یہ ہے کہ برسوں کی جنگ کے بعد اگر شام ریاستی اداروں کی تعمیرِ نو، قومی اتحاد اور معاشی بحالی کی طرف بڑھ رہا ہے تو بیرونی فوجی مداخلت اس عمل کو کمزور کر سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی امور کے حکام کے مطابق لاکھوں شامی واپس اپنے علاقوں کی طرف لوٹے ہیں، لیکن اب بھی بڑی تعداد میں بے گھر افراد واپسی کے منتظر ہے۔
شام کی مثال یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ جنگ ختم ہونا اور امن قائم ہونا دو الگ مراحل ہیں۔ ایک ملک میں سیاسی انتقال اقتدار شروع ہو جائے تو بھی اداروں کی بحالی، سرحدوں کا تحفظ، معاشی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز، مہاجرین کی واپسی اور مختلف گروہوں کے درمیان سیاسی مفاہمت برسوں کا عمل ہو سکتا ہے، اگر اس دوران بیرونی طاقتیں اپنے عسکری مفادات کو ترجیح دیں تو داخلی استحکام کا عمل دوبارہ تصادم میں بدل سکتا ہے۔ پاکستان کا یہ اصرار کہ شام کی قیادت اور ملکیت شامی عوام کے پاس رہنی چاہیے، اسی اصول کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پائیدار سیاسی بندوبست بیرونی طاقتوں کے ذریعے مسلط نہیں کیا جا سکتا۔لیکن مشرق وسطیٰ کے بحران کا پاکستان کے لیے سب سے فوری اور براہِ راست اثر توانائی کے شعبے میں ہے۔ پاکستان اپنی تیل کی ضرورت کا بڑا حصہ بیرونی ذرائع سے پورا کرتا ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش، بحیرہ احمر کے راستے میں حوثیوں کا خطرہ اور سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن میں تعطل نے متبادل راستوں کی اہمیت بڑھا دی ہے۔ سعودی پائپ لائن پر حملے کے بعد یورپ کے لیے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کی اطلاعات نے بھی واضح کیا ہے کہ خطے کے ایک متبادل راستے کا متاثر ہونا دوسرے راستوں پر دباؤ بڑھا دیتا ہے۔پاکستان نے تیل کی سپلائی جاری رکھنے کے لیے عمان، فجیرہ اور دیگر ذرائع سمیت متبادل امکانات کا جائزہ لینا شروع کیا ہے۔
مسئلہ صرف تیل دستیاب ہونے کا نہیں بلکہ اسے پاکستان تک پہنچانے کا بھی ہے۔ بڑے خام تیل بردار جہازوں کے لیے پاکستانی بندرگاہوں کی گہرائی، جہاز سے جہاز منتقلی، جنگی خطرے کے بیمہ اخراجات، مال برداری کی بلند شرحیں اور زرمبادلہ کی ضرورت سب مل کر ایک پیچیدہ مسئلہ بن چکے ہیں، اگر جنگی خطرے کے باعث بیمہ اور نقل و حمل کی لاگت کئی گنا بڑھ جائے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نسبتاً مستحکم رہنے کے باوجود پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہو سکتی ہیں۔
اس پورے منظرنامے میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے بارے میں امریکی یہودی رائے عامہ کے اعدادوشمار بھی ایک قابلِ توجہ سیاسی تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ایک حالیہ سروے میں 61 فیصد امریکی یہودی جواب دہندگان نے نیتن یاہو کے بارے میں منفی رائے ظاہر کی جب کہ 34 فیصد نے مثبت رائے دی، 60 فیصد نے ان کی جگہ کسی اور قیادت کی خواہش ظاہر کی اور صرف 16 فیصد نے دوبارہ انتخاب کی حمایت کی۔ اسی سروے میں اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد میں کمی کی حمایت بھی نمایاں رہی۔ تاہم اسی جائزے میں 86 فیصد نے خود کو اسرائیل نواز قرار دیا، جس سے یہ فرق واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل کی حمایت اور موجودہ اسرائیلی حکومت کی حمایت کو ایک ہی چیز سمجھنا درست نہیں۔
یہ فرق عالمی سیاست کے لیے اہم ہے، کیونکہ کسی ریاست کے ساتھ تعلقات اور اس کی موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے بارے میں رائے الگ الگ سطحوں پر تشکیل پاتی ہے۔ امریکی معاشرے میں اسرائیلی پالیسیوں، فوجی امداد اور غزہ سمیت خطے کی جنگوں پر اختلافات کا بڑھنا واشنگٹن کی آیندہ پالیسی کے لیے داخلی سیاسی دباؤ پیدا کر سکتا ہے، لیکن اس کے نتائج کے بارے میں حتمی پیش گوئی کے بجائے یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ امریکی رائے عامہ اب مشرقِ وسطیٰ کی پالیسی کو پہلے کی طرح یکساں انداز میں نہیں دیکھ رہی۔پاکستان کے لیے اس سارے بحران کا بنیادی سبق یہی ہے کہ خطے کی طاقتوں کے درمیان توازن، سفارت کاری اور معاشی تیاری کو الگ الگ خانوں میں نہیں رکھا جا سکتا۔ پاکستان کے خلیجی ممالک سے قریبی تعلقات، ایران کے ساتھ جغرافیائی قربت، عالمی توانائی منڈی سے وابستگی اور اپنی محدود معاشی گنجائش اسے کسی بھی بڑے علاقائی بحران سے براہِ راست متاثر کرتی ہے۔ اس لیے پاکستان کے لیے حکمت عملی یہی ہوگی کہ وہ کشیدگی کم کرنے والی سفارت کاری کی حمایت کرے، تمام متعلقہ فریقوں سے رابطے برقرار رکھے اور ساتھ ہی اپنی توانائی سلامتی کو مستقل بنیادوں پر مضبوط بنائے۔
آج ضرورت کسی ایک فریق کے حق یا مخالفت میں جذباتی صف بندی سے زیادہ اس حقیقت کو سمجھنے کی ہے کہ جنگ کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام معاشروں پر پڑتا ہے۔ میز پر موجود سفارتی نقشے چند لمحوں میں بدلے جا سکتے ہیں، مگر بند فیکٹری، مہنگی نقل و حمل، کم ہوتی قوتِ خرید اور بے گھر ہونے والے خاندان برسوں تک بحران کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کو ایک اور وسیع جنگ سے بچانے کا راستہ طاقت کے مظاہرے سے زیادہ قابلِ عمل سفارت کاری، باہمی ضمانتوں، خودمختاری کے احترام اور محفوظ تجارتی راستوں سے نکل سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز میں ایک جہاز کی حرکت دنیا کی معیشت کو متاثر کر سکتی ہے، اس لیے آج اصل دانش مندی یہی ہے کہ جنگ کے اگلے قدم سے پہلے مذاکرات کا اگلا دروازہ کھولا جائے۔